کرناٹک میں سیلاب سے سنگین صورتحال، ہلاکتوں کی تعداد 23 پہنچی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th August 2019, 11:09 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،10؍اگست (ایس او نیوز؍یو این آئی)  کرناٹک کے 15 اضلاع گزشتہ دو ہفتوں سے شدید سیلاب کی زدمیں ہیں اور ایک طرف جہاں ان اضلاع میں حالات سدھرنے کا نام نہیں لے رہے ہیں وہیں گزشتہ دو دونوں سے ہو رہی موسلادھار بارش کی وجہ سے كوڈاگو اور هاسن اضلاع میں صورت حال سنگین بنی ہوئی ہے ۔ سیلاب کے سبب پیش آئے واقعات میں اب تک 23 افراد کی جان گئی ہے۔

اس دوران ہماچل پردیش کے وزیر اعلی جے رام ٹھاکر کی بیٹی اونتیکا سود شمالی کرناٹک میں ڈیم میں پھنس گئیں ۔ انہیں مقامی لوگوں اور حکام نے بچایا ۔ محفوظ مقام پہنچنے پر انہوں نے مقامی شہریوں اور حکام کا شکریہ ادا کیا۔نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس، ہندوستانی فوج اور کرناٹک ڈیزاسٹر رسپانس فورس کی ٹیمیں راحتی کا روایاں چلا رہی ہیں ۔ شمالی کرناٹک کے چار ضلع بیلگام ، باگلکوٹ ، رائے چور اور كوپل میں لوگوں کو کرشنا ندی میں پانی کی سطح بڑھنے کی وجہ سے کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔

یہاں کے ہزاروں لوگوں کو راحت کیمپ میں لے جایا گیا ہے جبکہ كوڈاگو، شیو موگا اورکروار اضلاع میں شدید بارش کی وجہ سے لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ریاست میں شدید بارش اور سیلاب کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 23 ہو گئی ہے ۔ کرناٹک کے 15 اضلاع میں گزشتہ 10 دنوں میں معمولات زندگی درہم برہم ہو گئی ہے ۔ سیلاب میں پھنسے ہوئے لوگ محفوظ مقامات پر جا رہے ہیں۔

كوڈاگو ضلع کے كورنگل گاؤں میں زمین کھسکنے سے پانچ افراد کی موت ہو گئی ہے ۔ دو افراد کی لاشیں باہر نکالی گئی ہیں جبکہ دیگر تین کی تلاش ابھی جاری ہے ۔ سیلاب سے متاثرہ علاقہ بیلگام میں دورہ کرنے کے بعد وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا نے کہا کہ راحتی کام جنگی بنیادوں پر چل رہا ہے اور مختلف راحتی ایجنسیاں راحتی کام میں مصروف ہیں۔مسٹر یدی یورپا نے سیلاب کی وجہ سے مرنے والوں کے لواحقین کو پانچ لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

سیلاب سے متاثرہ اضلاع کا ہوائی سروے کرنے کے بعد وزیر اعلی یدی یورپا آج بذریعہ سڑک سیلاب متاثرہ علاقوں کا جائزہ لینے پہنچے اور راحت مراکز میں ٹھہرے لوگوں سے مل کر ان سے بات چیت کی۔انہوں نے حکام کو کسی بھی حال میں راحتی کام نہ روکنے اور تمام متاثر لوگوں کو محفوظ باہر نکالنے کے لئے کہا ہے ۔ راحتی عملے نے اب تک ہزاروں لوگوں کو متاثر علاقوں سے باہر نکالا ہے۔ریاست میں اسکول اور کالجوں میں کل تک کے لئے چھٹی کا اعلان کیا ہے۔

چرماڈي گھاٹ اور شراڈي گھاٹ میں زمین کھسکنے کی وجہ سے گوا، ممبئی، كاروار اور منگلورو جانے والی سڑکیں پر آمد ورفت ٹھپ ہو گئی ہے ۔ ٹریک پر پانی جمع ہونے کی وجہ سے ریل خدمات بھی متاثر ہو ئی ہے ۔ كوڈاگو اور شمالی کرناٹک میں بارش کی وجہ سے ریڈارلٹ جاری کیا گیا ہے۔ گزشتہ سال لینڈ سلائیڈنگ سے 20 لوگوں کی موت ہو گئی تھی اور سینکڑوں گھروں کو نقصان پہنچا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

ریاستی حکومت نے آئی ایم اے فراڈ کیس کی جانچ سی بی آئی کے حوالے کیا

ریاست کی سابقہ کانگریس جے ڈی ایس حکومت کے دور میں کی گئی مبینہ ٹیلی فون ٹیپنگ کی سی بی آئی جانچ کے ا حکامات صادر کرنے کے دودن بعد ہی آج ریاستی حکومت نے کروڑوں روپیوں کے آئی ایم اے فراڈ کیس کی جانچ سی بی آئی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کیا شمالی کینرا سے شیورام ہیبار کے لئے وزارت کا قلمدان محفوظ رکھا گیا ہے؟

کرناٹکاکے وزیراعلیٰ  ایڈی یورپا نے دو دن پہلے اپنی کابینہ کی جو تشکیل کی ہے اس میں ریاست کے 13اضلاع کو اہمیت دیتے ہوئے وہاں کے نمائندوں کو وزارتی قلمدان سے نوازا گیا ہے۔اور بقیہ 17اضلاع کو ابھی کابینہ میں نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔

بنگلورو: نشے میں دھت شخص نے فٹ پاتھ پر 7 لوگوں کو کچل دیا

شراب کے نشے میں دھت ایک شخص نے بہت تیز رفتار کار فٹ پاتھ پر چڑھا دی اور فٹ پاتھ پر چل رہے 7 افراد اس کار کی زد میں آ گئے۔ زخمیوں کو فوراً اسپتال پہنچایا گیا اور خبر لکھے جانے تک ان لوگوں کی حلات نازک بنی ہوئی ہے۔ یہ واقعہ بینگلورو کے ایچ ایس آر لے آؤٹ علاقے کا ہے۔