'آتم نربھر بھارت' کو لے کر رگھو رام راجن نے مودی حکومت کو کیا متنبہ

Source: S.O. News Service | Published on 22nd October 2020, 9:16 PM | ملکی خبریں |

ممبئی،22؍اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) نوٹ بندی سمیت کئی معاشی محاذ پر مودی حکومت کو الرٹ کرنے والے آر بی آئی کے سابق گورنر رگھو رام راجن نے ایک بار پھر مودی حکومت کو الرٹ کیا ہے۔ انھوں نے اس بار مرکزی حکومت کو 'آتم نربھر بھارت' (خود کفیل ہندوستان) منصوبہ کے تحت درآمد متبادل کو فروغ دینے پر الرٹ کیا ہے۔ رگھو رام راجن نے کہا کہ ملک میں پہلے بھی اس طرح کی کوششیں کی جا چکی ہیں، لیکن یہ کامیاب نہیں ہوئیں۔ آر بی آئی کے سابق گورنر نے کہا "اگر اس میں (خود کفیل ہندوستان منصوبہ) اس بات پر زور ہے کہ ٹیکس کو لگا کر درآمد کا متبادل تیار کیا جائے گا، تو میرا ماننا ہے کہ یہ وہ راستہ ہے جسے ہم پہلے بھی اختیار کر چکے ہیں اور یہ ناکام رہا ہے۔ میں اس راستے پر آگے بڑھنے کو لے کر الرٹ کرنا چاہوں گا۔"

بھارتیہ ودیا بھون کے ایس پی جین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اینڈ ریسرچ سنٹر فار فائنانشیل اسٹڈیز کے ذریعہ منعقد ویبینار کو خطاب کرتے ہوئے رگھو رام راجن نے کہا کہ ملک کے ایکسپورٹرس کو اپنی برآمدگی کو سستا رکھنے کے لیے درآمدگی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ درآمد کیے گئے مال کا استعمال برآمدگی کے لیے تیار کیے جانے والے سامان میں کیا جا سکے۔

ویبینار کو خطاب کرتے ہوئے آر بی آئی کے سابق گورنر نے چین کی مثال پیش کی۔ انھوں نے کہا کہ چین ایک ایکسپورٹ پاور کی شکل میں اسی طرح ابھر کر سامنے آیا ہے۔ راجن نے کہا کہ چین باہر سے الگ الگ سامانوں کی درآمدگی کرتا ہے، انھیں اسیمبل یعنی تیار کرتا ہے اور پھر آگے برآمد کر دیتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ برآمد کے لیے آپ کو درآمد کرنا ہوگا۔ حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے راجن نے کہا کہ زیادہ ٹیکس مت لگائیے بلکہ ہندوستان میں پروڈکشن کے لیے بہتر ماحول تیار کیجیے۔

آر بی آئی کے سابق گورنر نے کہا کہ حکومت کے ذریعہ ہدف شدہ خرچ طویل مدت میں بہتر نتائج دے سکتا ہے۔ انھوں نے کہا "میرا ماننا ہے کہ پورے خرچ پر نظر رکھنی چاہیے اور احتیاط برتنی چاہیے۔ یہ وقت کھلی چیک بک جاری کرنے کا نہیں ہے۔ ایسے میں کسی ہدف کو لے کر کیا جانے والا خرچ اگر سمجھداری اور احتیاط کے ساتھ کیا گیا تو اس سے آپ کو بہتر نتائج مل سکتے ہیں۔"

رگھو رام راجن نے کہا کہ اصل مسئلہ کی شناخت کر اس میں اصلاح کرنا درست ہے۔ لیکن اس عمل میں سبھی فریق کے اتفاق کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا "لوگوں، ناقدین، اپوزیشن پارٹیوں کے پاس کچھ بہتر مشورے ہو سکتے ہیں۔ آپ اگر ان میں زیادہ اتفاق بنائیں گے تو آپ کے اصلاح زیادہ اثردار طریقے سے نافذ ہو سکیں گے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ ایشوز پر طویل مدت تک بحث ہونی چاہیے، لیکن جمہوریت میں یہ اہم ہے کہ عام اتفاق قائم کیا جائے۔"

ایک نظر اس پر بھی

غازی پور بارڈر پر کمربستہ کسانوں نے مطالبات نہ ماننے کی صورت میں راجدھانی کی سڑکوں پرٹریکٹر چلانے کا دیا انتباہ

مودی حکومت کے ذریعہ پاس کردہ متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف دہلی-غازی پور سرحد پر مظاہرہ کر رہے کسانوں نے جمعہ کو متنبہ کیا ہے کہ اگر ہفتہ کے روز حکومت کے ساتھ ہونے والے اگلے دور کی بات چیت بے نتیجہ ہوتی ہے تو وہ قومی راجدھانی دہلی میں سڑکوں پر بڑی تعداد میں نکلیں گے اور خوردنی ...

اتر پردیش میں لو جہاد کے نام پر 14 افراد کے خلاف معاملہ درج

 اترپردیش کے ضلع مئو میں دو مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے عاشق جوڑے کے گھر سے بھاگ جانے کے بعد مئو پولس نے مبینہ لوجہاد پر کنٹرول کے دعوی کے ساتھ ریاستی حکومت کی جانب سے پاس کئے گئے تبدیلی مذہب قانون کے تحت 14افرادکے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔افسران کے مطابق لڑکا پہلے سے شادی شدہ ...

حیدر آباد الیکشن: گذشتہ انتخابات میں چار سیٹیں جیتنے والی بی جے پی نے اس بار دیا ’اویسی‘ کو جھٹکا

گریٹر حیدر آباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) کے انتخابات میں  بی جے پی نے اویسی کو زبردست جھٹکا دیا ہے۔  حیرانی کی بات یہ کہی جارہی ہے کہ بی جے پی جس نے 2016 کے انتخابات میں محض چار سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی، اس بار اس  نے 150 میں سے 48 سیٹوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ ویسے تو   اویسی ...

ادھیر رنجن نے مودی سے پوچھا، ملک میں کڑوڑوں لوگوں کو دو وقت کی روٹی نہیں ملتی ٹیکہ کےلئے پیسے کہاں سے آئیں گے ؟

جمعہ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کے ایک کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کے بعد  کانگریس  لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ 130 کروڑ کی آبادی کی ٹیکہ کاری پر مودی نے کوئی روڈ میپ پیش نہیں کیا ہے۔  انہوں نے کہا کہ ملک میں کروڑوں لوگوں کو دو وقت کی روٹی ملنا مشکل ہے، ایسے میں غریب ...