بیدر میں گرلزاسلامک آرگنائزیشن کی جانب سے یومِ اُردو کا انعقاد؛ ”ایک قدم...اُُردو کی بقاء ترقی و ترویج کیلئے“

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 17th November 2019, 11:09 PM | ریاستی خبریں |

بیدر۔17/نومبر۔(محمدامین نواز/ایس او نیوز)گرلز اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا کرناٹک (بیدریونٹ) کی جانب سے یومِ اُردو بعنوان ”ایک قدم...اُردو کی بقا ء ترقی و ترویج کیلئے“کا انعقاد بیدر میں منعقد ہوا  جس میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ ڈاکٹر سرورعرفانہ سی آر پی بھا لکی محکمہ تعلیمات عامہ بیدر نے کہا کہ اُردو جنوبی ایشیاء کی ایک اہم اور بڑی زبان ہے۔برصغیر ہند کی آزادی کے بعد سے اس زبان کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔انھوں نے کہا کہ انسان کا شاید سب سے بڑا تخلیقی کارنامہ زبان ہے۔ ہم دراصل زبان کے ذریعے اپنی ہستی کا اور اس رشتے کا اقرار کرتے ہیں جو انسان نے کائنات اور دوسرے انسانوں سے قائم کر رکھے ہیں۔انسان کی ترقی کا راز بھی بہت کچھ زبان میں پوشیدہ ہے کیونکہ علم کی قوت کا سہارا زبان ہی ہے۔اُردو زبان کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ہندی‘فارسی‘اور عربی کی تمام آوازیں موجود ہیں۔اُردو کے حروف بجا ان تینوں زبانوں کے حروف بجا سے مل کر بنے ہیں تیسری خصوصیت یہ ہے کہ اس زبان میں دوسری زبانوں کے لفظوں اور محاروں کو اپنانے کی بڑی صلاحیت ہے۔ چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ اُردو کا رسم الخط ابتداء سے  فارسی ہے۔انھوں نے اُردو کی ترقی کے ضمن میں طائرانہ احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ اُردو زبان کی ترویج و ترقی میں  چھاپے خانوں اور اخباروں‘رسالوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ اُردو کے چھاپے خانے پہلے کلکتہ میں قائم ہوئے۔اس کے بعد ایک پریس 1831ء میں کانپور میں اور دوسرا لکھنؤ میں 1837ء میں کھلا۔ رفتہ رفتہ دہلی‘ممبئی‘ حیدرآباد غرض ملک کے سب بڑے شہروں میں چھاپے خانے کھل گئے اور اُردو کی کتابیں کثرت سے شائع ہونے لگیں۔

انھوں نے کہا کہ اہلِ وطن نے انگریزوں سے صحافت کا فن سیکھا‘چنانچہ دہلی‘ کلکتہ‘ لکھنؤ اور دیگر شہروں وغیرہ سے اخبارات جاری ہوئے۔اخبارات کی وجہ سے زبان ایک طرح کی یکسانیت اور ہم آہمگی آگئی اور مقامی بولیوں کا فرق کم ہوگیا۔محترمہ ڈاکٹر عرفانہ سرور نے کہا کہ اُردو کی ترقی میں اہم اور بڑا ذریعہ اُردو صحافت ہے۔ آج اُردو میں ہندوستان سے سینکڑوں کی تعداد میں اخبارات و رسائل نکلتے ہیں جن کو یہاں شمار نہیں کرایا جاسکتا ہے‘ لیکن جب اُردو کا غیر پیشہ ور طبقہ اُردو کی زبوں حالی کا رونا رونے لگا اور قارئین  کی گھٹتی ہوئی تعداد کا شکوہ کرنے لگا تو ایسے حالات میں کارپوریٹ سیکٹر کو اندازہ ہوا کہ اُردو زبان کا بہت بڑا اسکوپ ہے اور اُردو زبان کے قارئین کی ایک کثیر تعداد موجود ہے جہاں کاروبار ہوسکتا ہے۔چنانچہ اپنے بزنس کی ترویج اور اُردو کی سرپرستی کیلئے یہ طبقہ آگے آیا اور بہت سے اخبارات جو مالی بحران کی وجہ سے بند ہونے کی کگار پر پہنچ گئے تھے انھیں کارپوریٹس نے سہارا دیا۔ چنانچہ اسوقت ہندوستان کے کئی بڑے اخبار ات کارپوریٹس کی ملکیت میں ہیں۔اس کا فائدہ یہ بھی ہوا کہ اُردو اور اُردو والوں کے معاشی حالات کسی حد تک سدھر گئے۔سرکاری طورپر اُردو مدارس کا آغاز ہوا تو اساتذہ کے تقررات ہونے لگے اور اُردو ذریعہ تعلیم سے آج دنیا کے کونے کونے میں کئی افراد برسرِ روزگار ہیں۔انھوں نے آخر میں کہا کہ اُردو زبان ترقی کی راہ پر گامزن ہے بس محبانِ اُردو اُردو کے تئیں اپنا حق ادا کریں۔

مذکورہ بالا پروگرام کی کنوینئر بہن سعدیہ سبین اسی سی ایٹ جی آئی او تھیں‘پروگرام کا آغاز بہن عاقلہ ابو بکر اسو سی ایٹ جی آئی او کی قراء تِ کلام پاک سے ہوا۔افتتاحی کلمات بہن صفورہ فاطمہ اسو سی ایٹ جی آئی او نے ادا کئے۔بہن حنا کوثر اپلیکنٹ رکن جی آئی او نے ترانہ پیش کیا۔جبکہ بہن ڈاکٹر ذوالنورین ڈی. او.جی.آئی.او بیدر ڈسٹرکٹ نے بعنوان ”تعلیم کا مقصد معاشرہ کی تشکیل“پر خطاب کیا۔پروگرام میںمحترمہ صبیحہ خانم صاحبہ نا/مہ شعبہ خواتین بیدر نے اختتامی خطاب کیا۔ جبکہ بہن سعدیہ سبین اسو سی ایٹ جی آئی او بیدر نے تشکراتی کلمات پیش کئے۔پروگرام میں خواتین و طالبات کی کثیر تعدا دنے شرکت کی۔

ایک نظر اس پر بھی

کورونامتاثرین کے ساتھ ناانصافی ناقابل برداشت، خاطیوں کوسزادینے حقوق انسانی کمیشن آگے آئے:ایچ کے پاٹل

کانگریس کے سینئرقائداورسابق ریاستی وزیرایچ کے پاٹل نے آج حکومت پر سخت برہمی ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ کوروناوائرس کے پھیلاؤ سے عوام بری طرح متاثرہوئے ہیں،نہایت مشکل حالات سے دوچارعوام کے لیے مناسب علاج ومعالجہ کا نظم نہیں،یہاں تک کہ اچھے اسپتال دستیاب نہیں۔

گریجویٹ،پوسٹ گریجویٹ اورڈپلولہ کے سال آخرکے طلبہ کاامتحان ستمبرمیں ہوگا:اشوتھ نارائن

مہاماری کوروناوائرس کے پیش نظرطلبہ کومفادات کی حفاظت کی خاطرریاستی حکومت نے ایک اہم فیصلہ کیاہے۔ریاستی وزیربرائے اعلیٰ تعلیم ونائب وزیراعلیٰ ڈاکٹراشوتھ نارائن نے آج کہا کہ تعلیمی سال 2019-2020ء کے انجینئرنگ،گریجویٹ اورپوسٹ گریجویٹ سمیت ڈپلومہ میں زیرتعلیم انٹرمیڈیٹ سمسٹرکے ...

غیر کورونا مریضوں کی اموات کورونا متاثرین کے مقابل 10گنا زیادہ، ہنگامی حالات میں ان کا علاج کرنے اسپتالوں کو ہدایت دی جائے: وزیر اعلیٰ سے ضمیر احمد خان کا مطالبہ

شہر بنگلورو میں کورونا وائرس کے معاملات میں بے تحاشہ اضافہ اپنی جگہ، دوسری طرف ایسے افراد کی اموات میں بھی مسلسل اضافہ ہو تا جا رہا ہے جو کورونا وائرس میں مبتلا نہیں مگر دیگر بیماریوں میں مبتلا ہیں اور علاج میسر نہ رہنے کے سبب ان میں سے بڑی تعداد میں لوگوں کی موت واقع ہو تی جا ...

کوروناسے بنگلورمیں 29سمیت ریاست بھرمیں 57؍اموات، 24گھنٹوں کے دوران کرناٹک میں 2313نئے پازیٹیوکیس، ایک ہی دن 1004ڈسچارج

عالمی وباکوروناوائرس کا قہرہنوزجاری ہے، ریاست میں ایک ہی دن کوروناوائرس کے 2313کیس درج ہوئے ہیں۔گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران کووِڈ۔19کی زدمیں آکربنگلورمیں 29سمیت ریاست بھر میں 57افرالقمہ اجل بن گئے ہیں۔