کسانوں کی حمایت میں پرینکا کی ریلی، تبدیلی کا نعرہ دیا

Source: S.O. News Service | Published on 11th October 2021, 12:14 PM | ملکی خبریں |

وارانسی ، 11؍اکتوبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) مرکزی اور یوپی حکومت پر لکھیم پور سانحہ میں  ہلاک ہونے والے کسانوں کے قاتلوں کو بچانے کا الزام لگاتے ہوئے کانگریس کی جنرل سیکریٹری اور یوپی امور کی انچارج پرینکا گاندھی نے اتوار کو بنارس میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے عوام کو انصاف کیلئے اٹھ کھڑے ہونے کی تلقین کی۔ ملک میں  تبدیلی تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے متنبہ کیا کہ اس وقت ہندوستان  میں بی جےپی لیڈروں اوران کے کھرب پتی دوستوں  کے علاوہ کوئی محفوظ نہیں ہے۔انہوں نے براہ راست وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس پوری دنیا گھومنے کا وقت ہے مگر دہلی میں ان کی رہائش گاہ سے ۱۰؍ منٹ کی دوری پر ۱۰؍  مہینوں سے احتجاج کررہے کسانوں سےملاقات کا وقت نہیں  ہے۔ 

 وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقے  بنارس میں ’کسان نیائے ریلی ‘سے خطاب   کے دوران پرینکا گاندھی   نے  آواز بلند کرنے پر ہونے والی گرفتاریوں پر کہا کہ ’’کانگریس کے کارکن کسی سےنہیں ڈرتے، آپ انہیں جیل میں  ڈالیں   یا ان کی پٹائی کریں۔‘‘ لکھیم پور سانحہ کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ ’’ ہم اس وقت تک جدوجہد جاری رکھیں  گے جب تک مرکزی وزیر مملکت برائے  داخلہ اجے مشرا استعفیٰ  نہیں دے  دیتے۔ ہماری  پارٹی نے ملک کی آزادی کی لڑائی لڑی ہے، کوئی ہمیں خاموش نہیں کراسکتا۔‘‘ انہوں  نے افسوس کا اظہار کیا کہ ’’اس ملک میں مرکزی وزیر کا بیٹا کسانوں کو اپنی گاڑی کی نیچے کچل دیتا ہے اور حکومت اسے بچانے کی کوشش کرتی ہے۔‘‘  واضح رہے کہ آشیش مشرا کو سنیچر کو دیر رات گئے گرفتار کرلیا گیاہے۔ اس سے قبل آشیش مشرا کو پوچھ تاچھ کیلئے سمن کیاگیاتھا ۔ اس پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ پولیس قتل کے ایک ملزم کو پوچھ تاچھ کیلئے مدعو کرے۔‘‘انہوں  نے عوام کو تلقین کی کہ انہیں برسراقتدار طبقہ کو اس بات کیلئے مجبور کرنا ہوگا کہ وہ انصاف کریں۔

  لکھیم پور سانحہ کے مہلوک کسانوں  کے تعلق  سے وزیراعظم کی سرد مہری پرکانگریس  لیڈر نے کہا کہ ’’وزیراعظم  لکھنؤ میں  ’اتم پردیش‘ کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور آزادی  کے امرت مہااُتسو میں شرکت کرنے آئے مگر وہ ۲؍ گھنٹے کی دوری پر لکھیم پور کھیری جاکر مظلوم کسانوں کے آنسو نہیں پونچھ سکے۔‘‘

 ملک میں  پھیلی بے روزگاری  کا حوالہ دیتے ہوئے  پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’کورونا بحران میں چھوٹے کاروباری  اور کسان تباہ ہوچکے ہیں جبکہ وزیر اعظم کے کھرب پتی دوست کروڑوں روپے کمارہے ہیں۔  چھوٹے کاروباریوں کو اپنے کام بند کرنے پڑے ہیں۔ حکومت کی طرف سے انہیں کوئی راتحت  نہیں ملی  بلکہ  جی ایس ٹی اور نوٹ بندی سے انہیں ہراساں کیا گیا۔‘‘

 کانگریس جنرل سکریٹری نے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ’’سچائی سے لوگ کیوں ڈر رہے ہیں۔ وقت آگیا ہے ۔یہ الیکشن کی بات نہیں  ہے۔ یہ ملک  بی جے پی  اوراس کے عہدہ داروں کی جاگیر نہیں ہے، یہ آپ کا ملک ہے  ، آپ کو اسے بچانا ہوگا۔‘‘ انہوں  نے متنبہ کیا کہ ’’عوام  بیدار نہیں ہوں گے اور سیاست میں الجھے رہیں گے تو نہ خود بچیں گے نہ  ملک کو بچا پائیں گے۔‘‘   پرینکا گاندھی جنہیں لکھیم پوکھیری میں مظلولم کسانوں سے ملاقات کرنے کیلئے ۲؍ دونوں تک حراست میں رہنا پڑاتھا، نے عوام کو للکارتے ہوئے کہا کہ ’’ جو کسانوں کو دہشت گرد کہتے ہیں ان کو انصاف دینے پر مجبور کیجیے۔‘‘

  ریلی سے میں شرکت سے قبل بنارس پہنچنے کےبعد پرینکا گاندھی نے کاشی وشوناتھ مندر  اور کشمانڈا  دیوی کے مندرپر پہنچ کر   پوجا کی۔ انہوں نے ماتھے پر چندن کا لیپ لگوایا اور ہاتھوں  پر تلسی   کی مالا  اور مولی (لال رنگ کا دھاگا) بندھوایا  اور عوام سے خطاب کرنے پہنچیں۔ان کے اس نئے روپ  سے سیاسی حلقوں  میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئی ہیں۔اسے آئندہ برس کے اسمبلی انتخابات سے جوڑ کردیکھا جارہاہے۔  بی جےپی یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی ہے کہ ملک میں و ہی ایک ایسی پارٹی ہے جو ہندو دیوی دیوتاؤں کی عزت کرتی ہے جسے پرینکا گاندھی نے غلط ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ 

 پرینکا گاندھی نے لکھیم پور کھیری میں فوت ہونے والے کسانوں کے اہل خانہ سے ملاقات کاحوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ خاندان معاوضہ نہیں انصاف چاہتے ہیں مگر موجودہ حکومت میں  انہیں انصاف کی امید نہیں ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

کانگریس نے پیگاسس کیس پرعدالت کے فیصلے کاخیرمقدم کیا

کانگریس نے بدھ کو سپریم کورٹ کے مبینہ پیگاسس جاسوسی کیس کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی قائم کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ’ستیہ میو جیتے۔‘‘پارٹی کے چیف ترجمان رندیپ سرجے والانے ٹویٹ کیاہے کہ بزدل فاشسٹوں کی آخری پناہ گاہ مبینہ قوم پرستی ہے۔

بی جے پی رکن اسمبلی کرشنا کلیانی بھی ترنمول کانگریس میں شامل

 بنگال بی جے پی کو دھکچے لگنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اب رائے گنج سے بی جے پی کے ممبر اسمبلی کرشنا کلیانی جنہوں نے یکم اکتوبر کو بی جے پی چھوڑ دی تھی نے قیاس آرائیوں کے مطابق آج پارٹی کے سکریٹری جنرل پارتھو چٹرجی کی موجودگی میں ترنمول کانگریس میں شامل ہوگئے۔

ہندوتوا وادی مظاہرین کے ہاتھوں تریپورہ کی 16 مساجد میں توڑ پھوڑ، 3 مساجد نذر آتش

شمال مشرقی ریاست تریپورہ میں حالات دن بدن شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف ہوئے تشدد کی مذمت میں کئی دنوں سے ریاست بھر میں مظاہرے اور ریلیاں جاری تھیں، لیکن یہ ریلیاں شدت اختیار کر گئیں اور ریاست کے مسلمانوں کے خلاف متشدد ہوگئیں۔

وزیراعلی ملازمتیں فراہم کریں یا مستعفی ہوجائیں: وائی ایس شرمیلا

 وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی کی سربراہ وائی ایس شرمیلا نے کہا ہے کہ ہر گھر کو ایک ملازمت یا نہیں تو بے روزگاری کا الاونس فراہم کرنے ولے وزیراعلی کے چندرشیکھرراو کے وعدہ پر یقین کرتے ہوئے عوام نے ان کو اقتدار حوالے کیا، تاہم موجودہ صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ ریاست میں بے روزگاری میں ...

پیگاسس معاملہ پر مرکز کو سپریم کورٹ سے جھٹکا! تفتیشی کمیٹی کا قیام

پیگاسس معاملہ میں سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو جھٹکا دیتے ہوئے کہا کہ پیگاسس معاملہ کی جانچ ہوگی، عدالت نے جانچ کے لئے ماہرین کی ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اس معاملہ میں مرکز کا رخ واضح نہیں اور رازداری کی خلاف ورزی کی تحقیقات ہونی چاہئے۔