اردو کا تحفظ کیوں اور کیسے کیا جائے؟ ادبی و دینی سرمایہ کی بقا کے لیے نئی نسلوں کو اردو سکھانا ضروری ........ آز: عبدالغفارصدیقی

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 8th November 2023, 1:38 AM | اسپیشل رپورٹس |

ہمارے ملک پر کم و بیش ایک ہزار سال مسلمانوں کی حکومت رہی،اس کے بعد ڈیڑھ سو سال انگریز حکمراں رہے۔اس پوری مدت میں سرکاری زبان غیر ہندی رہی،مسلمانوں کے دور میں فارسی کو سرکاری زبان کی حیثیت حاصل تھی،برٹش دور حکومت میں حکمرانوں کی زبان اگرچہ انگریزی تھی لیکن دفتری زبان فارسی اور اردو ہی تھی۔ہندی کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔نہ چوراہوں کے نام ہندی میں تھے،نہ دوکانوں کے بورڈ ہندی میں تھے۔ہندی اخبارات بھی نہ تھے،ہندی کا پہلا اخبار آنند مارگ 1826میں شائع ہوا۔جس کی بہت کم پذیرائی ہوئی۔اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ آزادی کے بعد جیسے ہی 14ستمبر 1949کو ہندی کو راج بھاشا کا درجہ دے دیا گیا۔ محض دس سے بیس سال میں اس زبان نے شمالی ہند پر اپنی گرفت مضبوط کرلی۔آج جب کے آزادی کو محض 76سال گزرے ہیں،یہ زبان ہمارے مسجدوں اور مدرسوں میں داخل ہوگئی ہے،ہمارے شادی کارڈ ہندی میں طبع ہونے لگے ہیں۔آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ جس زبان کا جنم اردو کے بعد ہوا،وہ اتنی کم مدت میں کس طرح ہمارے حواس پر چھا گئی۔بعض محققین نے اس کا سبب یہ بیان کیا ہے کہ غیر مسلموں کے اعلیٰ طبقہ نے اپنے گھروں کی بول چال میں ہندی کو قائم و باقی رکھا تھا۔یعنی ہندی کے حامی اور ہندی بھاشی افراد جب کوئی سرکاری کام ہوتا تو اردو یا فارسی میں کرتے،اور جب ان کا ذاتی کام کاج ہوتا تو اس میں ہندی کا استعمال کرتے،انھوں نے اپنے گھروں میں اردو کو داخل نہیں ہونے دیا۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ اردو زبان کے بہت سے ادیب اور شعراء غیر مسلم ہوئے ہیں تو وہ کس طرح ہوئے۔میں صرف یہ عرض کررہا ہوں کہ برادران وطن نے اپنے زمانے کی سرکاری یا حکمرانوں کی زبان کو اختیار کیا لیکن اپنی زبان کو بھی اپنے گھروں اور اپنے دھرم کرم کانڈوں میں قائم اور باقی رکھا۔جس کی وجہ سے آزادی کے ساتھ ساتھ ہندی کے احیاء کی تحریکیں سرگرم رہیں۔ان تحریکوں کی بدولت اردو اور ہندی میں عداوت کا تعلق پیدا ہوگیا،یہ دشمنی اور نفرت اس قدر بڑھی کہ آزادی کے بعد ایک ملک میں اردو کو اور دوسرے ملک میں ہندی کو راج بھاشا قرار دیا گیا۔چونکہ براردران وطن کے گھر میں ہندی باقی تھی،اس لیے جیسے ہی اسے حکومت کی سرپرستی حاصل ہوئی وہ گھر سے نکل کر سڑک پر آگئی۔اس بحث کا خلاصہ یہ نکلا کہ جو زبان گھروں میں بولی اور سمجھی جاتی ہے وہ باقی رہتی ہے،اسے مٹانے کی کوششیں ناکام ہوجاتی ہیں۔ہمارا حال اس سے مختلف ہوگیا۔ہماری حکومت کیا گئی سب کچھ رخصت ہوگیا۔جب تک اردو کو سرکاری حمایت حاصل رہی وہ باقی رہی اور جیسے ہی یہ سرپرستی ختم ہوئی اردو کا جنازہ بھی نکل گیا۔آج شمالی ہند میں مسلمان کثرت سے ہندی بولتے ہیں اور جیسا کہ میں نے عرض کیا مساجد میں اوقات نماز تک ہندی میں نظر آتے ہیں۔نئی نسل میں اردو کی شرح خواندگی اعشاریہ ایک فیصد بھی نہیں ہے۔
سوال کیا جاتا ہے کہ اردو کیوں پڑھی جائے؟اردو کی حفاظت کیوں کی جائے؟کیا یہ مسلمانوں کی مذہبی زبان ہے کہ اس کا تحفظ ایمان کا حصہ ہے۔؟ اس طرح کے سوالات بعض ذہنوں میں پیدا ہوتے ہیں۔بعض لوگ مزید یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ مسلمانوں نے جب سے اس کے تحفظ کا بیڑہ اٹھایا ہے اردو کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔مسلمانوں کے اردو پریم نے ہندؤں کے دل میں اردو سے نفرت پیدا کردی ہے۔یہ باتیں لاعلمی اور کوتاہ نظری کا نتیجہ ہیں۔اردو کی مخالفت جذبہ رقابت میں شروع نہیں ہوئی کہ مسلمان اردو سے محبت کرنے لگے اس لیے دوسرے لوگ اس سے نفرت کرنے لگے،بلکہ پہلے اردو کی مخالفت ہوئی،ہندوؤں کے احیاء کے لیے برپا ہونے والی تحریکوں نے اردو کے بجائے ہندی کو فروغ دیا۔اردو کو مسلم حکمرانوں کی زبان قرار دے کر غلامی کی نشانی بتایا۔اس میں انگریزوں کی سازشی ذہنیت نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔یہ ایک پوری تاریخ ہے جس کا مطالعہ کرنا چاہئے۔

اردو زبان کسی پیغمبر کی زبان نہیں ہے۔نہ کسی مذہبی کتاب کی زبان ہے۔نہ ہی اللہ اور اس کے رسول ؐنے اس کی تعلیم یا حفاظت کا حکم دیا ہے۔لیکن ہندوستان میں مسلمانوں کا ادبی و دینی سرمایہ فارسی یا اردو میں ہے۔اگر کسی طالب علم کو اسلام اوربھارتی مسلمانوں کے متعلق معلومات چاہئیں تو اسے لازماً ان دونوں زبانوں کو پڑھنا ہوگا۔انیسویں کے آخر اور بیسویں صدی میں فارسی کے بجائے اردو کو قبول عام حاصل ہوا اور بیسویں صدی میں نوے فیصد تحریریں اردو میں شائع ہوئیں اور بہت سی فارسی و عربی کتب کا اردو میں ترجمہ کیا گیا اس لیے اپنی تاریخ سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے اردو کی تعلیم ضروری ہے۔اب اپنے تاریخی ورثے کی حفاظت کے دو راستے ہیں ایک یہ کہ سارا سرمایہ ہندی میں منتقل کردیا جائے اور دوسرا راستہ یہ ہے کہ نئی نسل کو اردو پڑھائی جائے۔میری رائے ہے کہ دوسرا کام نسبتاً ّآسان ہے۔اس لیے کہ تمام کتابوں کا ترجمہ ممکن نہیں ہے۔ہندی زبان میں اتنی وسعت نہیں ہے کہ وہ اردو الفاظ کے مفاہیم اور تلفظ کے حق کو ادا کرسکے۔اگرہم محض رسم الخط بدل دیں تب بھی افہام و تفہیم اور تلفظ کا مسئلہ باقی رہ جائے گا۔پھر شعری سرمایہ کا ترجمہ ناممکنات میں سے ہے۔البتہ بعض کتابوں کا ترجمہ بھی کیا جائے تاکہ برادران وطن بھی ان سے استفادہ کرسکیں۔

عام طور پر مسلمانوں کا ذہن یہ بناہوا ہے کہ خود کچھ نہ کریں،کوئی قدم نہ اٹھائیں،کوئی تکلیف برداشت نہ کریں،کسی ایثار کا مظاہرہ نہ کریں اور سارا کام ہوجائے،وہ جب خدا کے سامنے دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں تو سارے کام اسی سے کرانے کی بات کرتے ہیں،یہ ایک دوسرے کو منافق و زندیق کے فتوے دیں اور اللہ ان میں اتحاد پیدا کردے،یہ اسپتال نہ کھولیں اور ان کے مریض شفا پاجائیں،یہ مدرسہ کا منہ نہ دیکھیں اور ان کے بچے عالم بن جائیں،یہ کاروبار نہ کریں اور ان کی غربت دور ہوجائے۔خدا کے بعد سرکار سے امید لگاتے ہیں کہ وہ اردو کا تحفظ کرے،وہ مساجد کو آباد کرے او روہی پرسنل لاء کی حفاظت کرے۔اگر ان دونوں سے مایوسی ہوتو پھر مسلم مذہبی،دینی اور ملی تنظیموں کو ہدف تنقید بناتے ہیں،اب بے چاروں کو یہ معلوم نہیں کہ یہ تنظیمیں تو خود عوام کے رحم وکرم پر ہیں اور ان کے چندے سے زندہ ہیں ۔ یہ نشستن،گفتن اور خوردن کے سوا کچھ نہیں کرتیں۔

میرے عزیزو!خدا کا کام ہمارا ساتھ دینا ہے۔اگر ہم ایک قدم چلیں گے تو وہ دس قدم آئے گا۔مگر یہ ممکن نہیں کہ ہم چلیں ہی نہ اور اس کی مدد ہمارے شامل حال ہو۔حکومتیں اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کے لیے سب کام کرتی ہیں اور اس وقت مسلمان سیاسی اعتبار سے بے وزن ہیں،اوپر سے اقتدار بھی اس گروہ کے ہاتھ میں ہے جس کو مسلمانوں کی ہر چیز سے نفرت ہے،جب ہمارا ووٹ لینے والوں نے ہی اردو کو بچانے کا کام نہیں کیا تو مٹانے والوں سے کیوں کر امید کی جاسکتی ہے۔ہماری بیشتر تنظیمیں اپنے مقصد قیام کے حصول میں ناکام رہی ہیں۔ اب تو وہ محض چند افراد کا ذریعہ معاش بن کر رہ گئی ہیں الا ماشاء اللہ۔

اردو کی بقا کے لیے ہر شخص کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ائمہ مساجد کو اپنے خطبوں میں اس کی اہمیت اجاگر کرنا چاہئے۔مساجد میں اردو تعلیم کے مراکز قائم کیے جانے چاہئے۔اگر سو دوسو روپے ماہانہ خرچ کرکے اردو کی تعلیم حاصل کی جاسکتی ہو تو برا کیا ہے۔ایک سال یومیہ ایک گھنٹہ صرف کرنے سے اچھی خاصی اردو سیکھی جاسکتی ہے۔اپنے گھروں میں اردو پڑھنے والا موجود ہو تو وہ باقی افراد کو اردو پڑھائے،بلکہ دوچار پڑوسیوں کو بھی پڑھائے۔مگر آج ہماری خواتین اور بہنوں کو سوشل میڈیا اور پاکستانی ڈرامے دیکھنے سے فرصت نہیں ہے،بھلا اردو پڑھنے پڑھانے کے لیے وقت کہاں سے لائیں۔پرانے وقتوں میں شاہنامہ اسلام، داستان یوسف،نیک بی بی کا قصہ،وغیرہ کتابیں گھروں میں پڑھی جاتی تھیں،جس سے بچوں میں بھی  اردو کا شوق پیدا ہوتا تھا۔اردو رسائل وا خبارات خرید کرلائے جائیں۔ اس وقت سب سے زیادہ برا حال انہی بے چاروں کا ہے۔اردو اخبار نکالنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔سرکار سے بھی تعاون نہیں ملتا،مسلمان تاجر بھی اشتہارات نہیں دیتے۔اپنی دوکانوں کے سائن بورڈ اردو میں بھی لگائے جائیں۔اپنے گھروں کی تختیاں اردو میں لگائی جائیں۔مسلمان جو اسکول چلارہے ہیں اس میں اردو کی تدریس پر خاص توجہ دی جائے۔جہاں مسلمان بچے زیر تعلیم ہیں ان کے ذمہ داران سے مل کر اردو مضمون کی تدریس کو لازمی کیا جائے۔سرکاری اسکولوں میں اردو اساتذہ کو چاہئے کہ اردو پڑھائیں،معلوم ہوا ہے کہ یوپی میں بیشتر اساتذہ سے دوسرا مضمون پڑھوایا جارہا ہے۔سرکار کے محکمہ تعلیم سے مراسلت کرکے اسکولوں میں اردو کے مزید اساتذہ کی تقرری اوراردو نصاب تعلیم کی فراہمی کی کوششیں کی جائیں۔شعرو ادب کی مجلسیں منعقد کی جائیں اور ان میں نئی نسلوں میں تخلیقی جوہر پیدا کرنے کے لیے تربیت کی جائے۔ابھی اردو بولنے والوں کی اکثریت ہے،ابھی اردو لکھنے والے بھی موجود ہیں،اردو شعرا ء بھی ہر قابل ذکر شہر میں پائے جاتے ہیں۔واعظین و مدرسین کی بھی ایک بڑی تعداد میسر ہے۔ابھی اردو کے تن مردہ میں جان ڈالی جاسکتی ہے۔شرط یہ ہے کہ ہم اردو کو سیکھنے،سکھانے کے لیے اپنی حد تک ممکنہ سعی و جہد کریں۔اس کو بولنے میں فخر محسوس کریں۔مولانا ابوالکلام آزاد ؒ کے بارے میں ایک واقعہ مشہور ہے کہ وہ جب انگریزوں سے ڈائیلاگ کرنے جاتے تو اپنے ساتھ ترجمان رکھتے۔ایک بار وائسرائے کے ساتھ میٹنگ تھی،مولانا کے ساتھ ترجمان تھا،اس نے ایک جگہ مولانا کی بات کا ترجمہ غلط کیا تو مولانا نے اس کی اصلاح کی۔جب میٹنگ ختم ہوگئی تو وائسرائے نے کہا:”مولانا جب آپ اچھی انگلش جانتے ہیں تو ترجمان کی کیا ضرورت ہے؟“ مولانا نے بڑے پتے کی بات کہی:”آپ سات سمندر پار سے آکر اپنی زبان نہیں چھوڑ سکتے تو ہم یہیں رہ کر کیوں چھوڑدیں؟۔“
 
(یہ مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں، اس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے)

ایک نظر اس پر بھی

کیا وزیر اعظم سے ہم تیسری میعاد میں خیر کی اُمید رکھ سکتے ہیں؟ ........... از : ناظم الدین فاروقی

18ویں لوک سبھا الیکشن 24 کے نتائج پر ملک کی ڈیڑھ بلین آبادی اور ساری دنیا کی ازبان و چشم لگی تھیں ۔4 جون کے نتائج حکمران اتحاد اور اپوزیشن INDIA کے لئے امید افزاں رہے ۔ کانگریس اور اس کے اتحادی جماعتوں نے اس انتخابات میں یہ ثابت کر دیا کہ اس ملک میں بادشاہ گر جمہورہیں عوام کی فکر و ...

کاروار: بی جے پی کے کاگیری نے لہرایا شاندار جیت کا پرچم - کانگریس کی گارنٹیوں کے باوجود ووٹرس نے چھوڑا ہاتھ کا ساتھ  

اتر کنڑا سیٹ پر لوک سبھا انتخاب میں بی جے پی امیدورا وشویشورا ہیگڑے کاگیری کی شاندار جیت یہ بتاتی ہے کہ ان کی پارٹی کے سیٹنگ ایم پی اننت کمار اور سیٹنگ رکن اسمبلی شیو رام ہیبار کی بے رخی دکھانے اور انتخابی تشہیر میں کسی قسم کی دلچسپی نہ لینے کے باوجود یہاں ووٹروں کے ایک بڑے حصے ...

کون بنے گا 'کنگ' اور کون بنے گا ' کنگ میکر'؟! - لوک سبھا کے نتائج کے بعد سب کی نظریں ٹک گئیں نتیش اور نائیڈّو پر

لوک سبھا کے اعلان شدہ انتخابی نتائج نے منگل کو یہ ثابت کر دیا کہ پوسٹ پول سروے ہمیشہ درست نہیں ہوتے  کیونکہ این ڈی اے اتحاد کی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے بارے میں جو توقعات بنی یا بنائی گئی تھیں وہ پوری طرح  خاک میں مل گئیں۔

بھٹکل میں حل نہیں ہو رہا ہے برساتی پانی کی نکاسی کا مسئلہ - نالیوں کی صفائی پر خرچ ہو رہے ہیں لاکھوں روپئے

برسات کا موسم سر پر کھڑا ہے اور بھٹکل میں ہر سال کی طرح امسال بھی برساتی پانی کی نکاسی کے لئے سڑک کنارے بنائی گئی نالیاں مٹی، پتھر اور کچرے سے بھری پڑی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ مانسون سے قبل برسنے والی ایک دن کی بارش میں پانی نالیوں کے بجائے سڑکوں پر بہنے اور گھروں میں گھسنے ...

بھٹکل میں چل رہی بجلی کی آنکھ مچولی سے  کب ملے گا صارفین کو چھٹکارہ ؟

برسہا برس سے بھٹکل کے عوام کو بجلی کی آنکھ مچولی راحت دلانے کے اقدامات کا اطمینان بخش نتیجہ اب تک نہیں نکلا ہے ۔ عام دنوں کے علاوہ برسات کا موسم میں ذرا سی ہوا اور بارش کے ساتھ  بجلی کا غائب ہونا، کبھی کم اور کبھی تیز بجلی کی سپلائی کی وجہ سے گھروں کے ساز و سامان کا نقصان یہاں کی ...

بھٹکل جالی پٹن پنچایت کی ادھوری عمارت - ضائع ہو رہے ہیں کروڑوں روپئے

تقریباً 9 سال پہلے بھٹکل   جالی گرام پنچایت  کا درجہ بڑھاتے ہوئے اُسے  پٹن پنچایت میں تبدیل کیا گیا تھا مگر آج تک پٹن پنچایت کے دفتر کی عمارت تعمیری مرحلے میں ادھوری پڑی ہے اور اس پر خرچ ہوئے ایک کروڑ روپے ضائع ہوتے نظر آ رہے ہیں ۔