زیادہ فیس وصول کرنے والے نجی انجینئرنگ کالجوں کے خلاف کارروائی آئندہ سال سے سی ای ٹی امتحان آن لائن کے ذریعہ ہوگا: جی ٹی دیوے گوڈا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 27th May 2019, 11:05 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،27؍مئی (ایس او نیوز) ریاستی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم جی ٹی دیوے گوڈا نے بتایا کہ سال 2020 سے ریاست بھر میں سی ای ٹی امتحان بذریعہ آن لائن منعقد کیا جائے گا- کرناٹک ایگزامنیشن اتھارٹی (کے ای اے) دفتر میں سی ای ٹی نتائج جاری کرتے ہوئے جی ٹی دیوے گوڈا نے یہ جانکاری دی ہے- انہوں نے بتایا کہ نیٹ طرز پر ہی انجینئرنگ اور دیگر پیشہ وارانہ کورسس کے لئے آن لائن امتحانات منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے- اور آن لائن امتحان مناسب ڈھنگ سے منعقد کرنے قومی امتحانی ادارہ کے ساتھ بات کی گئی ہے- انہوں نے بتایا کہ سی ای ٹی امتحان لکھنے والے طلبہ کی تعداد زیادہ رہنے کی وجہ سے نیٹ طرز پر چار تا پانچ مرحلوں میں سی ای ٹی امتحان منقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لئے تیاریاں کی جائیں گی- انہوں نے بتایا کہ یہ بات سننے میں آرہی ہے کہ آن لائن سی ای ٹی امتحان سے دیہی طلبہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اس لئے دیہی طلبہ کی سہولت کے لئے ریاست بھر میں پی یو کالجوں اور فرسٹ گریڈ کالجوں میں تربیتی مراکز قائم کئے جائیں گے- جہاں طلبہ کو سی ای ٹی آن لائن کے تعلق سے تربیت دی جائے گی- انہوں نے بتایا کہ دیہی طلبہ کو ماس ٹسٹ بھی کرایا جائے گا جس سے انہیں امتحان کی تیاری میں آسانی ہوگی-جی ٹی ڈی نے بتایا کہ انجینئرنگ، نیچوروپیتھی، یوگا سائنس، بی ایس سی، اگریکلچر، ویٹرنیری میڈیسن، اور بی ڈی فارما میں پہلے 5مقام حاصل کرنے والے طلبہ کی کالج فیس کے ای ٹی واپس ادا کرے گی- ان طلبہ کی کورس مکمل ہونے تک سالانہ فیس کالجوں کے لئے کے ای ٹی کی جانب سے ہی ادا کی جائے گی- انہوں نے بتایا کہ سی ای ٹی رینک حاصل کرنے والے طلبہ کے دستاویزات کی جانچ بنگلور سنٹرل دفتر سمیت ریاست کے 28 مراکز میں کی جائے گی- جبکہ داونگرے، بلاری، رائچور، کلبرگی، وجئے پور، بیلگاوی، دھارواڑ، کاروار، شیموگہ، منگلورو، ہاسن، ٹمکور، میسورو، بیدر، کوپل، چترادرگہ، مڈیکیری، چامراج نگر، منڈیا، رام نگرم، اور کولار میں معاون مراکز میں دستاویزات کی جانچ کروائی جاسکتی ہے- انہوں نے بتایا کہ انجینئرنگ فیس مقرر کی گئی ہے جس میں 10فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور نجی کالجوں میں طلبہ سے زیادہ فیس وصول نہ کرنے تاکید کی جائے گی اور زیادہ فیس وصول کرنے والے کالجوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی- دیوے گوڈا نے بتایا کہ کے ای ٹی سی میں تقریباً 260کروڑ روپئے موجود ہیں لیکن ان کے استعمال کیلئے بائلا میں چھوٹی تبدیلی ضروری ہے جس کے بعد موجود گرانٹ کا استعمال سرکاری انجینئرنگ کالجوں کی ترقی کے لئے کیا جائے گا- انہوں نے بتایا کہ چند باوقار نجی انجینئرنگ کالجوں میں مینجمنٹ کوٹہ کی سیٹیں لاکھوں روپیوں میں فروخت کئے جانے کی شکایات موصول ہورہی ہیں - لیکن نجی انجینئرنگ کالجوں میں دستیاب سیٹوں اور ان کے فیس کے مناسب کی جانکاری فراہم کرنا ضروری ہے- انہوں نے کہا کہ نجی کالجوں کی من مانی پر قابو پانے ایک قانون مرتب کیا جائے گا-

ایک نظر اس پر بھی

بنگلورو کی خواتین اب بھی ”گلابی سارتھی“ سے واقف نہیں ہیں

بنگلورو میٹرو پالیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن (بی ایم ٹی سی) نے اسی سال جون کے مہینہ میں خواتین کے تحفظ کے پیش نظر اور ان پر کی جانے والے کسی طرح کے ظلم یا ہراسانی سے متعلق شکایت درج کرانے اور فوری اس کے ازالہ کے لئے 25 خصوصی سواریاں جاری کی تھی جنہیں ”گلابی سارتھی“ کا نام دیا گیا،

بی ایم ٹی سی کے رعایتی بس پاس کے اجراء کی کارروائی اب بھی جاری مگر کارپوریشن نے اب تک 38,000 درخواستیں مسترد کی ہے

بنگلور میٹرو پالیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن (بی ایم ٹی سی) نے طلباء کی طرف سے رعایتی بس پاس حاصل کرنے کے لئے داخل کردہ کل 38,224 درخواستوں کو اب تک رد کر دیا ہے اور اس کے لئے یہ وجہ بیان کی گئی ہے کہ ان کے تعلیمی اداروں کی طرف سے ان طلباء کی تفصیلات مناسب انداز میں فراہم نہیں کی گئی ہیں۔