وقف بورڈ چیر مین کے انتخاب سے عین قبل ریاستی بی جے پی حکومت کی شرارت، راتوں رات ضلع وقف کمیٹیاں برخاست اور نئی کمیٹیوں کی تشکیل

Source: S.O. News Service | Published on 23rd January 2020, 12:19 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،23/جنوری(ایس او  نیوز) ریاست کی بی جے پی حکومت کی طرف سے وقف بورڈ کو کھوکھلا کرنے اور اس کے امور میں بے جا مداخلت کرتے ہوئے راتوں رات 25ضلعی وقف کمیٹیوں کو برطرف کرنے اور ان کی جگہ نئی کمیٹیاں تشکیل دیتے ہوئے حکم نامہ جاری کرنے کا تنازع سامنے آیا ہے۔ایسے مرحلے میں جبکہ ریاستی وقف بورڈ کے چیرمین کے انتخاب کا اعلان ہو چکا تھا اور اس عہدے کے لئے نامزدگی داخل کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا تھا ریاستی بی جے پی حکومت کی ایما پر وقف بورڈ کے اڈمنسٹریٹر اے بی ابراہیم اڈور نے ایک من مانی فیصلہ لے کر 25ضلع وقف کمیٹیوں کو برخاست کرتے ہوئے راتوں رات نئی کمیٹیوں کے تقرر کا اعلان کردیا۔21جنور ی کو جاری کئے گئے حکم نامہ میں اڈمنسٹریٹر نے پرانی کمیٹیوں کو ہٹا کر اسی حکم نامے کے تحت نئی کمیٹیوں کے تقرر کا اعلان کردیا ہے۔

ریاستی وقف بورڈ کے لئے نئے چیر مین کے انتخاب سے ایک دن پہلے بورڈ میں ریاستی اقلیتی کمیشن کے چیر مین عبدالعظیم کی آمد اور اس کے بعد تمام ضلع وقف کمیٹیوں کی برطرفی کئی طرح کے شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے۔ وقف بورڈ جو مرکزی ایکٹ کے تحت قائم ایک خود مختار ادارہ ہے اس کے امور میں راست مداخلت کرنے کا ریاستی اقلیتی کمیشن کو اختیار کسی قانون کے تحت نہیں ہے۔ کیا اس طرح کے فیصلوں سے حکومت وقف بورڈکو کام کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ساڑھے تین سال اڈمنسٹریٹر کے تحت رہنے اور متعدد من مانے فیصلوں کے بعد آخر کار وقف بورڈ کی تشکیل ہوئی اور 22جنور ی کو بورڈ کے چیر مین کا انتخاب مقرر کیا گیا۔ یہ جانتے ہوئے کہ اگلے دن بورڈ کے چیر مین کا انتخاب ہونے جا رہا ہے۔ عبدالعظیم کو بورڈ میں ایسا کونسا اہم کام آگیا تھا کہ وہ بورڈ پہنچ گئے۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ ریاستی بی جے پی حکومت کے اشارے پر وہ بورڈ کے اختیارات کو کمزور کرنے کے مقصد سے ضلع وقف مشاورتی کمیٹیوں کی برطرفی اور نئے ممبران کی نامزدگی کو قطعیت دینے کے لئے گئے ہوئے تھے۔ریاستی وقف بورڈ کے لئے بی جے پی نے جن ممبروں کو نامزد کیا ہے ان میں سے ایک نے بورڈ کے چیر مین بننے کے لئے نامزدگی داخل کی اور وہ ناکام ہو گئے۔جیسے ہی کل یہ اشارہ ملا کہ بی جے پی کا چیر مین نہیں بن پا رہا ہے تو اقلیتی کمیشن کے چیر مین نے ضلع وقف مشاورتی کمیٹیوں میں راتو ں رات بی جے پی کے کارکنوں کو بھر دیا۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ریاستی وزیر اقلیتی امور کے دباؤ کی وجہ سے بورڈ کے اڈمنسٹریٹر نے یہ فیصلہ لیا اور بورڈ کی پہلی میٹنگ میں ممبروں کی برہمی پر اڈمنسٹریٹر نے باضابطہ اپنی اس مجبوری کا اظہار بھی کیااور کہا کہ ان کو حکومت کی طرف سے شدید دباؤ کا سامنا تھا اس لئے ان کو ایسا کرنا پڑا۔وقف قانون کی دفعہ 97کے تحت حکومت بورڈ کو صرف ہدایت دے سکتی ہے۔بورڈکے امور میں راست مداخلت کرنے کا حکومت کو کوئی اختیار نہیں۔جس طرح راتوں رات کمیٹیوں کو ہٹایا گیا اور نئی کمیٹیوں کی تشکیل عمل میں لائی گئی اس سے مہاراشٹرا میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے لئے راتوں رات گورنر اور صدر ہند کو جگا کر بی جے پی نے جو ڈرامہ کیا اس کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

زرعی بل کی مخالفت میں کسان تنظیموں کا ملک بھر میں احتجاج؛ کیا اس بل کے خلاف جمعہ کو کرناٹکا بند ہوگا ؟

ملک بھر میں تنازعہ  کھڑا کرنے والے زرعی بل کی سخت مخالفت کرتے ہوئے ایک طرف ملک کی مختلف ریاستوں میں احتجاج کئے جارہے ہیں وہیں   ریاست کرناٹک کے کسانوں کی طرف سے  جمعہ 25 ستمبرکو ریاست گیر سطح پر کرناٹک بند کرنے کے تعلق سے سوچا جارہا ہے۔زرعی بل کو کسانوں کے لئے موت کے منہ میں ...

شموگہ میں زبردست بارش کے نتیجے میں ہوناور کے شراوتی ندی کے اطراف رہنے والوں کے لئے بج گئی خطرہ کی گھنٹی؛ ڈیم سے کسی بھی وقت پانی چھوڑے جانے کی وارننگ

پڑوسی ضلع شموگہ میں زبردست بارش  کے بعد  لنگن مکّی ڈیم میں پانی کی سطح کافی حد تک بڑھ گئی ہے جس کو دیکھتے ہوئے کرناٹکا پاور کارپوریشن (کے پی سی ایل) کی طرف سے  ہوناور تعلقہ کے شراوتی ندی کے اطراف بسنے والوں کے لئے خطرے کا الارم بجا دیا گیا ہے اور ندی کے اطراف بسنے والے دیہات کے ...

سرسی: اسمبلی اسپیکر کے دفتر کے سامنے  دھرنا۔شمالی کینر ا کو تقسیم کرکے سرسی کو علیحدہ ضلع تشکیل دینے کا مطالبہ

عوامی مفادات اور انتظامی سہولیات کے پیش نظر ضلع شمالی کینرا کو تقسیم کرکے الگ سے سرسی ضلع تشکیل دینے اور بنواسی کو تعلقہ کا درجہ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کل 21ستمبر کوسرسی ضلع ہوراٹا سمیتی نے احتجاجی ریالی  نکالی اوراسمبلی اسپیکروشویشور ہیگڈے کاگیری کے دفتر کے باہر  دھرنا ...

کاروار: سابق وزیر آنند اسنوٹیکر کے سامان میں پستول۔ بنگلورو ایئر پورٹ پر تفتیش کے بعد جانے کی دی گئی اجازت

بنگلورو سے بذریعہ ہوائی جہاز گوا ہوتے ہوئے کاروار کے لئے نکلے سابق وزیر اور جنتا دل لیڈر آنند اسنوٹیکر کو سنٹرل انڈسٹریل سیکیوریٹی فورس  نے سنیچر کو  بنگلورو ایئر پورٹ پراپنی تحویل میں لیا گیا تھا  کیونکہ ان کے سامان میں پستول  موجود تھا جسے ساتھ لے جانے کی اجازت انہوں نے ...