بنگلور: ایس ایس ایل سی نتائج کے بعد پرائیویٹ سمیت سرکاری کالجوں میں بھی رش ۔ پی یوسی میں داخلہ لینے کالج میں طلبہ اوروالدین کی لمبی قطاریں

Source: S.O. News Service | Published on 22nd May 2022, 1:42 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،22؍مئی (ایس او نیوز)ایس ایس ایل سی امتحانات کے نتائج  ظاہر ہونے کے  بعد پی یوکالجوں میں  ایڈمیشن کی  کارروائی زوروں  پر شروع ہوگئی ہے۔والدین اورطلبہ قطاروں میں کھڑے ہوکر فارم لیتے ہوئے عرضیاں پُر کررہے ہیں۔ بنگلورو شہرکے معروف کالجوں میں عرضی حاصل کرنے کے لیے لمبی لمبی قطاریں دیکھی جارہی  ہیں۔

کالجوں کے پرنسپلوں کاکہناہے کہ اس مرتبہ طلبہ کی اکثریت سائنس کے شعبہ میں دلچسپی دکھارہی ہے۔ کوروناکی وجہ سے مالی مشکلات کاشکاروالدین سرکاری کالجوں میں اپنے بچوں کاداخلہ کروانے میں توجہ دے رہے ہیں۔سرکاری کالجوں سے بھی داخلہ فارم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد بھی کچھ کم نہیں ہے۔پہلی جماعت سے 12ویں جماعت تک کرناٹک پبلک اسکول کے طورپرترقی دئے جانے کے بعد بسون گڈی کے بی پی واڑی روڈپرواقع سرکاری پی یوکالج، اگرایچ ایس آرلے آؤٹ کے سرکاری کالج سمیت شہرکے مختلف سرکاری کالجوں میں داخلہ حاصل کرنے کے لیے پہلے ہی دن سینکڑوں طلبہ نے داخلہ فارم حاصل کیاہے۔ایم ای ایس،ماؤنٹ کارمل، ششادری پورکالج،سمیت شہر کے مشہور پرائیویٹ کالجوں میں داخلہ حاصل کرنے کے لیے طلبہ اوروالدین امڈپڑے ہیں۔پہلے ہی دن ہزاروں طلبہ نے مذکورہ کالجوں سے داخلہ فارم حاصل کیاہے۔

ششادری پورکالج میں کامرس اورسائنس شعبہ کے مختلف کامبی نیشن میں داخلہ حاصل کرنے کے لیے 740سیٹ دستیاب ہیں۔لیکن یہا ں اس کالج میں اب تک 1200سے زیادہ داخلہ کے خواہشمندطلبہ کی جانب سے عرضیاں جمع کی گئی ہیں۔ ان عرضیوں میں سے 850 عرضیاں کامرس کے شعبہ میں داخلہ حاصل کرنے کے لئے موصول ہوئی ہیں جبکہ 350 عرضیاں شعبہ سائنس میں داخلہ حاصل کرنے کے لئے جمع ہوئی ہیں۔یہ جانکاری کالج کے پرنسپل پروفیسرآروی منجوناتھ نے دی ہے۔اسی طرح ماؤنٹ کارمل کالج میں بھی پہلے ہی دن 2ہزارسے زیادہ طلبہ نے داخلہ فارم حاصل کیاہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بنگلور میں کانگریس لیڈر ضمیراحمد خان کے مکان اور دفتر پر اے سی بی کے دھاوے؛ کانگریس نے کہا؛ سب انسپکٹرس بھرتی اسکیم سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش

کرناٹک اینٹی کرپشن بیوروکے عہدیداروں نے منگل کے دن غیرمتناسب اثاثوں کی انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ(ای ڈی) رپورٹ پر کانگریس رکن اسمبلی بی زیڈ ضمیر احمد خان کے 5 مقامات پر بہ یک وقت دھاوے کئے۔

بھٹکل: ساحلی کرناٹکا کے علاوہ دیگر 6 اضلاع میں بھی موسلا دھار بارش  -طالبہ سمیت 2 ہلاک ۔ ندیاں پار کر گئیں خطرے کا نشان ؛ کاروار کے قریب انموڈ گھاٹ پر چٹان کھسک گئی

ریاست کے ساحلی علاقہ کے شمالی کینرا، اُڈپی اور  جنوبی کینرا کے علاوہ کوڈاگو، چکمگلورو اور شیموگہ جیسے اضلاع  زبردست بارش کی زد میں آ گئے ہیں ۔  جس کے نتیجے میں کئی علاقوں سے نقصانات کی خبریں بھی موصول ہورہی ہیں، جبکہ  بارش کے نتیجے میں اب تک  دو لوگوں کی موت واقع ہوئی ہے۔

کولار میں شانِ رسالتؐ میں گستاخی اور قرآن شریف کی بے حرمتی کے واقعے پر بھٹکل تنظیم کی سخت مذمت؛ خاطیوں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ

کولار میں  جمعہ کے روز اُدے پور واقعے  کو لے کر منعقدہ  احتجاج  میں  ہندو تنظیموں کی طرف سے  پھر  ایک بار شان رسالتؐ میں گستاخی اور قرآن شریف کی کھلے عام بے حرمتی کا معاملہ سامنے آنے پر مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور نوپور شرما  کی حمایت کرتے ہوئے  کی ...