ہائی کورٹ نے حکومت سے کہا؛ ٹیپو جینتی منسوخ کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کرے: حکومت کے اقدام پر چیف جسٹس سخت برہم

Source: S.O. News Service | Published on 7th November 2019, 10:54 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو 7؍نومبر(ایس او  نیوز) کرناٹک ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے کہا ہے کہ وہ ٹیپو سلطان جینتی تقریبات کو منسوخ کردینے سے متعلق اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے- تاہم عدالت نے اس مرحلے میں حکو مت کے اس فیصلے پر روک لگانے سے انکار کردیا -

اترپردیش کے لکھنو کے ایک ساکن بلال علی شاہ، ٹیپو سلطان یونائٹیڈ فرنٹ اور ٹیپو راشٹریہ سیوا سنگھا کی طرف سے دائر ایک مفاد عامہ عرضی کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس ابھئے سرینواس اوکا کی قیادت والی ڈویژنل بنچ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملہ میں تمام امور کا اگلے دو ماہ میں جائزہ لے- عدالت نے اس معاملے میں سماعت جنوری 2020تک ملتوی کردی-

عدالت نے تبصرہ کیا کہ ہائی کورٹ نے پہلے ہی یہ واضح کردیا ہے کہ نجی تنظیموں کی طرف سے ٹیپو سلطان جینتی منانے پر کوئی روک نہیں ہے- ان کے لئے حکومت کی جانب سے حفاظتی بندوبست مہیا کروانا ہوگا- اس سے قبل ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے ٹیپو سلطان جینتی کی منسوخی سے متعلق وجہ دریافت کی تو اس مرحلے میں ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل پربھو لنگا نوادگی نے عدالت کو بتایا کہ سابقہ حکومت کی طرف سے ٹیپو سلطان جینتی کے اہتمام کا سلسلہ شروع کیا گیا-پہلے سال ہی جینتی کے دوران فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑا اور ایک شخص کی موت ہو گئی- اس کے بعد اگلے سال جینتی کا اہتمام سخت حفاظتی بندوبست میں کرنا پڑا- اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکومت نے ٹیپو سلطان جینتی کے اہتمام کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا-

ٹیپو سلطان جینتی کے اہتمام کو منسوخ کرنے کے متعلق ریاستی حکومت کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے 28شخصیات کی جینتی کا اہتمام کیا جاتا ہے لیکن صرف ٹیپو سلطان جینتی کو منسوخ کرنے کا فیصلہ افسوس ناک ہے- اس سے صاف ظاہر ہو تا ہے کہ حکومت کا یہ فیصلہ تعصب پر مبنی ہے - انہوں نے کہا کہ حکومت کو اگر اپنی پالیسی میں کوئی تبدیلی لانی ہے تو وہ کرسکتی ہے لیکن اس کے لئے ایک ضابطہ متعین ہونا چاہئے- اچانک حکومت کی طرف سے جینتی منسوخ کرنے کا فیصلہ درست نہیں -

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اس سے پہلے کرناٹکا راجیوتسوا کے اہتمام کے مرحلے میں بھی پرتشدد واقعات پیش آئے ہیں لیکن اس کی وجہ سے راجیہ اتسوا کا اہتمام منسوخ نہیں ہوا بلکہ اس کا سلسلہ جاری ہے- پھر ٹیپو سلطان جینتی کے متعلق حکومت نے عجلت میں فیصلہ کیوں کیا؟

ایک نظر اس پر بھی

کیا کرناٹک کے وزیراعلیٰ یڈی یورپا کے خلاف بغاوت کے پیچھے ایک مرکزی وزیر کا ہاتھ ہے؟ کیا ریاست کی کمان کسی اور کو سونپنے کے لئے ہورہی ہیں کوششیں ؟

کرناٹک بی جے پی میں وزیر اعلیٰ یڈی یورپا کے خلاف 27 اراکین اسمبلی کی طرف سے شروع کی گئی بغاوت کو ایک مرکزی وزیر کی طرف سے ہوا دیئے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

کرناٹک میں عبادت گاہیں یکم جون نہیں ، 8؍ جون کو کھلیں گی۔ ریاستی حکومت نے سابقہ فیصلہ واپس لیا، مساجد کے متعلق وقف بورڈ سے رہنما خطوط ایک دو دن میں

کرناٹک بھر میں ریاستی حکومت کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ چوتھے لاک ڈاؤن 31 ؍ مئی کو ختم ہوتے ہی ریاست بھر میں یکم جون سے تمام عبادگاہوں کو کھول دیا جائے گا۔

ساحلی کرناٹکا میں رُکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں کورونا معاملات؛ مینگلور میں دو دنوں میں 28 اور اُڈپی میں 23 معاملات؛ آج اُترکنڑا میں بھی پانچ پوزیٹو

مہاراشٹرا سے واپس آنے والوں میں  جس طرح کرناٹک کے دیگر اضلاع میں کورونا کے معاملات میں  تشویشناک حدتک اضافہ دیکھنے میں آرہاہے، اُسی طرح  ساحلی کرناٹکا کے اضلاع  اُترکنڑا، اُڈپی اور دکشن  کنڑا میں بھی کورونا کے معاملات میں روز بروز اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

ریاستی بی جے پی حکومت میں میں بغاوت کے آثار، سرگرمیاں تیز ؛ جگدیش شٹر یا پرہلاجوشی کو وزیر اعلیٰ بنانے دو مختلف دھڑوں کی لابی

بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی ) میں دل بدلی کر کے آنے والوں سے پارٹی کے بنیادی ورکرس اور قائدین کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے، جس کی وجہ سے حکومت پھر ایک مرتبہ ڈانواں ڈول نظر آرہی ہے ۔ یہ بات کے پی سی سی کے کارگزار صدر شیش جارکی ہولی نے کہی۔

مرکزی اور ریاستی بی جے پی حکومتیں کورونا وائرس سے نپٹنے میں ناکام ؛ رام مندر سپریم کورٹ کے فیصلہ سے بن رہا ہے ، مودی اپنے سر سہرانہ بنادھیں : کانگریس

کرناٹک میں کانگریس نے کہا ہے کہ اس ملک کو ترقی کی راہ پر لانے کے لئے پچھلے 50 سال کے دوران جو محنت ہوئی تھی مودی نے اپنے 6 سالہ دور اقتدار میں اس ساری محنت پر پانی پھیر دیا ہے اور ملک کو انہوں نے اسی مقام پر پہنچا دیا ہے جب ملک کی حیثیت صفر تھی ۔کے پی سی سی صدر ڈی کے شیو کمار اور ...