عیسائی مذہب اختیار کرنے والی بی جے پی رکن اسمبلی کی والدہ ہندو مذہب میں واپس

Source: S.O. News Service | Published on 11th October 2021, 11:12 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،11؍اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) کرناٹک کے چتردرگ ضلع سے بی جے پی کے رکن اسمبلی گلی ہٹی شیکھر کی والدہ سمیت چار کنبوں نے عیسائی مذہب سے پھر ہندو مذہب میں واپسی کی ہے۔ شیکھر نے چتردرگ کے نزدیک صحافیوں کو بتایا کہ میری ماں سمیت چار کنبوں کے اراکین نے عیسائی مذہب اختیارکرنے کے بعد واپسی کی ہے۔ انہوں نے آخرکار اپنی غلطی درست کرلی ہے۔

شیکھر نے کہا کہ جن کنبوں نے ہندو مذہب میں اپنی واپسی کی ہے، انہوں نے پیر کو مندر میں پہلے پوجا ارچنا کی اور ہندو مذہب کو پھر سے اپنانے کے اپنے فیصلے پر خوشی ظاہر کی ہے۔ شیکھر نے بتایا کہ ان لوگوں کو بہکایا گیا تھا اور انہیں ان کی سچی آستھا میں واپس لانے کے لئے انہیں کافی محنت کرنی پڑی ہے۔

ریاستی اسمبلی کے مانسون اجلاس میں یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے شیکھر نے دعوی کیا تھا کہ ان کی والدہ سمیت 20,000 سے زیادہ لوگوں کوعیسائی مذہب میں منتقل کرایا گیا تھا۔ مذہب تبدیلی کو ایک ’قومی مسئلہ‘ اور لوگوں کو تقسیم کرنے کی سازش قرار دیتے ہوئے انہوں نے اس پر لگام کسنے کے مدنظر ایک بل کو منظوری دیئے جانے کی بات کہی۔

ایک نظر اس پر بھی

گدگ ضلع کے نرگند میں قتل کئے گئے مسلم نوجوان کے قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جائے: سی ایم ابراہیم

کرناٹک کے سابق وزیر ورکن کونسل سی ایم ابراہیم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گدگ ضلع کے نرگند میں شرپسندوں کے ہاتھوں ہلاک مسلم نوجوان کے ورثاء کو 10لاکھ روپئے کا معاوضہ ادا کیا جائے۔ شرپسندوں کو فوری گرفتار کرے اور انہیں اس معاملہ کی جانچ پڑتال کرے۔

کرناٹک میں مسلم نوجوان کے بہیمانہ قتل کی اخلاقی ذمہ داری قبو ل کرتے ہوئے وزیر داخلہ کو استعفی دینا چاہئے: ایس ڈی پی آئی

سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا   کے ریاستی صدر عبدالمجید میسور نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں  نرگند  میں سنگھ پریوار کے دہشت گردوں کے ہاتھوں ایک مسلم نوجوان سمیر کے قتل کو بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے اور اس قتل میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا ...