کون بنے گا 'کنگ' اور کون بنے گا ' کنگ میکر'؟! - لوک سبھا کے نتائج کے بعد سب کی نظریں ٹک گئیں نتیش اور نائیڈّو پر

Source: S.O. News Service | Published on 5th June 2024, 1:46 PM | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

نئی دہلی،  5 / جون (ایس او نیوز) لوک سبھا کے اعلان شدہ انتخابی نتائج نے منگل کو یہ ثابت کر دیا کہ پوسٹ پول سروے ہمیشہ درست نہیں ہوتے  کیونکہ این ڈی اے اتحاد کی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے بارے میں جو توقعات بنی یا بنائی گئی تھیں وہ پوری طرح  خاک میں مل گئیں۔
    
دریں اثنا، حزب اختلاف کے اتحاد 'انڈیا' نے اپنے مارجن کو بڑھاتے ہوئے پوسٹ پول سروے اور ایکزٹ پول  کو ٹھکانے لگا دیا ہے۔ اس پس منظر میں سیاسی پنڈتوں کے حساب و کتاب میں نہ رہنے والے دو سینئر سیاستدان ایک بار پھر منظر عام پر آ گئے ہیں جو مرکز میں نئی حکومت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرنے والے ہیں ۔ ان میں سے ایک جے ڈی یو کے نتیش کمار اور سینئر سیاست دان این چندرابابو نائیڈو ہیں ۔ لوک سبھا  کی اتنی زیادہ  سیٹیں ان دونوں لیڈروں کی ٹوکری میں ہیں کہ اب یہ لوگ یا تو کنگ میکر ہوں گے یا خود 'کنگ' بھی بن سکتے ہیں ۔
    
نتیش کی جنتا دل (یو) نے بہار میں اپنے سینئر پارٹنر بی جے پی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ دوسری طرف آندھرا پردیش میں تیلگو دیسم پارٹی  (ٹی ڈی پی) نے شاندار جیت درج کی ہے ۔ اس لیے اگر این ڈی اے کو حکومت بنانا  ہے تو اسے ان دونوں کو مضبوطی سے تھامنا ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہ دونوں لیڈر قومی سیاست کا مرکز بن گئے ہیں ۔
    
ادھر 'انڈیا' اتحاد نے بھی دونوں رہنماؤں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں، جو این ڈی اے کے لیے درد سر کا سبب بن سکتی ہیں ۔
    
انتخابی نتائج سامنے آتے ہی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ پہلے ہی نائیڈو کو فون کر چکے ہیں اور مرکز میں حکومت سازی پر تبادلہ خیال کر چکے ہیں ۔ 
    
کس کی حمایت کریں گے نتیش اور نائیڈو؟:یہ سوال آج ہر کسی کی زبان پر ہے ۔  محض یہ قیاس آرائی ہی کیوں نہ ہو مگر سوچا یہ بھی جا رہا ہےکہ این ڈی اے کو حکومت بنانے سے دور رکھنے  کے لیے  'انڈیا' اتحاد کو درکار تعداد فراہم کرنے میں کیا یہ لیڈران کلیدی کردار ادا کریں گے؟
    
بظاہر جے ڈی یو اور ٹی ڈی پی این ڈی اے کے اٹوٹ انگ ہیں ۔ لیکن اس حقیقت کے پیش نظر کہ 'انڈیا' اتحاد نے اپنی طاقت میں اضافہ کیا ہے، ان دونوں پارٹیوں کی جانب سے 'انڈیا' بلاک کے ساتھ ہاتھ ملانے کے امکانات کو رد بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ جبکہ نتیش کمار نے جس طرح سیاسی دھڑے بدلنے کا ریکارڈ بنایا ہے، اس کے پیش نظر انہیں سیاسی حلقوں میں 'پلٹو چاچا' کے لقب سے بھی نوازا جاتا ہے ۔ انتخابات سے قبل افواہیں تھیں کہ نتیش کی صحت ٹھیک نہیں ہے ۔ وہ بڑے سیاسی جلسوں میں کم ہی نظر آتے تھے۔ جب وزیر اعظم مودی نے پٹنہ اور بہار کے بڑے شہروں میں ریلیاں کیں تب بھی نتیش کی غیر موجودگی سب نے نوٹ کی تھی ۔ لیکن اب لگتا ہے کہ صورتحال بدل گئی ہے اور یہ شاندار انتخابی جیت نتیش کمار کے اندر مستقبل کی قیادت کرنے کا اعتماد جگا سکتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جے ڈی یو نہ صرف بہار میں بلکہ ملکی سیاست میں ایک اہم قومی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے ۔

کس طرف ہوگا نتیش کا  جھکاؤ:جے ڈی یو لیڈروں نے دعویٰ کیا ہے کہ دوستی نبھانے کا دھرم نتیش جانتے ہیں ۔ اپوزیشن نے انہیں ہلکے میں لیا ہے ۔  اس بار نتیش دھڑا نہیں بدلیں گے اور ہم این ڈی اے کے ساتھ  اپنا اتحاد جاری رکھیں گے ۔  
    
کانگریس اور بی جے پی دونوں اب نتیش کو بہلا رہے ہیں ۔ بی جے پی نے انہیں این ڈی اے کنوینر کے عہدے کی پیشکش کی ہے۔ صاف لگ رہا ہے کہ 9 بار بہار کے وزیر اعلی رہ چکے نتیش اب ہندوستانی سیاست کو نیا موڑ دے سکتے ہیں ۔
    
کیا ہوگا نائیڈو کا لائحہ عمل : آندھرا پردیش میں بھی چندرا بابو نائیڈو اپنی سیاسی طاقت اور مستقبل کو سنوارنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔ ان کی ٹی ڈی پی نے آندھرا پردیش میں لوک سبھا سیٹوں میں بڑا حصہ حاصل کیا ۔ اور اب جو ملکی سیاست میں اپنا کردار ادا کرنے کی باری ہے تو اس میں ان کی سیاسی ذہانت اور دوراندیشی کا بھی امتحان ہو جائے گا ۔
    
چندرا بابو  نائیڈو نے اس سے پہلے ریاستی اور قومی سطح کی سیاست میں مختلف جماعتوں کے ساتھ سیاسی پلیٹ فارم پر اشتراک کیا ہے۔ اب ہمیں انتظار کرنا اور دیکھنا ہوگا کہ وہ اور ان کی پارٹی دہلی کے مرکزی اسٹیج پر کیا کردار ادا کرے گی ۔

انڈیا الائنس کو اکثریت نہیں ملی لیکن توڑ دیا  بی جے پی کا گھمنڈ  :  لوک سبھا انتخابات2024  کے نتائج نے  بھلے ہی انڈیا الائنس کو اکثریت نہیں دی ہے، لیکن  بی جے پی کا گھمنڈ ضرور توڑ دیا ہے۔حالانکہ بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے نے اکثریت کے عدد272کو پار کر لیا ہے لیکن نہ صرف وزیر اعظم مودی اور بی جے پی کا 400 پار کا دعو یٰ  نا کام ہو گیا بلکہ بی جے پی بھی 240 تک سمٹ کر رہ گئی ہے اور اسے 63  سیٹوں کا نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔ کانگریس نے زبردست واپسی کرتے ہوئے 99 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی اور جہاں این ڈی اے 292  سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوا وہیں انڈیا اتحاد نے زبردست مقابلہ کرتے ہوئے 234  سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔

خاص طور پر رائے بریلی اور امیٹھی میں  کانگریس نے جیت حاصل کر کے بی جے پی کو سخت جھٹکا  دیا ہے۔ رائے بریلی سے جہاں راہل گاندھی نے جیت حاصل کی وہیں ا میٹھی سے کابینی وزیر اور بی جے پی امیدوار اسمرتی ایرانی کو شکست دے کر کانگریس کے کشوری لال نے جیت حاصل کی ہے۔ بی جے پی کو سب سے زیادہ یوپی ، مہاراشٹر، ہریانہ، راجستھان اور مغربی بنگال میں نقصان ہوا اور اس کی سیٹیں گزشتہ لوک سبھا انتخابات کے مقابلے کم ہوگئی ہیں۔ 

یوپی میں اکھلیش یادو کی سماج وادی پارٹی نے بی جے پی کو دھول چٹاتے ہوئے 38سیٹوں پر کامیابی حاصل کی وہیں  کانگریس نے 6  سیٹوں پر جیت حاصل کی۔ یوپی میں بی جے پی کو صرف 33سیٹوں پر جیت حاصل ہوئی اور اسے 29 سیٹوں کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ 

مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس نے 29  سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے وہیں بی جے پی کو 12 سیٹیں ہی ملی ہیں اور اسے6  سیٹوں کا نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔

اسی طرح مہاراشٹر میں بھی بی جے پی کو 13  سیٹوں کا نقصان ہوا ہے اور اسے صرف 10 سیٹوں پر کامیابی مل سکی ہے۔

وہیں کرناٹک میں بھی بی جے پی کو   17 اور پارنٹر جے ڈی ایس کو دو سیٹوں پر کامیابی ملی لیکن  7  سیٹوں کا نقصان ہوا ہے۔

ہریانہ میں بھی 10 سیٹوں میں سے بی جے پی کو صرف 5 سیٹیں ہی مل پائی ہیں۔ اور 5 سیٹوں پر کانگریس نے جیت حاصل کی ہے۔

اس دوران کانگریس سمیت اپوزیشن پارٹیوں نے ووٹوں کی گنتی کی ست رفتار پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی مقامات پر گنتی  کی رفتارست کی جارہی ہے۔ یہ اطلاع الیکشن کمیشن کو بھی دی گئی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

کویت آتشزدگی معاملہ؛ مہلوکین کی لاشوں کو لانے طیارہ پہنچے گا کویت

کویت کی عمارت میں لگی آگ سے گذشتہ روز جن 40 سے زائد ہندوستانی ورکروں کی موت ہوئی تھیں، ان کی نعشوں کو ہندوستان لانےکی تیاریاں کی جارہی ہیں، چونکہ مرنے والوں کی بڑی تعداد ریاست کیرالہ سے ہے، کیرالہ کے کوچین انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔

اجیت ڈووال تیسری بار قومی سلامتی مشیر مقرر، پی کے مشرا بھی وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری برقرار

اجیت ڈووال ایک بار پھر ملک کے قومی سلامتی مشیر یعنی نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر (این ایس اے) مقرر کیے گئے ہیں۔ یہ تیسری بار ہے جب انھیں یہ ذمہ داری دی گئی ہے۔ جمعرات کو اس سلسلے میں خبریں سامنے آئیں اور ساتھ ہی یہ خبر بھی موصول ہو رہی ہے کہ پی کے مشرا وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری ...

بی جے پی حکومت سابقہ کانگریس حکومت کے ذریعہ کھولے گئے کالجوں کو بند کرنے جا رہی! اشوک گہلوت

 راجستھان کے سابق وزیر اعلی اور کانگریس کے سینئر لیڈر اشوک گہلوت نے ریاست کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت پر سابقہ ​​کانگریس حکومت کے ذریعہ کھولے گئے کالجوں کو بند کرنے کا الزام لگایا ہے۔

ممبئی میں آئس کریم کے اندر سے کٹی ہوئی انسانی انگلی برآمد، جانچ کے لیے ایف ایس ایل کو بھیجی گئی

کھانوں کے اندر سے چھپکلی، کاکروچ اور کیڑے مکوڑوں کے ملنے کی خبریں تو وقتاً فوقتاً آتی رہتی ہیں مگر اب انسانی اعضا کے ملنے کی بھی خبر آگئی ہے۔ یہ خبر ممبئی سے ہے جہاں ایک خاتون نے دعویٰ کیا ہے کہ آئس کریم کے اندر سے کٹی ہوئی انسانی انگلی نکلی ہے۔ اس خاتون کا کہنا ہے کہ اس نے آن ...

پیما کھانڈو نے تیسری بار اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا

اروناچل بی جے پی کی قانون ساز پارٹی کے لیڈر منتخب ہونے کے ایک روز بعد جمعرات کو پیما کھانڈو نے مسلسل تیسری بار اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لے لیا۔ گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) کے ٹی پرنائک نے وزیر اعلیٰ پیما کھانڈو، نائب وزیر اعلیٰ چونا مین اور دیگر 10 کابینی ...

کیا وزیر اعظم سے ہم تیسری میعاد میں خیر کی اُمید رکھ سکتے ہیں؟ ........... از : ناظم الدین فاروقی

18ویں لوک سبھا الیکشن 24 کے نتائج پر ملک کی ڈیڑھ بلین آبادی اور ساری دنیا کی ازبان و چشم لگی تھیں ۔4 جون کے نتائج حکمران اتحاد اور اپوزیشن INDIA کے لئے امید افزاں رہے ۔ کانگریس اور اس کے اتحادی جماعتوں نے اس انتخابات میں یہ ثابت کر دیا کہ اس ملک میں بادشاہ گر جمہورہیں عوام کی فکر و ...

کاروار: بی جے پی کے کاگیری نے لہرایا شاندار جیت کا پرچم - کانگریس کی گارنٹیوں کے باوجود ووٹرس نے چھوڑا ہاتھ کا ساتھ  

اتر کنڑا سیٹ پر لوک سبھا انتخاب میں بی جے پی امیدورا وشویشورا ہیگڑے کاگیری کی شاندار جیت یہ بتاتی ہے کہ ان کی پارٹی کے سیٹنگ ایم پی اننت کمار اور سیٹنگ رکن اسمبلی شیو رام ہیبار کی بے رخی دکھانے اور انتخابی تشہیر میں کسی قسم کی دلچسپی نہ لینے کے باوجود یہاں ووٹروں کے ایک بڑے حصے ...

بھٹکل میں حل نہیں ہو رہا ہے برساتی پانی کی نکاسی کا مسئلہ - نالیوں کی صفائی پر خرچ ہو رہے ہیں لاکھوں روپئے

برسات کا موسم سر پر کھڑا ہے اور بھٹکل میں ہر سال کی طرح امسال بھی برساتی پانی کی نکاسی کے لئے سڑک کنارے بنائی گئی نالیاں مٹی، پتھر اور کچرے سے بھری پڑی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ مانسون سے قبل برسنے والی ایک دن کی بارش میں پانی نالیوں کے بجائے سڑکوں پر بہنے اور گھروں میں گھسنے ...

بھٹکل میں چل رہی بجلی کی آنکھ مچولی سے  کب ملے گا صارفین کو چھٹکارہ ؟

برسہا برس سے بھٹکل کے عوام کو بجلی کی آنکھ مچولی راحت دلانے کے اقدامات کا اطمینان بخش نتیجہ اب تک نہیں نکلا ہے ۔ عام دنوں کے علاوہ برسات کا موسم میں ذرا سی ہوا اور بارش کے ساتھ  بجلی کا غائب ہونا، کبھی کم اور کبھی تیز بجلی کی سپلائی کی وجہ سے گھروں کے ساز و سامان کا نقصان یہاں کی ...

بھٹکل جالی پٹن پنچایت کی ادھوری عمارت - ضائع ہو رہے ہیں کروڑوں روپئے

تقریباً 9 سال پہلے بھٹکل   جالی گرام پنچایت  کا درجہ بڑھاتے ہوئے اُسے  پٹن پنچایت میں تبدیل کیا گیا تھا مگر آج تک پٹن پنچایت کے دفتر کی عمارت تعمیری مرحلے میں ادھوری پڑی ہے اور اس پر خرچ ہوئے ایک کروڑ روپے ضائع ہوتے نظر آ رہے ہیں ۔