کرناٹک: 16 اضلاع میں کورونا کیسز میں اضافہ، کرسمس تقریب پر پابندی کا اندیشہ

Source: S.O. News Service | Published on 6th December 2021, 8:48 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،6؍دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) کرناٹک کے 16 اضلاع میں دسمبر کے پہلے ہفتہ میں نئے کووڈ معاملوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ حال کے دنوں میں 500 سے زیادہ طلبا پازیٹو پائے گئے ہیں، جو افسران کے لیے فکر انگیز بات ہے۔ محکمہ صحت کے ذرائع نے کہا کہ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو نئے سال اور کرسمس کے جشن کے دوران پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔ نومبر کے پہلے ہفتہ تک کووڈ کے معاملوں میں گراوٹ آ رہی تھی اور مہاراشٹر کی سرحد سے لگے ضلعوں سمیت کئی اضلاع میں صفر معاملے درج کیے گئے تھے، جس سے پابندیوں کو پوری طرح سے ہٹانے کا راستہ ہموار ہوا۔ حالانکہ ریاستی حکومت نے حالات سے نمٹنے کے لیے پھر سے پابندی لگا دی ہے۔

محکمہ خاندانی فلاح و صحت کے مطابق کوڈاگو، ہاویری، چکابلاپور، منڈیا، میسورو، داونگیرے اور شمالی کنڑ اضلاع میں کووڈ کے معاملے زیادہ درج کیے گئے۔ دیگر اضلاع میں بہت کم یا ایک ہندسہ والے کووڈ معاملے درج کیے گئے ہیں۔ لیکن ان سبھی اضلاع میں کووڈ کے معاملے بڑھ رہے ہیں جہاں حالات پوری طرح قابو میں ہیں اور یہ اضافہ چار گنا ہے۔

گزشتہ ہفتہ (18 سے 25 نومبر) کے مقابلے میں 26 نومبر سے 3 دسمبر کے درمیان 2202 معاملے درج کیے گئے تھے۔ 19-12 نومبر تک کووڈ معاملوں کی تعداد 1588 تھی۔ محکمہ صحت کے پاس دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 15 دنوں میں معاملوں میں 25 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ شیوموگا اور کوپل اضلاع میں چار گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ شیوموگا نے 25-18 نومبر کے درمیان 28 کووڈ معاملوں کی اطلاع دی۔ یہ 26 نومبر سے 3 دسمبر تک بڑھ کر 86 ہو گیا، جس میں 430 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔ اسی طرح کوپل، جس نے 25-18 نومبر تک صفر معاملے درج کیے، نے 26 نومبر سے 3 دسمبر کے درمیان چار معاملے درج کیے۔ اسی مدت میں بنگلورو شہر میں کووڈ کے معاملے 995 سے بڑھ کر 1167 ہو گئے۔

محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی نے کہا ہے کہ حکومت کے سامنے سرگرمیوں اور تقاریب پر پابندی لگانے کا کوئی ایجنڈا نہیں تھا۔ حالانکہ انھوں نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں ریاست کے حالات کا تجزیہ کرنے کے بعد مناسب فیصلہ لیا جائے گا۔

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی کو ترقی کا مطلب ہی معلوم نہیں ہے: رام لنگاریڈی

بی جے پی حکومت کے سربراہ ملک کی ترقی کے بارے میں سوچنے کی بجائے سرکاری ملکیت والے اداروں کو پرائیوٹائز کرنے اور صنعت کار ادانی اورامبانی کو مزید دولتمند بنانے میں لگے ہوئے ہیں،جس سے ملک کے عوام کو کئی مشکلو ں کا سامناکرناپڑرہاہے۔بی جے پی کو ترقی کا مطلب ہی معلوم نہیں ہے۔یہ بات ...

اس ملک کوبی جے پی نے کیا دیاہے؟: سابق وزیراعلیٰ سدارامیا

کانگریس پارٹی نے اس ملک کو آزادی دلائی اور ہمیں یہاں آزادی سے زندگی گزارنے کا موقع دیاہے،مگر اس ملک کیلئے بی جے پی جیسی بدعنوان اور فرقہ پرست پارٹی نے کیا دیاہے؟یہ سوال سابق وزیراعلیٰ و اپوزیشن لیڈرسدارامیانے کیا۔

جشن آزادی کی مناسبت سے75الیکٹرک بسیں دوڑانے کافیصلہ، بنگلورو شہرکے بس اسٹانڈوں میں 300چارجنگ اسٹیشن قائم کئے جائیں گے: بی ایم ٹی سی

آزادی کے75سال کی منا سبت سے منائے جا رہے امرت مہا اتسو کے موقع پر بنگلور شہر کے مسافروں کیلئے بنگلور میٹرو پالیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن(بی ایم ٹی سی)نے مزید 75 الیکٹرک بسوں کو سڑکوں پر دوڑانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ریاستی حکومت عوام پرورمنصوبے جاری کرنے میں ناکام:کانگریس

)مہا دیو پورہ اسمبلی حلقہ کے منوکولا لو وارڈ کے سابق کانگریس کارپوریٹر ایس،ادے کمار نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت اپنے دوراقتدار کے دوران عوامی مفادات پروگرامس کو جاری کرنے میں نا کام رہی ہے،اور وہ ترقیاتی کاموں پر توجہ دینے کے بجائے 40فیصد کمیشن کے دھندہ کو اپناتے ہو ئے ...