تبدیلی وزارت کے بعد: سدھو کی راہل اورپرینکا سے ملاقات، صوبائی صورتحال پر تبادلہ  خیال 

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th June 2019, 10:36 PM | ملکی خبریں |

 نئی دہلی10جون (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) پنجاب کے وزیر اعلی امریندر سنگھ کے ساتھ چل رہے تنازعہ کے درمیان نوجوت سنگھ سدھو نے پیر کو دہلی میں کانگریس صدر راہل گاندھی سے ملاقات کی۔ اس دوران کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی اور پارٹی کے سینئر لیڈر احمد پٹیل بھی موجود رہے۔ سدھو نے میٹنگ کے بعد ٹویٹ کیا کہ:’کانگریس صدر سے ملاقات کی اور انہیں حالات کے بارے میں مطلع کیا۔ جمعرات کو ہی امریندر سنگھ نے سدھو کی وزارت میں تبدیلی کی تھی۔ پہلے وہ سیاحت اور شہری ترقی کے وزیر تھے۔ سدھو کا محکمہ تبدیل کرنے سے قبل امرندر سنگھ نے حال ہی میں کہا تھا کہ ریاست کے شہری علاقوں میں کانگریس کی کارکردگی اچھی نہیں رہی۔ وزیر کے طور پر سدھو کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور وہ اپنا محکمہ سنبھال پانے کے قابل نہیں ہیں۔ سدھو کے کابینہ اجلاس میں شامل نہ ہونے کے بعد ان کی وزارت میں تبدیلی کی تھی۔ سدھو نے امریندر سنگھ پر نشانہ لگایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ شہری علاقوں میں پارٹی کے خراب کارکردگی کے لئے مجھے جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے، یہ سراسر غلط ہے۔ صرف میرے ہی خلاف ایکشن کیوں لیا جا رہا ہے؟ شکست کی ذمہ داری اجتماعی ہے۔ پھر باقی لیڈروں وزراء کے خلاف کیوں نہیں؟لوک سبھا انتخابات میں ٹکٹ نہ ملنے پر سدھو کی بیوی نوجوت کور سدھو نے امریندر کے خلاف ناراضگی ظاہر کی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ انہیں امریندر سنگھ کی وجہ سے امرتسر سے لوک سبھا کا ٹکٹ نہیں ملا۔ وہیں سدھو نے بھی بیوی کی حمایت کی تھی۔ اگرچہ امریندر نے ان الزامات کو مستردکر دیا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

ایڈی یورپا کو پارٹی ہائی کمان کی تنبیہ۔ وزارتی قلمدان تقسیم کرو یا پھر اسمبلی تحلیل کرو

عتبر ذرائع سے ملنے والی خبر کے مطابق بی جے پی ہائی کمان نے وزیراعلیٰ کرناٹکا ایڈی یورپا کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزارتی قملدانوں سے متعلق الجھن اور وزارت سے محروم اراکین اسمبلی کے خلفشار کو جلد سے جلد دور کرلیں ورنہ پھر اسمبلی کو تحلیل کرتے ہوئے از سرِ نو انتخابات کا سامنا ...

چار فرضی صحافیوں کو پولیس نے کیا گرفتار

گوتم بدھ نگر ضلع تھانہ بیٹا کے پولیس نے چار افراد کو گرفتار کیا جن پر الزام ہے کہ وہ صحافی ہونے کا دعوی کرکے غیر قانونی وصولی کرتے تھے اور اپنے مفاد کے لئے انتظامی حکام پر دباؤ بناتے تھے۔