این آر سی معاملے پر سابق ججوں اورسیول سوسائٹی گروپ نے سپریم کورٹ کی تنقید کی

Source: S.O. News Service | Published on 10th September 2019, 10:55 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،10؍ستمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) سپریم کورٹ کے سابق ججوں مدن بی لوکر اور کورین جوزف اور دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اے پی شاہ سمیت سویلین جیوری نے آسام میں این آر سی کے مدعے سے نپٹنے میں عدالت کے طریقوں کی سخت تنقید کی ہے-رپورٹ کے مطابق، جیوری نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جس فیصلے نے این آر سی کی کارروائی شروع کی وہ غیر مصدقہ اور غیر مستند ڈیٹا پر مبنی تھی، جس کے مطابق خارجی برہمی کی وجہ سے ہندوستان میں جلاوطنی ہو رہی ہے- یہی وجہ تھی کہ عدالت نے مہاجروں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا اور ان کی آزادی اور عزت کے ساتھ جینے کے حقوق کی خلاف ورزی کی-جیوری نے آگے کہاکہ اتنے بڑے پیمانے پر چلائی گئی مہم کے باوجود عدلیہ کی معینہ مدت طے کرنے کی ضد نے کارروائی اور اس میں شامل لوگوں دونوں پر دباؤ بڑھا دیا-‘جیوری کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب عدالت اس طرح کی کارروائی کی’ذمہ داری’سنبھالتی ہے، تو غلطیوں کو ٹھیک کرنے میں دشواری ہوتی ہے-واضح ہو کہ، پیپلز ٹری بیونل عوامی سماعت کی ایک ایسی کارروائی ہوتی ہے، جس میں آئینی کارروائی اور انسانی حقوق پر سماعت کیلئے سیول سوسائٹی کے لوگوں کو جیوری میں شامل کیا جاتا ہے-اس پیپلز ٹری بیونل کا انعقادسیول سوسائٹی کے گروپس نے ہفتہ اور اتوار کو کیا تھا- جیوری نے آسام کے لوگوں کی ذاتی گواہی اور قانونی ماہرین کو سنا جنہوں نے این آر سی کو اپ ڈیٹ کرنے کی کارروائی میں حصہ لیا تھا- اس میں وکیل امن ودود، گوتم بھاٹیا، ورندا گروور اور مہیر دیسائی شامل تھے-جیوری نے زور دے کر کہا کہ شہریت، حقوق کے ہونے کا حق ہے اور یہ جدید سماج میں سب سے بنیادی انسانی حقوق میں سے ایک ہے-جیوری نے کہاکہ این آر سی سے باہر کئے جانے، غیر ملکی قرار دئے جانے اور آخر میں حراست میں بھیجے جانے کے ڈر نے کمزور کمیونٹی، بالخصوص بنگالی نزاد آسامی مسلم اور آسام میں رہنے والے بنگالی ہندوؤں کے درمیان مستقل صدمے کی حالت پیدا کردی ہے-‘جسٹس لوکر، جوزف اور شاہ کے علاوہ، ٹریبونل جیوری میں نالسار یونیورسٹی آف لا ء کے وائس چانسلر پروفیسر فیضان مصطفیٰ، یوجنا آیوگ کے سابق ممبر، سیدہ حامد، بنگلہ دیش میں سابق سفیر، دیب مکھرجی، انڈین رائٹرس فورم کی بانی-ممبر گیتا ہری ہرن اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں سینٹر فار نارتھ ایسٹ اسٹڈیز اینڈ پالیسی ریسرچ کے صدر پروفیسر منیرالحسین شامل تھے-

ایک نظر اس پر بھی

منگلورو ایئر پورٹ پر بم رکھنے کا معاملہ ؛ ملزم آدتیہ راؤ سے پوچھ تاچھ کیلئے مرکزی وزارت داخلہ سے اجازت کا انتظار

گودی میڈیا نے منگلورو ایئر پورٹ پر بم رکھ کر تہلکہ مچانے والے سنگھ پریوار سے جڑے نوجوان آدتیہ راؤ کے معاملہ پر پوری طرح اب تک خاموشی اختیار رکھی ہے اور اب تک اس سلسلہ میں کوئی خبر ہی نہیں دی گئی تھی، اس معاملہ پر پردہ ڈالنے کی بھی کوشش جاری ہے ،

مزدوروں کا 85 فیصد ریل کرایہ مرکز کے ذریعہ ادا کرنے کا جھوٹ عدالت میں بے نقاب

مہاجر مزدوروں کو ان کے آبائی وطن روانہ کرنے کے لیے ریلوے کا 85 فیصد کرایہ مرکزی حکومت کی جانب سے ادا کیے جانے کا بی جے پی کاجھوٹ آج اس وقت بے نقاب ہوگیا جب سپریم کورٹ کے روبرو مرکزی حکومت کے سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ریلوے کرائے کا پورا خرچ ریاستی حکومتوں ...

بنگال بی جے پی صدردلیپ گھوش کا شرمناک بیان، کہا ”ٹرینوں میں مزدوروں کی موت معمولی واقعہ“

مغربی بنگال بی جے پی کے صدر دلیپ گھوش نے شرمک اسپیشل ٹرین میں بھوک اور پیاس کی وجہ سے ہونے والی اموات کو 'معمولی اور چھوٹا' واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے لیے انڈین ریلوے کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں اس چھوٹے سے واقعے کو حد سے زیادہ حساس ...