کرناٹک میں مندر گرانے کے معاملے پر کانگریس اور جے ڈی ایس نے بی جے پی کو گھیرا

Source: S.O. News Service | Published on 16th September 2021, 12:22 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو، 16؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) کرناٹک میں مندر گرانے کے معاملے پر اب سیاست گرم ہوگئی ہے۔ ریاست کی بی جے پی حکومت اب اپوزیشن کانگریس اور جے ڈی ایس کے نشانے پر آگئی ہے۔ دراصل سپریم کورٹ کے حکم کے تحت میسور کے ننجن گوڈ میں واقع ایک مندر پر کارروائی کی گئی، جس پر اپوزیشن نے بی جے پی پر ہندوؤں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام لگایا ہے۔ مندر کو نقصان پہنچانے کے معاملے پر بی جے پی بری طرح گھری ہوئی ہے، چونکہ اس وقت اسمبلی کی کارروائی بھی جاری ہے، اس لیے اپوزیشن نے اس معاملے پر بی جے پی کو گھیرنے کی حکمت عملی بنائی ہے۔ بتادیںکہ سپریم کورٹ نے اپنے ایک حکم میں 2009 کے بعد غیر قانونی طور پر بنائے گئے ہر مذہبی مقام کو مسمار کرنے کا حکم دیا تھا، ریاست کے چیف سکریٹری پی روی کمار نے یکم جولائی 2021 کو کرناٹک کے تمام اضلاع کے ڈی ایم کو ایک خط لکھا تھا۔ اس خط میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ضلعی انتظامیہ اور میونسپل کارپوریشنز کو ہر ہفتے کم از کم ایک غیر قانونی تعمیر کو مسمار کرنا پڑے گا۔ اس خط میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ کرناٹک میں عوامی مقامات پر بنائے گئے ایسے غیر قانونی مذہبی مقامات کی کل تعداد 6395 ہے۔ سال 2009 تک یہ تعداد 5688 تھی اور پچھلے 12 سالوں میں تقریبا 2887 مذہبی مقامات کو یا تو ہٹا دیا گیا یا دوسری جگہ منتقل کردیا گیا۔کرناٹک کے جنوبی کنڑا ضلع میں سب سے زیادہ 1579 غیر قانونی مذہبی ڈھانچے ہیں، جبکہ شیموگہ میں  740، بیلگاوی میں 612، کولار میں 397، باگل کوٹ میں 352، دھارواڑ میں 324، میسورو میں 315 اور کوپل میں 306 ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

ہبلی میں مبینہ تبدیلی مذہب کی مخالفت کرتے ہوئے شدت پسند ہندو تنظیموں کے کارکنوں نے چرچ کے اندر گھس کر گایا بھجن

ہبلی میں تبدیلی مذہب کی مخالفت کرتے ہوئے ہندو شدت پسند تنظیموں کے کارکنوں نے ایک چرچ کے اندر گھس کر بھجن گانا شروع کردیا جس کی وائرل ہونے والی ویڈیو میں درجنوں مرد و خواتین کو دیکھا گیا ہے کہ وہ کس طرح ہبلی کے بیری ڈیوارکوپا چرچ کے اندر بیٹھے ہاتھ جوڑ کر بھجن گارہے ہیں۔

ایڈی یورپاکی عوامی تحریکوں میں کروبا طبقے کاتعاون اہم رہاہے:راگھویندرا

تعلقہ میں بی ایس ایڈی یورپاکے تمام عوامی وفلاحی تحریکوں میں کروبا طبقہ کا تعاون اہم رہاہے،اس کے بدلے میں ایڈی یورپانے بھی اپنے دور اقتدار میں طبقے کی ترقی کیلئے جتنابھی ممکن ہوسکے کام کیا اور ہر طرح سے امداد فراہم کی۔یہ بات رکن پارلیمان بی وائی راگھویندرانے کہی۔

جے ڈی ایس ہی مسلمانوں کو سیاسی مستقبل کی ضمانت دے سکتی ہے: محیط الطاف

ریاستی اسمبلی میں اس وقت مسلم نمائندگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے جے ڈی ایس لیڈر ونئی دہلی میں سابق خصوصی نمائندہ برائے کرناٹک ڈاکٹر سید محیط الطاف نے آج کہا کہ ریاست کرناٹک میں 45اسمبلی حلقے ایسے ہیں جہاں اگر مسلمان متحد ہوکر کام کریں تو مسلم امیدوار منتخب ہوسکتے ہیں اور 75اسمبلی ...

بنگلورومیں بارش کے ساتھ ڈینگی معاملات میں اضافہ، 15دنوں میں 177نئے کیس سمیت جملہ 717متاثرین

راجدھانی بنگلورومیں بارش کی مقدارمیں اضافہ ہوتاجارہاہے،سلسلہ وارحادثات بھی پیش آرہے ہیں،ا س کے ساتھ ڈینگی بخار کے معاملات میں اضافہ ہورہاہے۔برساتی موسم سے پہلے یعنی ماہ مئی میں 102ڈینگی معاملات دکھائی دئے تھے،اکتوبر میں اس تعدادمیں 717تک اضافہ ہوگیا،گزشتہ 15دنوں کے دوران ...