بابری مسجدمعاملہ :سیاسی لیڈروں کے بیانات سخت قابلِ مذمت،مسلم پرسنل لاء بورڈنے حتمی سماعت کے لیے موجودہ حالات کونامناسب قراردیا 

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 6th December 2017, 10:02 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 06؍دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)آل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈکے جنرل سکریٹری مولانامحمدولی رحمانی نے اپنے صحافتی بیان میں کہاہے کہ بابری مسجد کے تنازعات سے متعلق معاملہ گذشتہ کل معززسپریم کورٹ نے سماعت کی تھی۔انہوں نے کہاکہ دلائل کی پیشی کے دوران مسلمانوں کی طرف سے نمائندگی کرتے ہوئے مؤکل کی جانب سے ان کی ہدایتوں پرایک موقف لیاگیاتھا،یہ بتاتے ہوئے کہ یہ حتمی سماعت کرنے کاصحیح وقت نہیں تھا۔ ہم ایک نمائندہ تنظیم کی حیثیت سے اس بات کے صحیح ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔اس معاملہ کی حساسیت اور میڈیا کی رپورٹوں کو دیکھتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈاپناموقف واضح کررہاہے۔بورڈاس بات کو بھی واضح کرنا چاہتا ہے کہ الگ الگ لیڈروں نے جو رام مندر کی تعمیر اور اسکی تاریخ کے بارے میں بیانات دیئے ہیں وہ ایک افسوسناک پہلو ہے اور بورڈ ان باتوں کی مذمت کرتا ہے کیونکہ یہ معاملہ ابھی عدالت عظمی میں زیر کارروائی ہے۔بورڈ کی یہ توقع ہے کہ سیاسی جماعتیں کل کی عدالتی کارروائی کے بارے میں اس طرح کے بیانات نہیں دیں گی جیساکہ کل سے سننے میں آرہاہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی کوپاکستان جیسے بیانات دینے پربہارمیں نقصان ہوچکاہے:اسدالدین اویسی

حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ و صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین بیرسڑاسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ گجرات کے انتخابی جلسوں میں جس طرح کی زبان وزیراعظم نریندر مودی استعمال کر رہے ہیں، اس پر ان کو کوئی تعجب نہیں ہوا ہے۔

’’بھگوا غنڈہ گردی ملک کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ‘‘: آل انڈیا امامس کونسل

ہندوتواوادی اور فسطائی غنڈے نے پھر سے ملک کو شرمسار کر دیا۔ ایک نہتے اور بے قصور مزدور افراز الاسلام کو مزدوری دینے کے بہانے بلاکر پھاوڑے سے قتل کر دینا اور پھر پٹرول چھڑک کر آگ لگا کر جلا دینا ملک کے لیے ایک انتہائی شرمناک معاملہ ہے۔