پہلے مرحلے کے لئے انتخابی مہم شباب پر؛ مودی اور راہل سمیت سرکردہ رہنماوں کا کرناٹک میں  ووٹروں کو رُجھانے پورا زور

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th April 2019, 12:17 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،13؍اپریل(ایس او  نیوز) ریاست کی 14لوک سبھا سیٹوں کی پولنگ کے لئے اب ایک ہفتہ بھی نہیں رہ گیا ہے۔ ووٹروں کو رجھانے کے لئے تینوں بڑی سیاسی جماعتوں بی جے پی ، کانگریس اور جے ڈی ایس کی طرف سے پورا زور لگایا جارہاہے۔ بی جے پی کی انتخابی مہم چلانے کے لئے وزیراعظم نریندر مودی، بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ ، اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ، اور دیگر سرکردہ لیڈر ریاست کے مختلف حصوں میں گھوم رہے ہیں تو دوسری طرف کانگریس کی طرف سے انتخابی مہم چلانے کے لئے صدر کانگریس راہل گاندھی کرناٹک کے دورے پر ہیں۔ جبکہ ریاست میں کانگریس جے ڈی ایس اتحاد کی طرف سے انتخابی مہم چلانے کے لئے سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا اور سابق وزیراعلیٰ سدرامیا مختلف حلقوں میں مشترکہ انتخابی مہم چلانے میں مصروف ہیں۔

 وزیراعلیٰ کمار سوامی اور نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور بھی مشترکہ انتخابی مہم میں لگے ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم نے آج گنگاوتی میں انتخابی جلسے سے خطاب کیا تو آج سنیچر دوپہر منگلور میں انتخابی جلسے سے مخاطب ہوں گے اور شام چار بجے بنگلور پیالیس گراؤنڈ میں انتخابی جلسے میں شریک ہوں گے۔ اسی طرح  کل راہل گاندھی کولار، چترادرگہ اور کے آر نگر میں انتخابی جلسوں سے خطاب کریں گے اور کانگریس جے ڈی ایس اتحاد کے امیدواروں کی کامیابی کے لئے مہم چلائیں گے۔

راہل گاندھی کل دوپہر بارہ بجے کولار میں دوپہر تین بجے چترادرگہ اور شام چھ بجے کے آر نگر میں انتخابی جلسوں سے خطاب کریں گے۔ کے آر نگر میں وہ منڈیا پارلیمانی حلقے کے جے ڈی ایس امیدوار نکھل کمار سوامی کے لئے انتخابی مہم چلائیں گے اور برگشتہ کانگریس قائدین سے بات کرکے نکھل کی کامیابی کے لئے جدوجہد کرنے کے لئے ممکن ہے کہ ان سے اپیل بھی کریں گے۔ دیوے گوڈا اور سدرامیا کی مشترکہ انتخابی مہم میں شرکت کے لئے سابق وزیر چلوورایا سوامی کوسابق وزیراعلیٰ سدرامیا کی طرف سے مدعو کئے جانے کے باوجود بھی وہ انتخابی مہم میں شریک نہیں ہوئے ، قیاس کیاجارہاہے کہ کل شام راہل گاندھی کے جلسے میں چلوورایا سوامی شرکت کرسکتے ہیں۔ یہ بھی کہاجارہاہے کہ منڈیا کے طاقتور وکلیگا قائدین میں شمار کئے جانے والے چلوورایا سوامی کی آمد سے اس حلقے میں نکھل کی جیت اور بھی آسان ہوسکتی ہے۔ فی الوقت منڈیا حلقہ جے ڈی ایس کو دئے جانے سے ناراض چلوورایا سوامی نے اس حلقے کے کسی بھی انتخابی جلسے میں اب تک شرکت نہیں کی ہے۔ان کا گروپ چاہتا تھا کہ یہ سیٹ کانگریس لے اور یہاں سے کانگریس امیدوار کے طور پر سمالتا امریش کو میدان میں اتارے، لیکن کانگریس جے ڈی ایس اتحاد کے سبب اس حلقے سے سمالتا کوٹکٹ نہیں دیا گیا اور وہ آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں اتر گئیں۔
 

ایک نظر اس پر بھی

باغی اراکین اسمبلی ایوان کی کارروائی میں حاضر ہونے کے پابند نہیں:سپریم کورٹ عدالت کے فیصلہ سے مخلوط حکومت کو جھٹکا -کانگریس عدالت سے دوبارہ رجوع کرے گی

کرناٹک کے باغی اراکین اسمبلی کے استعفوں سے متعلق سپریم کورٹ نے آج جو فیصلہ سنایا ہے وہ ”آڑی دیوار پر چراغ رکھنے“ کے مصداق ہے- کیونکہ اس سے نہ کرناٹک کا سیاسی بحران ختم ہوگا اورنہ ہی مخلوط حکومت کو بچانے میں کچھ مدد ملے گی-