بی جے پی رکن اسمبلی کرشنا کلیانی بھی ترنمول کانگریس میں شامل

Source: S.O. News Service | Published on 28th October 2021, 12:10 AM | ملکی خبریں |

کولکاتا،28؍اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) بنگال بی جے پی کو دھکچے لگنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اب رائے گنج سے بی جے پی کے ممبر اسمبلی کرشنا کلیانی جنہوں نے یکم اکتوبر کو بی جے پی چھوڑ دی تھی نے قیاس آرائیوں کے مطابق آج پارٹی کے سکریٹری جنرل پارتھو چٹرجی کی موجودگی میں ترنمول کانگریس میں شامل ہوگئے۔ کرشنا کلیانی نے بی جے پی سے استعفیٰ دینے کا اعلان کرتے ہوئے رائے گنج سے بی جے پی کی ممبر پارلیمنٹ و دیباشری چودھری کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی ڈسپلنری کمیٹی نے بی جے پی سے استعفیٰ دینے کا اعلان کرنے سے قبل ہی رائے گنج کے ایم ایل اے کو پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دیبا شری ان کے خلاف سازش کر رہی ہے۔

اسمبلی انتخابات کے بعد مکل رائے سمیت پانچ ممبران اسمبلی بی جے پی چھوڑ چکے ہیں۔ دوسری طرف جگناتھ سرکار اور نشیتھ پرمانک نے ایم پی رہنے کے لیے اسمبلی کی رکنیت کے طور پر استعفیٰ دے دیا ہے۔ 30 اکتوبر کو ضمنی انتخاب ہیں۔ اس کے نتیجے میں اس وقت بی جے پی ایم ایل اے کی تعداد 6 گھٹ کر 70 رہ گئی ہے۔ تاہم رائے گنج کی ایم پی دیباشری چودھری نے کرشنا کلیانی کی طرف سے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ایم ایل ایز پارٹی چھوڑ دیتے ہیں تو بھی بی جے پی کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔

کرشنا کلیانی کو پارٹی میں لئے جانے کے بعد پرتھ چٹرجی نے کہا کہ ’’کرشنا کلیانی کو ممتا بنرجی اور ابھیشیک بنرجی کے گرین سگنل کے بعد پارٹی میں لیا گیا تھا۔ کسی کو بھی گرین سگنل کے ساتھ ہی ٹیم میں واپس آنا ہوگا۔ ترنمول کانگریس میں میں شمولیت کے بعد کرشنا کلیانی نے کہا کہ بی جے پی میں صرف سازش ہوتی ہے۔ جنگ جیتنا ممکن نہیں۔ جیتنے کے لیے ترقی کی ضرورت ہے۔ ممتا بنرجی ایسا کر رہی ہیں۔ مرکزی حکومت نوٹوں کو ضبط کر رہی ہے اور جی ایس ٹی کی وجہ سے ماؤں بہنوں کو تکلیف ہو رہی ہے۔ اور ممتا بنرجی کی حکومت سماجی منصوبوں کے ذریعے ہلتے ہوئے کھمبوں کو مضبوط کر رہی ہے۔ ممتا بنرجی نے اپنا وعدہ پورا کیا، اس لیے میں نے بی جے پی چھوڑ دی۔

ایک نظر اس پر بھی

بھیما کوریگاؤں معاملے کی ملزم سدھا بھاردواج کی مشکلات میں اضافہ، ضمانت کے خلاف سپریم کورٹ پہنچی این آئی اے

چھتیس گڑھ کی معروف سماجی کارکن اور وکیل سدھا بھاردواج کو ممبئی ہائی کورٹ کی طرف سے دی گئی ضمانت کے خلاف قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔