کرناٹک کے عوام پر حکومت کا ایک اور وار بجلی کے نرخوں میں اضافہ، یکم اپریل سے نافذ

Source: S.O. News Service | Published on 10th June 2021, 11:10 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،10؍جون(ایس او  نیوز)ایسے مرحلہ میں جبکہ ریاست کے عوام کورونا وائرس کی دوسری لہر کے قہر اور لاک ڈاؤن کی مار سے بدحال ہیں ریاستی حکومت نے ان پر ایک اور وار کرتے ہوئے بجلی کے نرخوں میں اضافہ کا اعلان کردیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اضافہ یکم اپریل 2021سے ہی لاگومانا جائے گا۔ریاستی حکومت نے فی یونٹ بجلی کی قیمت میں 30پیسے کااضافہ کردیا۔

بتایا جاتا ہے کہ کرناٹکا اینرجی ریگولیٹری کمیشن نے ان اضافوں کا اعلان کیا ہے۔ بجلی کمپنیوں کی طرف سے کمیشن کے سامنے یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ فی یونٹ بجلی کی قیمت میں کم از کم 1.50روپے کا اضافہ کیا جائے۔ کمیشن نے بتایا ہے کہ اس سلسلہ میں عوام کی طرف سے اعترا ضات سننے کے بعد کمیشن نے نرخ میں صرف 30پیسہ فی یونٹ اضافہ کا فیصلہ کیا ہے۔

کمیشن کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بجلی کمپنیوں نے انہیں ہو رہے خسارے کا حوالہ دے کر مانگ کی تھی کہ نرخوں میں اضافہ کیا جائے۔ لیکن کمیشن نے ان کمپنیوں سے کہہ دیا کہ وہ اپنے خسارے کی بھرپائی کیلئے حکومت کی طرف سے واجب الادا بقایاجات کی وصولی کرلیں۔ کمیشن نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ بھاگیہ جیوتی اور دیگر فلاحی اسکیموں کے ذریعے جو بجلی فراہم کی جا رہی ہے اس کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔ 10/ ایچ پی تک کی بجلی استعمال کرنے والے زرعی پمپ سیٹوں کو مفت بجلی کی فراہمی کا سلسلہ برقرار رکھا گیا ہے۔

کمیشن نے کہا ہے کہ اپریل کیلئے نرخوں میں جو اضافہ کیا گیا ہے اس کی وصولی اکتوبر یا نومبرمیں کرنے کی ہدایت دی ہے۔ نرخوں میں اضافہ کے فیصلہ کا دفاع کرتے ہوئے کمیشن نے کہا ہے کہ مارچ کے دوران ہی ان نرخوں میں اضافہ کیا جانا تھا لیکن الیکشن کمیشن کی طرف سے ضمنی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کردئیے جانے کے سبب اس اضافہ کو مؤخر کرنا پڑا تھا۔

کورونا کے اس دور میں اِضافہ کے متعلق کمیشن نے کہا ہے کہ کورونا وائرس اوراس سے جڑے بحران کی زد میں دنیا کا ہر شعبہ آیا ہے۔کمیشن نے بتایا ہے کہ بجلی کمپنیاں اس سے مستثنیٰ نہیں۔ ان کمپنیوں کو بھی بھاری خسارہ ہوا ہے اس کے باوجود بھی نرخوں میں صرف معمولی اضافہ کیا گیا ہے۔

کمیشن کے مطابق صنعتی بجلی کی نرخ میں فی یونٹ 10پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے اور رات 10بجے سے صبح 6بجے تک بجلی کی کھپت پر جو رعایت دی جا رہی تھی وہ ختم کردی گئی ہے۔گھریلو بجلی استعمال کرنے والوں کیلئے بجلی کے سلیب میں تبدیلی لائی گئی ہے۔پہلے سلیب کو 30یونٹ سے بڑھا کر 50یونٹ کردیا گیا ہے۔

ریاستی حکومت کی طرف سے کورونا کی اس مصیبت اور لاک ڈاؤن کے سبب عوام کو درپیش پریشانی کی پروا کئے بغیر بجلی کی نرخوں میں جو اضافہ کیا گیا ہے اس کی اپوزیشن کانگریس نے شدید نکتہ چینی کی ہے اورحکومت کے اس قدم کو انسانیت سے عاری قرار دیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

میسورو میں ’ڈیلٹا پلس‘ فارم کا پہلا کیس سامنے آیا

میسورو میں کورونا وائرس سے متعلق ’ڈیلٹا پلس‘ شکل کا پہلا کیس سامنےآیا ہے۔ تاہم متاثرہ شخص کو اس مرض کی کوئی علامت نہیں ہے اور جو بھی اس کے ساتھ رابطہ میں آیا ہے وہ انفکیشن میں نہیں ہے۔ ریاستی وزیر صحت ڈاکٹر کے سدھاکر نے یہ جانکاری دی۔ 

سابق وزیر اعظم دیو ےگوڑا پر 2 کروڑ روپے جرمانہ عائد

ریاست کرناٹک کی بنگلورو کی ایک عدالت نے 10 سال قبل ٹیلی ویژن انٹرویو میں نندی انفراسٹرکچر کوریڈور انٹرپرائزز (نائس لمیٹڈ) کے خلاف توہین آمیز بیانات دینے پر سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا کو کمپنی کو 2 کروڑ روپے ہرجانے کے طور پر ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔

کرناٹک میں مزید 4 اضلاع اَن لاک کی رعایتیں، دوپہر تک دکانیں کھولنے کی اجازت

کووڈ۔19 کا پھیلاؤ کم ہونے کے  سبب  مزید 4 اضلاع میں حکومت نے اَن لاک کی رعایتیں دی ہیں، یہاں کووڈ پازیٹیو معاملات کی شرح 5 فیصد سے کم ہوگئی ہے۔ دکشن کنڑا، ہاسن، داونگیرے اور چامراج نگر میں صبح 6 بجے تا دوپہر 1 بجے تک ضروری اشیا کی خریداری کے لئے دکانیں کھلی رکھنے کی اجازت دی گئی ...

بنگلور کے جے ہلّی اور ڈی جے ہلّی تشدد معاملے میں اے پی سی آر کی کوششوں سے چار لوگوں کو ملی ضمانت

گذشتہ سال اگست میں  بنگلور کے ڈی جے ہلّی اور کے جے ہلّی میں ہوئے تشدد کے واقعات    اور رکن اسمبلی  اکھنڈ شری نواس مورتی کے مکان  کو آگ لگانے کے معاملے  میں گرفتار  رحمان خان اور محمد عدنان سمیت چار لوگوں  کو کرناٹک ہائی کورٹ  نے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔