سبریمالہ مندر معاملہ 7 رکنی بنچ کے حوالے، جج نے کہا ’کیس کا اثر مندر ہی نہیں مسجد پر بھی پڑے گا‘

Source: S.O. News Service | Published on 14th November 2019, 1:07 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،14/نومبر(ایس او نیوز/ایجنسی) سپریم کورٹ نے آج ایک انتہائی اہم فیصلہ سناتے ہوئے سبریمالہ مندر میں سبھی عمر کی خواتین کے داخل ہونے سے متعلق نظر ثانی عرضی کو 7 رکنی بنچ کے حوالے کر دیا ہے۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے فی الحال اس مندر میں خواتین کے داخلے پر روک لگانے سے انکار کر دیا ہے۔ چیف جسٹس رنجن گگوئی کی صدارت والی بنچ نے کہا کہ سبریمالہ مندر کے فیصلہ پر داخل نظر ثانی عرضی پر اب سات ججوں کی بنچ اپنا فیصلہ سنائے گی۔ دو ججوں کے عدم اتفاق کے بعد یہ کیس بڑی بنچ کے حوالے کیا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اس وقت نظر ثانی عرضی کو پانچ رکنی بنچ دیکھ رہی تھی۔

عدالت عظمیٰ نے سبریمالہ مندر کے کیس کو مسجد سے بھی جوڑ کر دیکھا ہے۔ چیف جسٹس رنجن گگوئی نے عدالت میں کہا کہ اس کیس (سبریمالہ مندر معاملہ) کا اثر صرف اس مندر پر نہیں بلکہ مسجدوں میں خواتین کے داخلے اور اگیاری (پارسی مندر) میں پارسی خواتین کے داخلے پر بھی پڑے گا۔ چیف جسٹس نے واضح لفظوں میں کہا کہ روایتیں مذہب کے اعلیٰ اور قابل قبول ضابطوں کے مطابق ہونی چاہئیں۔

واضح رہے کہ 28 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے سبریمالہ مندر میں سبھی عمر کی خواتین کو داخل ہونے کی اجازت دے دی تھی۔ اپنے فیصلہ میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ 10 سال سے 50 سال تک کی عمر کی خواتین بھی ایپّا مندر میں داخل ہو سکتی ہیں اور داخلے پر پابندی کی صدیوں پرانی روایت غیر آئینی ہے۔ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں 65 نظر ثانی عرضیاں داخل کی گئی تھیں جسے آج (14 نومبر 2019) پانچ رکنی بنچ نے 7 رکنی بنچ کے حوالے کر دیا۔ آج سپریم کورٹ نے صاف صاف کہہ دیا کہ گزشتہ فیصلہ بنا رہے گا اور حکومت کو یہ دیکھنا ہے کہ اسے اس پر عمل کرنا ہے یا نہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

اداکارہ پائل روہتگی کو پولیس نے حراست میں لیا، نہرو خاندان پر قابل اعتراض تبصرہ کرنے کا تھا الزام

بالی ووڈ اداکارہ پائل روہتگی کو راجستھان کی بوندی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔پائل روہتگی کو سابق وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو پر قابل اعتراض تبصرہ کے لئے حراست میں لیا گیا ہے۔

فاروق عبداللہ کو حراست میں لینا شرمناک، فوراً رہا کیے جائیں: اسٹالن

 دراوڑ منتر كشگم (ڈی ایم کے) سربراہ ایم کے اسٹالن نے جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی فاروق عبداللہ کو پبلک سیفٹی قانون (پی ایس اے) کے تحت حراست میں لئے جانے کو آئینی اقدار اور جمہوری روایات کے لئے شرمناک قرار دیتے ہوئے ان کی فوری طور پر رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

حیدرآباد انکاؤنٹر: سپریم کورٹ کا تشکیل شدہ کمیشن آئندہ ہفتہ دورہ کرے گا

 حیدرآباد کے سائبر آباد پولس کمشنریٹ کی حدود میں 26 سالہ وٹرنری ڈاکٹر کی اجتماعی عصمت دری کے بعد اس کے قتل اور لاش کو جلا دینے کی واردات میں ملوث ملزمین کی انکاونٹر میں ہلاکت کی جانچ کے لئے سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دیا گیا کمیشن آئندہ ہفتہ حیدرآباد کا دورہ کرے گا۔