راجستھان میں سیاسی صلح، بی جے پی کے منھ پر زور کا طمانچہ: کانگریس

Source: S.O. News Service | Published on 11th August 2020, 11:33 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،11؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) کانگریس نے راجستھان یونٹ میں کئی دنوں سے جاری تنازعہ کے سلجھنے پر ریاست کے عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے اسے پارٹی اعلیٰ کمان کے ’سب کو ساتھ لے کر چلنے‘ کی پالیسی کا نتیجہ بتایا کہ اور کہا کہ یہی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو کرارا جواب ہے۔

کانگریس کے میڈیا سیل کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے منگل کے روز یہاں جاری بیان میں کہا کہ کانگریس کے ریاستی رہنماؤں کے درمیان جاری تنازعہ سے مسلسل بحران بڑھ رہا تھا لیکن کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا کے سب کو ساتھ لے کر چلنے اور پارٹی میں ہر کسی کے جذبات کی قدر کرنے کی پالیسی کے سبب یہ تنازعہ ختم ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ ’راجستھان کے سیاسی ہلچل کے تھمنے پر ریاست کے آٹھ کروڑ عوام کو مبارکباد۔ راہل گاندھی کی دور اندیشی اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کا عزم اور پرینکا گاندھی واڈرا کا تعاون رنگ لایا۔ اشوک گہلوت کی پختگی اور سچن پائلٹ کے اعتماد نے حل نکالا ہے‘۔

ترجمان نے اس صلح کو بی جے پی کے منھ پر کرارا طمانچہ قرار دیا اور کہا کہ’ یہ بی جے پی کو کرارا جواب ہے جو اپوزیشن میں ہو کر اور عوام کی جانب سے برطرف کیے جانے کے باوجود حکومت بنانے کے خواب دیکھ رہے تھی۔ یہ وہی ہیں جو ہر طرح کے ہتھکنڈے اختیار کیے جانے کے بعد بھی بی جے پی اراکین اسمبلی کی پارٹی کی میٹنگ تک نہ بلا پائے بالآخر انھیں ہوٹل میں رکھنا پڑا۔ اب سب گلے شکوے اور کڑواہٹ بھلا کر تمام اراکین اسمبلی اور کانگریس کے ساتھی راجستھان کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے کام کریں گے۔

ایک نظر اس پر بھی

ایردوآن نے یو این میں اٹھایا مسئلہ کشمیر، ’اندرونی معاملات میں دخل نہ دے ترکی‘ انڈیا کی تاکید

 جموں و کشمیر کے حوالہ سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوآن کے بیان پر اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندہ ٹی ایس ترومورتی نے سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی کو دوسرے ممالک کی خودمختاری کا احترام کرنا سیکھنا چاہئے۔

ممبئی میں طوفانی بارش سے سیلابی صورتحال، عام زندگی مفلوج، متعدد رہائشی کالونیاں زیر آب

ملک کی تجارتی راجدھانی ممبئی میں گزشتہ شب سے جاری بھاری بارش کی وجہ سے سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ ستمبر کے مہینے میں اس طرح کی بارش نے ایک بار پھر شہر کی عام زندگی کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔