بدحال ہندوستانی معیشت کو 21 روزہ لاک ڈاؤن سے ہو سکتا ہے 120 ارب ڈالر کا خسارہ

Source: S.O. News Service | Published on 25th March 2020, 9:08 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،25؍مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) پی ایم مودی نے جب 24 مارچ کو ملک سے خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ پورا ملک 21 دنوں کے لیے لاک ڈاؤن کیا جا رہا ہے، تو ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ اس کا ملک کی معیشت پر بہت گہرا اثر پڑے گا۔ ایسی صورت میں جب کہ ہندوستان کی معیشت پہلے سے ہی خستہ حالی کی شکار ہے، کورونا وائرس کی وجہ سے اٹھائے جا رہے اقدامات کا اثر بھی بہت زیادہ اس معیشت پر پڑتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ ماہرین نے ایک اندازہ لگاتے ہوئے بتایا ہے کہ ان 21 دنوں کے اندر ملک کی معیشت کو 120 ارب ڈالر کا خسارہ اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

معیشت پر گہری نظر رکھنے والے کچھ ماہرین نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ لاک ڈاؤن والے 21 دن ہندوستانی عوام کے لیے ہی مشکل نہیں گزریں گے بلکہ ملک کی معیشت پر بھی اس کا بہت گہرا اثر پڑنے والا ہے۔ اس لاک ڈاؤن کے دوران 120 ارب ڈالر یعنی تقریباً 9.12 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہندوستانی معیشت کو ہو سکتا ہے۔ ملک کے ایک مشہور بزنس چینل پر بھی معاشی معاملوں کے ماہرین نے اس بات کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔

کچھ نیوز پورٹلس پر شائع خبروں کے مطابق 120 ارب ڈالر کے خسارے کو اگر جی ڈی پی سے جوڑ کر دیکھا جائے تو مانا جا سکتا ہے کہ جی ڈی پی 4 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ دراصل لاک ڈاؤن کے سبب ملک میں صنعتی سرگرمیاں ٹھپ ہو گئی ہیں، ٹرانسپورٹیشن خدمات پر بھی پابندی لگ گئی ہے اور پونجی حاصل کرنے کا حکومتوں کا ذریعہ بھی رک سا گیا ہے۔ اس وجہ سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ملک کی معاشی رفتار بے حد دھیمی ہو جائے گی۔

قابل ذکر ہے کہ لاک ڈاؤن سے پہلے ہی کئی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے ہندوستان کی جی ڈی پی میں تیز گراوٹ کا امکان ظاہر کیا تھا۔ اب تو آئی ایم ایف نے بھی صاف کر دیا ہے کہ کورونا وائرس کے سبب عالمی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور یہ 2009 کے عالمی معاشی بحران سے بھی گہرا ہوگا۔

ایک نظر اس پر بھی

کشمیر کی پہلی وائرس متاثرہ خاتون روبہ صحت ہوکر ہسپتال سے رخصت

وادی کشمیر میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز میں اضافے کے بیچ سری نگر کے خانیار علاقے سے تعلق رکھنے والی وادی کی پہلی وائرس متاثرہ خاتون مکمل طور پر صحت یاب ہوئی ہے اور اس کو شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ سے ڈسچارج بھی کیا گیا ہے۔

تبلیغی جماعت کے خلاف کیس واپس لینے کا مطالبہ تبلیغی مرکز سے متعلق پیدا شدہ حالات پر سرکردہ مسلم دانشوروں کا بیان

 تبلیغی مرکز سے متعلق پیداشدہ صورتحال پر سرکردہ دانشوروں اور صحافیوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہاں جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف جاری جنگ میں ہم حکومت کو اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلاتے ہوئے اس سے یہ اپیل بھی کرنا چاہتے ہیں