چامراج پیٹ میں ناکامی کے بعد ہبلی عیدگاہ میدان میں گنیش اتسو منانے کی ملی اجازت؛ مسلم عبادتگاہوں پر کیوں ہے نظر ؟

Source: S.O. News Service | Published on 31st August 2022, 1:01 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو 31 اگست(ایس او نیوز) بینگلور کے چامراج پیٹ عیدگاہ میدان میں بھلے ہی گنیش تہوار منائے جانے کے اجازت نامے پر سپریم کورٹ نے روک لگادی ہو، مگر ہندو شدت پسندوں کو مسلمانوں کے دوسرے عبادت گاہ یعنی ہبلی عیدگاہ میدان میں گنیش تہوار منانے کرناٹک ہائی کورٹ نے گرین سگنل دے دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی شدت پسند تنظیموں کے کارکنوں کے حوصلے پھر ایک بار بلند ہوتے نظر آرہے ہیں۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق منگل کے روز ہبلی میں واقع عیدگاہ میدان میں کرناٹک ہائی کورٹ نے کچھ شرائط کے ساتھ گنیش چترتھی کا تہوار منانے کی اجازت دی ہے۔ دیر رات سنائے گئے اس فیصلہ میں ہائی کورٹ نے ہبلی کے عیدگاہ میدان میں گنیش چترتھی منانے کے لیے دھارواڑ بلدیاتی ادارہ کی طرف سے دی گئی اجازت کو چیلنج کرنے والی عرضی کو مسترد کر دیا۔ اس معاملہ پر سماعت جسٹس اشوک ایس کناگی کے چیمبر میں ہوئی۔

ہائی کورٹ نے ہبلی کے عیدگاہ میدان میں گنیش چترتھی کی اجازت دینے کے حکام کے فیصلے میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ فیصلہ بنگلورو کے چامراج پیٹ کے عیدگاہ میدان میں گنیش چترتھی کی تقریب پر پابندی عائد کرنے کے چند گھنٹے بعد آیا ہے۔ ایک طرف سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں چامراج پیٹ عیدگاہ میدان پر جمود برقرار رکھنے کا حکم دیا اور کسی بھی طرح کی مذہبی سرگرمی پر روک لگا دی اور ادھر دوسری طرف ہائی کورٹ نے ہبلی عیدگاہ میدان میں اس کی اجازت دے دی۔

ہبلی عیدگاہ معاملہ میں عرضی گزار نے استدعا کی تھی کہ میونسپل کمشنر عبادت گاہ کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور پہلی مرتبہ ہندو برادری کے لوگ گنیش پنڈال نصب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اے اے جی (اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل) دھیان چنپا نے کہا کہ اس معاملے میں جائیداد کے مالکانہ حقوق پر کوئی تنازعہ نہیں ہے اور یہ اراضی چامراج پیٹ عیدگاہ میدان کی زمین سے مختلف ہیں۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ جائیداد کو عبادت گاہ قرار نہیں دیا گیا ہے۔

ہبلی دھارواڑ میونسپل کارپوریشن (ایچ ڈی ایم سی) نے ہبلی کے عیدگاہ میدان میں تین دن تک گنپتی کی مورتی کی تنصیب کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ مقامی میئر ایریش انچاٹیگری نے پیر کو منتخب نمائندوں اور عہدیداروں کے ساتھ میٹنگ کے بعد اس سلسلے میں بیان دیا تھا۔

خیال رہے کہ تنازعہ کے بعد سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق مسلمانوں کو سال میں دو بار (رمضان اور عید الاضحیٰ) میدان میں نماز ادا کرنے کی اجازت ہے، جبکہ بلدیاتی ادارہ وہاں یوم آزادی اور یوم جمہوریہ کے موقع پر قومی پرچم لہراتا ہے۔

قبل ازیں، سپریم کورٹ نے ہبلی سے 400 کلومیٹر دور واقع چامراج پیٹ عیدگاہ میدان کے تعلق سے جمود برقرار رکھنے کا حکم سنایا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ 2.5 ایکڑ زمین کس کی ملکیت ہے، یہ فیصلہ کرناٹک ہائی کورٹ کرے گا۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے کہا کہ فی الحال میدان پر نہ تو گنیش اتسو منانے کی اجازت ہوگی اور نہ ہی وہاں نماز ادا کی جائے گی۔ 

یاد رہے کہ کچھ ہی ماہ بعد ریاست کرناٹک میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور عوام محسوس کررہے ہیں کہ بعض تنظیمیں، مخصوص سیاسی پارٹی کی حمایت اور تعاون کے ساتھ کسی نہ کسی بہانے دو فرقوں کے درمیان تشدد بھڑکانے اور ماحول خراب کرنے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں تاکہ عوام کا دھیان اصل مسائل سے ہٹاکر ہندو مسلم کرکے انتخابات میں جیت درج کراسکیں۔ مسلم ذمہ داران عوام پر زور دے رہے ہیں کہ وہ کسی بھی حال میں شدت پسند تنظیموں اور ماحول خراب کرنے والی سیاسی پارٹیوں کو ان کے مقصد میں کامیاب ہونے نہ دیں اور صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں۔

ایک نظر اس پر بھی

بجٹ 2023: ’کوئی امید نہیں، بجٹ ایک بار پھر ادھورے وعدوں سے بھرا ہوگا‘، سدارمیا کا اظہارِ خیال

یکم فروری کو مرکز کی مودی حکومت رواں مدت کار کا آخری مکمل بجٹ پیش کرنے والی ہے۔ مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن کے ذریعہ بجٹ پیش کیے جانے سے قبل بجٹ 2023 کو لے کر کانگریس کے کچھ لیڈران نے اپنے خیالات ظاہر کیے ہیں۔

کرناٹک ہائی کورٹ کی وارننگ، کہا: چیف سکریٹری دو ہفتوں میں لاگو کرائیں حکم

کرناٹک ہائی کورٹ نے منگل کو انتباہ دیا کہ اگر ریاستی حکومت دو ہفتوں کے اندر سبھی گاؤں اور قصبوں میں قبرستان کے لئے زمین فراہم کرانے کے اس کے حکم پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہتی ہے تو وہ چیف سکریٹری کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے پر مجبور ہوجائے گا ۔

منگلورو: محمد فاضل قتل میں ہندوتوا عناصر ملوث ہونے کا دعویٰ - اپوزیشن پارٹیوں نےکیا کیس کی دوبارہ جانچ کامطالبہ 

بی جے پی یووا مورچہ لیڈر پروین نیٹارو قتل کے بدلے میں عناصر کی طرف سے سورتکل میں محمد فاضل کو قتل کرنے کا کھلے عام دعویٰ کرنے والے وی ایچ پی اور بجرنگ دل لیڈر شرن پمپ ویل کے خلاف کانگریس ، جے ڈی ایس اور ایس ڈی پی آئی جیسی اپوزیشن پارٹیوں نے اس قتل کیس کی ازسر نو جانچ کا مطالبہ کیا ...

ٹمکورو میں اشتعال انگیز بیان دینے والے شرن پمپ ویل سمیت دیگر ہندوتوا لیڈروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ لے کر اے پی سی آر نے ایس پی کو دیا میمورنڈم

حال ہی میں ریاست کرناٹک کے  ٹمکور میں  منعقدہ شوریہ یاترا کے دوران وی ایچ پی لیڈر شرن پمپ ویل نے جو متنازع اور اشتعال انگیز بیان دیا  تھا ، اس پر کٹھن کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتارکرنے کا مطالبہ لے کر  ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سوِل رائٹس (اے پی سی آر) کے  ایک وفد نے ٹمکورو ...