بی ایم ٹی سی کی تمام بسوں میں صوتی و بصری اعلانات کی سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th June 2019, 10:40 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،11؍جون(ایس او نیوز) روزانہ شہر میں بی ایم ٹی سی کی 6,155 بسیں چلتی ہیں اور 74,292 اسفار کے ذریعہ 11 لاکھ72 ہزار کلو میٹر کا سفر طے کرکے 50 لاکھ دو ہزار افراد کو ان کی منزل تک پہونچاتی ہیں،لیکن شہر میں چلنے والی اکثر بسوں میں صوتی اور بصری (Audio-visual) اعلانات کی سہولت بھی نہیں پائی جاتی -اکثر صارفین کو شکایت ہے کہ صوتی اور بصری اعلانات کی سہولت صرف اے سی بسوں تک محدود ہے-شیواجی نگر کے ساکن اور اکثر بی ایم ٹی سی بس میں سفر کرنے والے راما گوڈا کا کہنا ہے کہ ”اس کی وجہ سے مسافروں کو پریشانی ہوتی ہے، خصوصاً جو لوگ باہر سے آئے ہوئے اور شہر میں نئے ہوتے ہیں ان کے لئے تو بہت زیادہ پریشانی ہوتی ہے-انہیں بار بار کنڈکٹر یا دوسرے مسافروں سے پوچھتے رہنا پڑتا ہے کہ فلاں مقام آگیا یا نہیں“-مئی 2016 میں بی ایم ٹی سی نے انٹلیجنس ٹرانسپورٹ نظام کا اجراء کیا تھاجس کے ذریعہ مسافر حقیقی اوقات کی بنیاد پر بسوں کی آمد و رفت سے واقفیت حاصل کر سکتے تھے-لیکن اکثر بسوں میں اب بھی داخلی آڈیو نظام نہیں لگایا گیا ہے جس کے ذریعہ اگلے بس اڈے کا اعلان کیا جا سکتا ہے،بس اڈوں کے اعلان کی یہ سہولت معذورین کے لئے بھی مفید ہوتی ہے-

ایک نظر اس پر بھی

آئی ایم اے میں سرمایہ کاری کرکے دھوکہ کھانے والے متاثرین کی قانونی مدد کے لئے اے پی سی آر کی خدمات دستیاب

آئی ایم اے میں سرمایہ کاری کرکے دھوکہ کھانے والے متاثرین کی قانونی رہنمائی اور اُن کی  مدد کے لئے  اسوسی ایشن فور پروٹیکشن آف سیول رائٹس  (اے پی سی آر)  کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہے۔جن  لوگوں نے  اپنی چھوٹی چھوٹی سرمایہ  کاری  اس کمپنی میں کی تھی اور اب وہ کنگال ہوچکے ہیں، اے پی ...

جندال اسٹیل کمپنی معاملہ سے متعلق حکومت نے سب کمیٹی تشکیل دی، کے پی سی سی سے استعفیٰ دینے کی خبرو ں میں کوئی سچائی نہیں: دنیش گنڈو راؤ

پردیش کانگریس کمیٹی(کے پی سی سی) صدر دنیش گنڈو راؤ نے کہا کہ جندال کمپنی کے لئے زمین فروخت کرنے کے معاملہ میں ریاستی حکومت نے سب کمیٹی تشکیل دی ہے۔

آئی ایم اے معاملہ میں نرم رویہ اختیار کرنے کاسوال پیدا نہیں ہوتا: ضمیر احمد خان

آئی مانیٹری اڈوائزری (آئی ایم اے) نامی پونزی کمپنی کے دھوکہ دہی معاملہ میں نرم رویہ اختیار کئے جانے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔اس پس منظر میں بی جے پی کی جانب سے عائد کئے جارہے الزامات بکواس ہیں۔