سیلاب کی صورت حال سے حفاظت کیلئے 17 محکموں کی کار گاہ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th June 2019, 10:44 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،11؍جون(ایس او نیوز)  بروہت بنگلورو مہا نگرا پالیکے (بی بی ایم پی) اور کرناٹک قدرتی آفات سے تحفظ انتظامیہ (کے ایس ڈی ایم اے) نے حال ہی میں شہری سیلاب کی صورت حال اور بنیادی ڈھپانچہ کے انہدام سے متعلق ایک معیاری ضابطہ عمل (ایس او پی) کی تیاری کے لئے 17 مختلف سرکاری محکموں کے ذمہ داران کی ایک کارگاہ منعقد کی تھی-منصوبہ در اصل شہری سیلاب کی صورت حال پر زیادہ موثر انداز میں قابو پانے کے لئے تمام اداروں اور وسائل کو مربوط کرکے ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا ہے-مذکورہ کارگاہ میں ہر ایک محکمہ کی طرف سے اس مسئلہ کے حل کے سلسلہ میں اس کا اپنا کیا کردار ہو سکتا ہے اس تعلق سے تجاویز و آراء پیش کی گئیں اور ان پت تبادلہ خیال بھی کیا گہا ہے-واضح رہے کہ کرناٹک ریاستی قدرتی آفات سے تحفظ انتظامیہ نے دوسری ریاستیں جیسے آندھرا پردیش اور کیرلا میں شہری سیلاب کی صورت حال اور اس کے اثرات سے متعلق مختلف معیارات کا مطالعہ کیا ہے- بی بی ایم پی کمشنر این منجو ناتھ نے بتایا کہ ”یہ کار گاہ موسم باراں کے لئے ایک منصوبہ عمنل کی تیاری کے سلسلہ میں تھی اور اس مقصد کے تحت بھی کہ ہرایک محکمہ اس بات سے واقف ہو کہ اس کا کردار کیا ہوگا“-

ایک نظر اس پر بھی

آئی ایم اے میں سرمایہ کاری کرکے دھوکہ کھانے والے متاثرین کی قانونی مدد کے لئے اے پی سی آر کی خدمات دستیاب

آئی ایم اے میں سرمایہ کاری کرکے دھوکہ کھانے والے متاثرین کی قانونی رہنمائی اور اُن کی  مدد کے لئے  اسوسی ایشن فور پروٹیکشن آف سیول رائٹس  (اے پی سی آر)  کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہے۔جن  لوگوں نے  اپنی چھوٹی چھوٹی سرمایہ  کاری  اس کمپنی میں کی تھی اور اب وہ کنگال ہوچکے ہیں، اے پی ...

جندال اسٹیل کمپنی معاملہ سے متعلق حکومت نے سب کمیٹی تشکیل دی، کے پی سی سی سے استعفیٰ دینے کی خبرو ں میں کوئی سچائی نہیں: دنیش گنڈو راؤ

پردیش کانگریس کمیٹی(کے پی سی سی) صدر دنیش گنڈو راؤ نے کہا کہ جندال کمپنی کے لئے زمین فروخت کرنے کے معاملہ میں ریاستی حکومت نے سب کمیٹی تشکیل دی ہے۔

آئی ایم اے معاملہ میں نرم رویہ اختیار کرنے کاسوال پیدا نہیں ہوتا: ضمیر احمد خان

آئی مانیٹری اڈوائزری (آئی ایم اے) نامی پونزی کمپنی کے دھوکہ دہی معاملہ میں نرم رویہ اختیار کئے جانے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔اس پس منظر میں بی جے پی کی جانب سے عائد کئے جارہے الزامات بکواس ہیں۔