وزیراعلیٰ ایڈی یورپا نے وزیر صحت ڈاکٹر  سدھا کر سے تمام ذمہ داریاں چھین لیں، آکسیجن ، بستروں ، دواؤں اور وارروم کی ذمہ داری الگ الگ وزراء میں تقسیم  

Source: S.O. News Service | Published on 5th May 2021, 11:19 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،5 ؍مئی (ایس او  نیوز ) کرناٹک کورونا وائرس کے قہر میں کمی نہ ہونے کےمیں آثارکو د یکھتے ہوئے وزیراعلیٰ  بی ایس ایڈی یور پا نے وزیر صحت ڈاکٹر سدھاکر سے تمام ذمہ داریاں لے کراپنی کابینہ کے سینئر وزراء میں تقسیم  کر دی ہیں اور تمام ضلع انچارج وزراء سے کہا ہے کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں مقیم رہ کر حالات کی مسلسل نگرانی کر یں ۔

منگل کے روز طلب کی گئی ہنگامی کا بینہ میٹنگ کے بعد اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے  ایڈی یور پانے چامراج نگر سانحہ پر افسوس ظاہر کیا اور کہا کہ اس واقعے کے لئے جو بھی ذمہ دار ہیں انہیں بخشانہیں جائے گا۔ معاملہ کی جانچ شروع ہو چکی ہے ۔ وزیراعلیٰ  نے کہا کہ کرناٹک میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ باعث تشویش ہے ۔ اس صورتحال سے نپٹنے کے لئے وزراء کو الگ الگ ذمہ داری دیدی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کوڈ وار روم کے لئے الگ الگ وزراءکو ذ مہ دار بنایا گیا ہے ۔آ کسیجن سے جڑے امور کی نگرانی وزیر صنعت جگد لیش شیٹر کر یں گے۔  کورونا سے نپٹنے کے لئے درکار عملہ، دواؤں ، ریمڈی سیور کی فراہمی اور ان کی کمپنیوں سے بات چیت کی ذمہ داری نائب وزیر اعلی اشوتھ  نارائن کو دی گئی ہے سرکاری اورنجی اسپتالوں میں بستروں کی دستیابی کے متعلق ذمہ داری وزیر محصولات آر اشوک اور وزیر داخلہ  بسوراج بومئی  سنبھالیں گے۔ وار روم کے کال سنٹر کی ذمہ داری اروندلمباولی کو دی گئی ہے ۔ تمام وزراء میں ذمہ داریاں تقسیم کر کے وزیر اعلی نے محکمہ صحت کی کوئی ذمہ داریسدھا کر کونہیں دی ۔

 لاک ڈاؤن کے بارے میں ایک سوال پر وزیر اعلیٰ  نے کہا کہ 12 ؍مئی تک کرفیو کی صورتحال برقرار رہے گی اس کے بعد کیا کرنا ہے وہ بعد میں طے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں آکسیجن کی قلت کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ بیرون ریاستوں سے آکسیجن کی آمد میں تاخیر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں جندال کمپنی کی طرف سے آکسیجن کی پیداوار کا کام کیا جا تا ہے ، اس کو فراہمی کر نا ٹک کو ہی کر نے کے لئے اس کمپنی سے درخواست کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی صورتحال سے نپٹنے کے لئے افزود ڈاکٹروں اور نرسوں کا تقر ر کیا جائے گا۔ تمام وزراء سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے مقررہ اضلاع میں مقیم رہ کر پوری ذمہ داری سے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ ریمڈ یسیور دواؤں کی کالا بازاری کرنے والوں اور اسپتالوں میں فرضی ناموں سے بستر بلاک کر نے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لئے احکامات دیئے جاچکے ہیں ۔

 وزیراعلیٰ  نے اس موقع پر اعلان کیا کہ ریاستی حکومت نے صحافیوں کو فرنٹ لائن کور و نا  واریرس  کے طور پر تسلیم کر نے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ان تمام کو بھی جلد ہی کور و ناویکسین دیدیا جائے گا۔

ایک نظر اس پر بھی

لوگ کورونا سے مرے جارہے ہیں اور ریاستی حکومت کو لگی ہے ذات پات کے اعداد و شمار کی فکر

پورے ملک کی طرح ریاست میں بھی کورونا کا قہر جاری ہے ۔ عوام آکسیجن، اسپتال میں بستر اور دوائیوں کی کمی سے تڑپ رہے ہیں۔ لیکن ریاستی حکومت کو الیکشن اور ذات پات کی تفصیلات کی فکر لاحق ہوگئی ہے تاکہ آئندہ انتخاب کے لئے تیاریاں مکمل کی جائیں۔

کورونا پر قابو پانے میں ایڈی یورپا مکمل طورپر ناکام: ایم بی پاٹل

ریاست میں کورونا وباء سے نمٹنے میں ایڈی یورپا کی بی جے پی حکومت مکمل ناکام ہوچکی ہے۔سابق ریاستی وزیر و مقامی بی ایل ڈی ای میڈیکل کالج کے سربراہ ایم بی پاٹل نے آج یہاں ایک اخباری کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے ڈنکے کی چوٹ پر یہ بات بتائی۔

کرناٹک میں 120ٹن لکویڈ آکسیجن کی آمد

ریاست کرناٹک میں میڈیکل آکسیجن کی قلت ہنوز جاری ہے۔ حکومت آکسیجن منگوانے کی ہر ممکن کوشش کرنے کا دعویٰ کررہی ہے۔ ریاست کی راجدھانی بنگلورو میں پہلی آکسیجن ایکسپریس کی آمد ہوئی۔

کرناٹک لاک ڈاؤن:اب تک 19949گاڑیاں ضبط

ریاست   میں کوروناوائرس کے بے تحاشہ پھیلاؤ کے سبب ریاست گیرلاک ڈاؤن نافذکیاگیاہے،تاکہ کوروناپرقابوپاجائے۔لاک ڈاؤن کے دوران کسی بھی سوری کوسڑک پراترنے کی اجازت نہیں ہے۔اس قسم کی سختی کے باوجودبہت سارے لوگ گاڑیوں میں گھومتے ہوئے نظرآئے،خلاف ورزی کی پاداش میں پولیس سواریوں ...

تیجسوی سوریاریاست کیلئے زہریلابیج ہے:ڈی کےشیوکمار

ریاست کرناٹک  میں کووڈکے معاملات میں ہرگزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہاہے،اس دوران وزیراعلیٰ نے تیسری لہرپرقابوپانے کی تیاری کرنے کی صلاح دی ہے۔پہلے کووڈکی دوسری لہرپرقابوپانے کی کوشش کرے پھرتیسری لہرپرقابوپانے کی بات کریں۔یہ باتیں کے پی سی سی صدرڈی کے شیوکمارنے کہی۔