یڈیورپا کا اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس؛ بعض سرکاری دفاتر کو اندرون ایک ماہ بیلگاوی کے سورونا ودھان سودھا منتقل کرنے وزیر اعلیٰ کی ہدایت

Source: S.O. News Service | Published on 4th June 2020, 4:52 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،4؍جون (ایس او نیوز؍پی ٹی آئی) وزیر اعلیٰ بی ایس یڈی یورپا نے حکام کو اندرون ماہ ریاست کے بعض سرکاری دفاتر کی نشاندہی اور ان کی بیلگاوی کے سورونا و دھان سودھا منتقلی کی ہدایت دی جس کا مقصد علاقائی توازن قائم کرنا ہے۔

انہوں نے یہ انتباہ دیا کہ اگلے اجلاس سے قبل وہ وہاں منتقل دفاتر کے کا م کاج کا شخصی طور پر جائزہ لیں گے۔ وزیر اعلیٰ دفتر نے اپنے بیان میں یہ بات کہی۔

یڈی یورپا نے پی ڈبلیو، بندرگاہوں اور اندرون ریاست آبی نقل و حمل کے محکموں کی کارگردی کا جائزہ لینے اجلاس منعقد کیا۔

بنگلورو میں موجود ریاستی سکریٹری یعنی ودھان سودھا کے طرز پر تعمیر سورونا و دھان سودھا میں سال میں ایک مرتبہ اسمبلی اجلاس منعقد ہوتا ہے۔ اس عمارت کی تعمیر یہ دعوے کے لیے کی گئی تھی کہ بیلگاوی کرناٹک کا اندرونی حصہ ہے۔ مہاراژترا دعویٰ کرنا ہے کہ بیلگاوی اس کا حصہ ہے۔ سال میں ایک مرتبہ دو ہفتوں کے لیے اسمبلی اجلاس کے انعقاد کے علاوہ یہ عمارت زیادہ تر غیر مستعمل رہتی ہے۔ علاقائی توازن قائم کرنے اور علاقہ کے شہریوں کے فائدے کے لیے بعض سرکاری دفاتر کو بیلگاوی کے ودھان سودھا منتقل کرنے شمالی کرناٹک کے عوام کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔ یہاں کے شہریوں کو کاموں کے سلسلے میں بنگلورو جانا پڑتاہے۔

2018 میں اس وقت کی کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت نے مبینہ امتیاز کو دور کرنے بعض سرکاری محکموں، بورڈس اور کمیشنوں کو شمالی کرناٹک منتقل کرنے کی اصولی طور پر منظوری دی تھی۔

اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے عہدیداروں کو گزشتہ سال سیلاب میں تباہ سڑکوں اور پُلوں کی مرمت کا کام بھی مکمل کرنے کی ہدایت دی ۔ عہدیداروں نے وزیر اعلیٰ کو 500 کروڑ روپئے کی لاگت سے مرمت اور بحالی کے کاموں اور 1800 میں سے 1700 کلو میٹر سڑک کے کام کی تکمیل سے واقف کروایا۔

انہوں نے کہا کہ پُلوں کی تعمیر اور مرمت کا کام جاری ہے۔ انجینئروں کے تقررات میں تاخیر پر وزیر اعلیٰ نے بے روزگار انجینئروں کو بطور زیر تربیت مقرر کرنے کی ہدایت دی ۔

انہوں نے سوگانے کے قریب شیموگہ ایئر پورٹ کا کام میعار سے سمجھوتہ کیے بغیر اندرون ایک سال مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ ایئر پورٹ کی تمعیر کے لیے وجئے پورہ پر اراضی کی نشاندہی کی جاچکی ہے چنانچہ عہدیداروں کو جائزہ لینے کے بعد ضروری کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اجلاس کے دوران 1650 کلو میٹر دیہی سڑکوں کی ضلع کی اصل سڑکوں اور 10110 کلومیٹر ضلع کی اصل سڑکوں کو ریاستی شاہراہوں میں تجدید کرنے کافیصلہ کیا گیا۔

ایک نظر اس پر بھی

اُلال کے رکن اسمبلی یوٹی قادر سے ایس ڈی پی آئی کا مطالبہ

جنوبی کینرا بنٹوال تعلقہ کے سجی پانڈو دیہات میں ہر سال بارش کے موسم میں گزشتہ 30 برسوں سے لوگوں کو ہمیشہ  پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ علاقہ اُلال کے رکن اسمبلی یوٹی قادر کے حلقہ میں آتا ہے اور یہاں مسلمانوں کی کثیر آباد ی ہے۔

منگلورو۔کاسرگوڈ سرحد پر مسافروں کیلئے پریشانی

ریاست میں گزشتہ ماہ اپریل سے ہی کورونا وائرس پھیلنے کے نتیجہ میں کیرالہ ۔ کرناٹک کی سرحد پر واقع کاسرگوڈ اور منگلورو کے درمیان روازنہ ملازمت اور تعلیم کے سلسلہ میں آنے جانے والے لوگوں کیلئے ہر دن نت نئی پریشانیوں کا سامنا کرناپڑرہا ہے۔

کرناٹک میں کووڈ۔19 کمیونٹی پھیلاؤ کا کوئی امکان نہیں، مرکزی ٹیم کا چیف منسٹر و عہدیداروں کے ساتھ تبادلہ خیال؛ سری راملو کی پریس کانفرنس

کرناٹک نے منگل کے روز مرکز ی ٹیم کو بتایا کہ ریاست میں کووڈ۔19 کے کمیونٹی پھیلاؤ کا کوئی امکان نہیں ہے۔ریاستی وزیر صحت و خاندانی بہبود بی سری راملو نے میڈیا سے کہا ’’ ہم نے یہ واضح کردیا ہے کہ یہاں کمیونٹی پھیلاؤ کا امکان نہیں ہے۔ ہم ، دوسرے اور تیسرے مرحلہ کے درمیان ہیں‘‘۔

کرناٹک میں کورونا کا قہر جاری؛ پھر 1498 نئے معاملات، صرف بنگلور سے ہی سامنے آئے 800 پوزیٹیو

کرناٹک میں کورونا کا قہر جاری ہے اور ریاست  میں روز بروز کورونا کے معاملات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے، ریاست کی راجدھانی اس وقت  کورونا کا ہاٹ اسپاٹ بنا ہوا ہے جہاں ہر روز  سب سے زیادہ معاملات درج کئے جارہے ہیں۔ آج منگل کو پھر ایک بار کورونا کے سب سے زیادہ معاملات بنگلور سے ہی ...

کورونا: ہندوستان میں ’کمیونٹی اسپریڈ‘ کا خطرہ، اموات کی تعداد 20 ہزار سے زائد

  ہندوستان میں کورونا انفیکشن کے بڑھتے معاملوں کے درمیان کمیونٹی اسپریڈ یعنی طبقاتی پھیلاؤ کا  اندیشہ بڑھتا نظر آرہا ہے۔ بالخصوص کرناٹک  میں کورونا انفیکشن کے کمیونٹی اسپریڈ کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔ کرناٹک کے علاوہ گوا، پنجاب و مغربی بنگال کے نئے ہاٹ اسپاٹ بننے کے ...

منگلورو:گروپور میں منڈلارہا ہے مزید پہاڑی کھسکنے کا خطرہ۔ قریبی گھروں کو کروایا گیاخالی۔ مکینوں میں مایوسی اور دہشت کا عالم

گروپور میں اتوار کے دن بنگلے گُڈے میں پہاڑی کھسکنے سے جہاں  تین  مکان زمین بوس اور دو بچے، صفوان (16سال) اور سہلہ (10سال) جاں بحق ہوگئے تھے وہاں پر مزید پہاڑی کھسکنے کا خطرہ لوگوں کے سر پر منڈلا رہا ہے۔