بابری مسجد معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلہ سے ناخوش پاپولر فرنٹ کی طرف سے بھی نظر ثانی کی عرضی داخل

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 10th December 2019, 10:06 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی 10/ڈسمبر (ایس او نیوز) بابری مسجد حق ملکیت معاملے میں سپریم کورٹ کی آئینی بنچ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے، پاپولر فرنٹ آف انڈیا نارتھ زون کے سکریٹری انیس انصاری نے بھی 9/ڈسمبر بروز پیر کو سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی عرضی داخل کی ہے۔ پی ایف آئی کی جانب سے جاری کردی پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ رویو پٹیشن داخل کرنے کا فیصلہ تنظیم کی قومی مجلس عاملہ نے  15 اور 16  نومبر کو منعقدہ اپنی میٹنگ میں لیا تھا۔

ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ پٹیشن میں ٹھوس تاریخی حقائق اور ثبوتوں کی بنیاد پر عدالت عظمیٰ سے انصاف کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ  سپریم کورٹ نے خود اپنے فیصلے میں اس بات کو مانا ہے کہ بابری مسجد میں دو مرتبہ توڑ پھوڑ کی گئی تھی، پہلی مرتبہ 1949 میں جب اس کی بے حرمتی کرتے ہوئے مرکزی گنبد کے نیچے مورتی رکھی گئی اور دوسری بار 1992  میں جب غنڈوں کی ایک بھیڑ نے مسجد کو شہید کر دیا تھا۔ اس کے باوجود عدالت نے ان حقائق کو نظر انداز کر تے ہوئے بابری مسجد کے قصورواروں کو جنہوں نے پہلے مسجد میں بے جا دخل اندازی کی اور پھر اسے شہید کر دیا، پوری زمین دینے کا فیصلہ سنا دیا۔

درخواست گذار نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ عدالت کا فیصلہ ان نقاط اور مشاہدات سے ٹکراتا ہے جنہیں خود عدالت نے مانا اور بیان کیا ہے۔ لہٰذا اس پر نظر ثانی اور دوبارہ غور کیا جانا چاہئے۔

ایک نظر اس پر بھی

یوم جمہوریہ کے موقع پر پس مرگ پدما وبھوشن ایوارڈ پانے والوں میں شامل ہیں اڈپی پیجاورمٹھ سوامی اور جارج فرنانڈیز

یوم جمہوریہ کے موقع پر مرکزی حکومت کی طرف سے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو پدما بھوشن اور پدماوبھوشن جیسے اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔ امسال جن شخصیات کو پس مرگ پدماوبھوشن ایوارڈ سے نوازا گیا ہے اس میں پیجاور مٹھ کے سوامی اور سابق مرکزی وزیر ...

شاہین باغ وہ انقلاب ہے جو اب تھمنے والا نہیں ... آز:ظفر آغا

شاہین باغ اب محض ایک پتہ نہیں بلکہ ایک تاریخ ہے۔ یہ وہ تاریخ ہے جس کا سلسلہ 1857 سے ملتا ہے۔ جی ہاں، 1857 میں جس طرح انگریزوں کے مظالم اور ناانصافی کے خلاف بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں ایک بغاوت پھوٹ پڑی تھی، ویسے ہی نریندر مودی کے خلاف شاہین باغ سے ایک بغاوت کا نقارہ بج اٹھا ہے اور ...

دہلی کے شاہین باغ میں لاکھوں مظاہرین نے منایا پورے جوش وخروش کے ساتھ یوم جمہوریہ؛ شہریت قانون کی سخت مخالفت

شہریت قانون کی مخالفت کرنے والے احتجاجیوں نے آج 26 جنوری کے موقع پر پورے جوش و خروش کے ساتھ یوم جمہوریہ کی تقریب منائی اور لاکھوں لوگوں کی موجودگی میں  شاہین باغ میں ہی ترنگا جھنڈا لہراتے ہوئے  ملک میں نئے انقلاب  کی جھلک دکھائی۔

شہریت قانون اور این آر سی ملک کے دلتوں، غریبوں اور پسماندہ طبقہ کے خلاف ہے؛ سیتامڑھی میں انسانی زنجیر کے ذریعے احتجاج

  سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف احتجاجی مظاہرے اب شہروں سے نکل کر گاوں اور دیہاتوں میں بھی پھیل چکے ہیں اور ملک کے تقریبا ہر علاقوں سے بڑے پیمانے پر ریلیاں اور احتجاج کئے جانے کی خبریں موصول ہورہی ہیں، اسی طرح ایک خبر بہار  کےضلع سیتامڑھی کے سونبر سا بلاک کے مہولیا ...

شہریت قانون کی مخالفت میں اب شیموگہ میں نظر آرہا ہے شاہین باغ ؛26 جنوری کی رات کو پبلک پارک میں عورتوں کا جم غفیر!

جیسے جیسے شہریت قانون کی مخالفت میں اُٹھنے والی آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ اُتنی ہی تیزی کے ساتھ اُبھرتی نظر آرہی ہے، اب تازہ خبر ریاست کرناٹک کے شہر شموگہ سے سامنے آئی ہے جہاں 25 جنوری کی شام سے ہی  آر ایم نگر میں موجود پبلک پارک میں خواتین کی بھیڑ جمع ہونی شروع ...

جدوجہد کرنے والے نوجوان گاندھی جی کے عدم تشدد کے پیغام کو ہمیشہ یاد رکھیں: صدر جمہوریہ رامناتھ کووند کا قوم کو پیغام

صدر جمہوریہ رامناتھ کووند نے جمہوریت کے لئے حکمراں اور اپوزیشن دونوں فریقوں کو اہم قرار دیتے ہوئے عوام خاص طورپر نوجوانوں کو بابائے قوم مہاتما گاندھی کے عدم تشددے کے منتر کو ہمیشہ یاد رکھنے کی تلقین کی۔