چیف جسٹس کا دفتر آرٹی آئی کے دائرے میں، سپریم کورٹ سے آ سکتا ہے فیصلہ

Source: S.O. News Service | Published on 12th November 2019, 7:29 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 12 نومبر (آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا دفتر آر ٹی آئی کے دائرے میں آنا چاہئے یا نہیں اس مسئلے پر بدھ کو فیصلہ آ سکتا ہے۔آئینی بنچ نے اپریل میں کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ججوں کے کام کاج کو آر ٹی آئی کے دائرے میں لانے کے لئے سب سے بڑی دلیل یہ رہی ہے کہ اس سے عوام میں عدلیہ کے لئے اعتماد بڑھے گا اور نظام میں مزید شفافیت آئے گی۔ یہ  معاملہ سپریم کورٹ رجسٹری نے دہلی ہائی کورٹ کے اس حکم کو عدالت میں چیلنج کیا ہوا ہے جس میں سی آئی سی کے احکامات کو صحیح ٹھہرایا گیا تھا۔سی آئی سی نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا دفتر آر ٹی آئی کے دائرے میں ہے۔سی آئی سی اور ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ رجسٹری نے 2010 میں چیلنج کیا تھا،تب سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے حکم پر اسٹے لگا دیا تھا اور معاملے کو آئینی بنچ کو ریفر کر دیا گیا۔اس معاملے میں سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے پیروی کرتے ہوئے دلیل دی تھی کہ حق اطلاعات کے تحت ججوں کا کام کاج عوامی دائرے میں آنا چاہئے۔سینئر وکیل نے یہ بھی کہا تھا کہ چیف جسٹس سمیت کالیجیم کے دیگر جج بہترین کام کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود اس بارے میں معلومات عوامی ہونی چاہئے۔معاملے کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا تھاکہ کوئی نہیں چاہتا کہ سسٹم میں دھندلاپن رہے،کوئی نہیں چاہتا کہ اندھیرے میں کام ہو اور کوئی کسی کو اندھیرے میں رکھنا نہیں چاہتا،بہرحال فیصلہ محفوظ رکھا جاتا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

غیر ملکی تبلیغی جماعتیوں کی عرضی پر سماعت 10 جولائی تک ملتوی

سپریم کورٹ نے تبلیغی جماعت کے پروگرام میں حصہ لینے والے 34غیر ملکی جماعتیوں کی عرضیوں پر سماعت 10 جولائی تک کے لئے ملتوی کردی اور کہا کہ انہیں اپنے ملک بھیجنے کے معاملے میں وہ مداخلت نہیں کرے گا، بلکہ بلیک لسٹ میں ڈالے جانے کے معاملے پر سماعت کرے گا۔

شیوراج کابینہ میں توسیع، 28 وزیروں کی حلف برداری

 بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جےپی) کی نائب صدر اور سابق مرکزی وزیر اوما بھارتی نے مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ چوہان کی کابینہ توسیع کے بالکل پہلے ذات بات تال میل کے سلسلے میں پارٹی قیادت کے سامنے ’اصولی عدم اتفاق‘کا اظہار کیا ہے