مودی کے بھونیشور دورے سے پہلے بی جے پی کارکن کا گولی مار کر قتل

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 15th April 2019, 10:46 PM | ملکی خبریں |

بھونیشور،15 اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا انتخابات کی جنگ جیتنے کے لئے رہنماؤں میں زبانی جنگ تو جاری ہے ہی ساتھ ہی سیاسی تشدد کے معاملے بھی سامنے آ رہے ہیں۔اڑیسہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کی ریلی سے پہلے یہاں پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکن کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا ہے۔کھوردھا بورڈ کے چیئرمین مگلی جیناکو دو موٹر سائیکل سواروں نے گولی مار دی، بی جے پی نے اب اس کی مخالفت میں بند بلایا ہے۔بتا دیں کہ اس بار اڑیسہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور بیجو جنتا دل کے درمیان براہ راست جنگ ہے۔اس دوران سیاسی تشدد کی بات سامنے آنا حیران کن ہے۔بی جے پی منڈل صدر کے قتل کے پیچھے کیا مقصد تھا، اس بارے میں ابھی تک کچھ واضح طور پر نہیں کہا جا سکتا۔پولیس اس واقعے کی تحقیقات میں لگ گئی ہے۔بی جے پی نے پیر کی صبح 8 سے دوپہر 2 بجے تک کھوردھا بند کا اعلان کیا تھا۔مگلی جیناکی ماضی میں بڑاپوکھریا گاؤں کے سرپنچ بھی رہ چکے ہیں۔ان کے قتل کئے جانے کے بعد بی جے پی کارکنوں نے پولیس اسٹیشن پر دھرنا دیا،جس کے بعد ہی علاقے کے حالات حساس بنے ہوئے ہیں۔مقامی پولیس نے بھی گاؤں کے ارد گرد فورس کو تعینات کیا ہے۔بتا دیں کہ 16 اپریل کو ہی وزیر اعظم نریندر مودی کو اڑیسہ کے بھونیشور میں انتخابی ریلی سے خطاب کرنا ہے۔وزیر اعظم یہاں ایئر پورٹ سے لے کر ریلی کے مقام تک ایک بڑا روڈ شو بھی کریں گے۔بھونیشور کھوردا ضلع میں ہی آتا ہے۔اڑیسہ میں کل 21 لوک سبھا سیٹیں ہیں، ریاست میں اس بار لوک سبھا کے ساتھ اسمبلی کا بھی انتخاب ہو رہا ہے۔بی جے پی اس بار جارحانہ اندازمیں یہاں انتخابات لڑ رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ پی ایم مودی، امت شاہ مسلسل ریاست کے دورے کر رہے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

پاکستان جب تک دہشت گردی کے خلاف مؤثرکاروائی نہیں کرتا، ایئر اسٹرائک جیسے قدم اٹھاتے رہیں گے: وزارت دفاع

وزارت دفاع نے دو ٹوک کہا ہے کہ جب تک پاکستان دہشت گرد گروپوں کے خلاف قابل اعتماد کارروائی نہیں کرتا، تب تک ہندوستان اپنی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے سخت اقدامات اٹھاتا رہے گا۔