ہاسن چرچ میں ہنگامہ کرنے والے شرپسندوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

Source: S.O. News Service | Published on 1st December 2021, 12:07 PM | ریاستی خبریں |

ہاسن، یکم دسمبر (ایس او نیوز) ریاست کرناٹک کے  ہاسن ضلع کے ایک چرچ  میں جب مسیحی برادی کے لوگ اپنی خصوصی عبادت میں مشغول  تھے ، تبھی راشٹرییہ سویم سیوک سنگھ کے ذیلی تنظیمیں بجرنگ دل و وشوہ ہندو پریشد کے ورکرز اچانک چرچ میں گھسے اور ہنگامہ کرنے کی کوشش کی۔

اس وقت چرچ میں خواتین کے علاوہ بچے بھی موجود تھے۔ بجرنگ دل کے ورکرز نے الزام لگایا کہ چرچ میں جبراً مذہب تبدیلی کی جارہی۔ اس موقع پر بجرنگ دل کے کارکنان نعرے بازی بھی کی، تاہم چرچ میں موجود افراد نے واضح طور پر کہاکہ وہ گرجا گھر میں اپنی مرضی سے عبادت کے لیے آئے ہیں اور کسی نے بھی ان پر زور زبردستی نہیں کی ہے۔بجرنگ دل کے کارکنان پر الزام ہے کہ مسیحیوں کی عبادت میں خلل ڈالتے ہوئے انہوں نے 'جے شری رام' کے کے نعرے لگائے اور مسیحیوں نے "ایسو ایسو" کے نعرے لگائے۔ حالانکہ موقع پر پہنچی پولیس نے بجرنگ دل کے کارکنا کو وہاں سے ہٹاکر حالات کو قابو میں لیا۔ تاہم کسی کے خلاف کوئی کارروائی کی اطلاع نہیں ہے۔

اس پورے معاملے پر ای ٹی وی بھارت سے بات کرتے ہوئے کرناٹک کے ارچبشاپ ڈاکٹر این ڈیوڈ نے کہاکہ چرچز میں کوئی مذہب تبدیلی نہیں کی جاتی۔ تاہم جو کوئی مجبور، مسکین، غریب یا وقت کا مارا آتا ہے، اس کی کونسلنگ کی جاتی ہے، اسے سدھارنے و ناخوشگوار حالات پر کیسے قابو پائیں اس کی تربیت دی جاتی ہے۔ ضرورت مندوں کی مدد کی جاتی ہے مذہب کی تبدیلی نہیں کی جاتی۔

ڈاکٹر ڈیوڈ نے کہاکہ ریاست بھر میں ایسے معاملات پیش آرہے ہیں، لیکن اس پرمحکمہ پولیس کی خاموشی اور حکومت کی جانب سے عدم کارروائی ان سماج دشمن عناصر کے حوصلے بلند کر رہی ہیں جو کہ معاشرے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔

اس موقع پر کل ہند جمعیت الصوفیا و المشائخ کے جنرل سیکرٹری صوفی ولی با قادری نے مذکورہ واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ' کہاکہ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ فسطائی و فرقہ پرست طاقتوں کے ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور ملک کی جمہوریت کو درپیش خطرات کے لیے آواز بلند کریں'۔

اس پورے معاملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کانگریس رہنما ڈاکٹر جونس نے کہاکہ یہ سب سنگھ پریوار و بھارتیہ جنتا پارٹی کی سازش ہے کہ جبراً مذہبی تبدیلی کے بہانے ریاست کے پر امن ماحول کو بگاڑنے میں مصروف ہے، جب کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔'

ڈاکٹر جونس نے وزیر اعلیٰ بومائی سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر چرچز میں ہنگامہ کرنے والوں پر سخت کارروائی کریں۔

یاد ریے کہ بی جے پی کی کرناٹک حکومت کی جانب سے یہ امکان ہے کہ 13 دسمبر سے شروع ہونے والے اسمبلی اجلاس میں مذہب تبدیلی مخالف بل  پیش کرے۔

ایک نظر اس پر بھی

کانگریس لیڈران نے مرکزی حکومت پر لگایا پسماندہ ہندو سماج اورمظلوم طبقے کی ہتک کرنے کا الزام

ہرسال یوم جمہوریہ کی تقریب میں ریاستوں کی نمائندگی کرنےوالی نمائش  کا اہتمام ہوتاہے۔ اس مرتبہ  ریاست کیرلا کی جانب سےبھیجے گئے انقلابی شخصیت ، سماجی مصلح شری نارائن گرو مجسمہ کو نمائش میں شامل کرنے سے مرکزی حکومت نے انکار کیاہے۔ اس طرح  مرکزی حکومت نے بھارت کی تاریخی ، اہم ...

جمعیۃ علماء کرناٹک کاانتخابی اجلاس : مولانا عبدالرحیم رشیدی جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر منتخب

مسجد حسنیٰ شانتی نگر بنگلور میں جمعیۃ علماء کرناٹک کا انتخابی اجلاس جمعیۃ علماء ہندکے جنرل سکریٹری مولانامفتی سید معصوم ثاقب قاسمی کی نگرانی میں منعقد ہوا جس میں مولانا عبدالرحیم رشیدی کو مجلس منتظمہ کے اراکین نے اتفاق رائے سے اگلی  میعاد  کیلئے صدر منتخب کیا ۔ مولانا ...

کرناٹک کانگریس نے کووڈ کے بڑھتے ہوئے معاملوں کے درمیان میکے ڈاٹو پیدل مارچ کو کردیا معطل؛ سدرامیا نے کورونامعاملوں میں اضافے کےلئے بی جے پی کو قرار دیا ذمہ دار

میکے ڈاٹو واٹر پروجکٹ کا مطالبہ  لے کر شروع کی گئی کانگریس کی میکے  ڈاٹو پیدل ریلی کو کانگریس نے  کووڈ کے بڑھتے ہوئے معاملوں کو دیکھتے ہوئے عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کرناٹکا ہائی کورٹ نے کانگریس کو پدیاترا نکالنے کا اجازت نامہ عدالت میں داخل کرنے کی دی ہدایت

کرناٹکا ہائی کورٹ نے کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) سے کہا کہ وہ 14 جنوری تک میکے ڈاٹو پدیاترا نکالنے کے لئے حکومت کی طرف سےلئے گئے اجازت نامہ کو عدالت میں پیش کرے۔ عدالت نے پوچھا کہ کیا کے پی سی سی نےرام نگر ضلع کے میکے ڈاٹو میں کاویری ندی کے پار متوازن آبی ذخائر کا ...

حکومت کرناٹک نے کانگریس کے میکے ڈاٹو پدیاترا پرعائد کی پابندی

ہائی کورٹ اوربعض بی جے پی ارکان اسمبلی کی تنقید کے بعد  بسواراج بومائی کی زیرقیادت بی جے پی حکومت نے بدھ کے روز کووڈ 19 کی پہلے سی بگڑتی صورت حال  کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس کے میکے ڈاٹو پدیاترا پر پابندی لگا دی ہے۔