کوویڈ۔ 19 : کمس اسپتال ہبلی میں ریاست کا پہلا پلازمہ تھیراپی تجربہ کامیاب ؛ بنگلور میں تجربہ ناکام ہونے کے بعد ہبلی ڈاکٹروں کو ملی زبردست کامیابی

Source: S.O. News Service | By INS India | Published on 4th June 2020, 2:32 PM | ریاستی خبریں |

ہبلی4 / جون (ایس او نیوز)   کرناٹکا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (کمس)  ہبلی کے ڈاکٹرس  کوویڈ۔19 کے ایک 64 سالہ مریض کو  پلازمہ تھیراپی کے ذریعے  علاج کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔  اس بات کی اطلاع ریاست کے  میڈیکل ایجوکیشن منسٹر کے سدھاکر نے منگل کو دی ہے۔

ریاست کرناٹک میں یہ پلازمہ تھیراپی کے ذریعہ ہونے والا پہلا کامیاب علاج ہے۔اس سے قبل  22 / اپریل کو انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ  (آئی سی ایم آر) نے ریاست کرناٹک کو پلازمہ تھیراپی کے ذریعہ علاج کرنے کی اجازت دی تھی۔ ریاست میں سب سے پہلے اس علاج کا تجربہ بنگلورو میں کیا گیا تھا لیکن وہاں  مریض نے 3 / دن بعد توڑ دیا تھا۔ شہر گلستان کے وکٹوریہ اسپتال میں داخل  پی۔796 مریض کو اس علاج کے ذریعہ صحت یاب کرنے کوشش کی گئی تھی لیکن  15 /  مئی کو وہ فوت ہوگیا تھا۔ اس کے بعد کسی نے بھی اس تجربہ کو دہرانے کی کوشش نہیں کی۔ البتہ ہبلی  کمس کے ڈاکٹروں نے اس علاج کو کامیاب بناکر ریاست میں خوشی کی لہر دوڑادی ہے۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس وبا کی وجہ سے اس وقت پوری دنیا جوجھ رہی ہے۔ اس کے معاملات میں دن بہ دن اضافہ  ہوتا جا رہا ہے۔ ہر کوئی چاہتے  یا  نا چاہتے ہوئے بھی اس خطرے کے ساتھ زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ کیونکہ  دنیا بھر کے ممالک ابھی تک اس کا ٹیکہ دریافت کرنے سے  قاصر ہیں۔عوام کے ایک طبقے  کو    لگتا ہے کہ حکومت و انتظامیہ اس مہلک وبا کا علاج وٹیکہ دریافت کرنے سے زیادہ اسے سیاسی مدعا بنانے کے خواہاں ہیں۔ ان کے مطابق  نفرت کی اس پُر زور سیاست پر اس وقت گہری ضرب لگی جب کورونا وائرس سے متاثر مسلمان مکمل صحت یاب ہونے کے بعد دیگر مریضوں کے لئے اپنے پلازمہ کو عطیہ کے طور پر دینے کے لئے آگے آرہے ہیں۔

واضح  رہے کہ  پلازمہ تھیراپی کا علاج ابھی بھی تجرباتی مرحلے سے گزر رہا ہے۔ اس علاج میں کورونا سے صحت یاب افراد کے خون سے پلازمہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ کیونکہ صحت یاب مریضوں کے خون میں ایسے اجزاء پائے جاتے ہیں جو اس انفیکشن کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس علاج 'کونویلسنٹ پلازمہ convalescent plasma' کہا جاتا ہے۔ اس سے قبل بھی اس طرح کا طریقہ کار ' ایبولا' اور  ' اسپیانش فلو' جیسی وباؤں کے خلاف  استعمال میں لایا گیا تھا۔ کمس کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رام لنگپا انترانتی نے بتایا کہ 27 /مئی کو ایک  64  / سالہ مریض کو کمس میں داخل کیا گیا تھا۔ ابتدائی علاج سے مریض کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ بعد ازاں ماہرین کمیٹی نے فیصلہ لیا کہ اس مریض کا پلازمہ تھیراپی کے ذریعہ علاج کیا جائے۔ 29 اور 30 / مئی کو اس مریض کو پلازمہ دیا گیا۔ جس کے بعد مریض میں یکلخت تبدیلیاں رونما ہوئیں اور وہ مکمل صحت یاب ہونے لگا۔ مریض کے جسم میں پلازمہ داخل کرنے کے بعد سانس لینے کی تکلیف میں حیران کر دینے والی کمی واقع ہوئی اور وہ مکمل طور پر رو بہ صحت ہوا۔ بہرحال اس خبر کے بعد  ریاست کے عوام   راحت کی سانس لے رہے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

کرناٹک کے بلاری ضلع میں کورونا سے مرنے والوں کی غیر مہذب تدفین کا واقعہ انسانیت سوز: ایس ڈی پی آئی

 سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی)کرناٹک شاخہ نے بلاری ضلع میں کورونا سے مرنے والوں کی انتہائی غیر مہذب تدفین کے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت سوز قرار دیا ہے۔