بی جے پی کے سینئر لیڈر آر اشوک نے سدارامیا اور کمار سوامی سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 26th May 2019, 11:36 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،26؍مئی (ایس او  نیوز) سوکھے درخت کے پتوں کی مانند جھڑرہے کانگریس اراکین اسمبلی کی آنکھوں میں اندھیراچھا گیا ہے۔ انہیں آگے کوئی راستہ نظر نہیں آرہا ہے۔ ریاست کے عوام نے مخلوط حکومت کی چڈی پھاڑدی ہے۔ اس قسم کی طنزیہ باتیں بی جے پی کے سینئر قائدآر اشوک نے کہیں۔ اخباری نمائندوں کے ساتھ بات چیت کے دوران اشوک نے کہا کہ باہمی ربط و مفاہمت اور کوآر ڈی نیشن کا جذبہ نہ رکھنے والے سدارامیا کو آرڈی نیشن کمیٹی کے صدر بنے ہوئے ہیں۔سدارامیا جو کہتے ہیں بالکل اس کے مخالف واقعات رونما ہوتے ہیں۔ ایڈی یورپا وزیر اعلیٰ نہیں بنیں گے وہ یہ کہتے آرہے ہیں، اب بھی ان کی اس فکر و سوچ کے بالکل مخالف ہونے جارہا ہے۔ شخصی ساکھ و وقار کامسئلہ رہتا ہی ہے۔ لیکن اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے سدارامیا کو چاہئے کہ وہ اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دیں اور ایچ ڈی کمار سوامی وزیر اعلیٰ کے عہدہ سے استعفیٰ دیں۔انہوں نے مزید کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں ریاست کے 177اسمبلی حلقوں میں بی جے پی کو سبقت حاصل رہی ہے۔ اگر اس وقت فوری طور پر ریاست میں اسمبلی انتخابات ہوں تو بی جے پی ریاست کے 177حلقوں میں جیت درج کرے گی۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس۔ جے ڈی ایس پرمشتمل مخلوط حکومت پانی میں ڈوبے جہاز کی مانند ہے۔ایک سال پہلے ہی مخلوط حکومت کے جہاز میں رکن اسمبلی رمیش جارکی ہولی نے سراخ کیا تھا، اس سراخ و چھید کی وجہ سے مخلوط حکومت کا جہاز مسلسل طور پر زیر آب آگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات کے موقع پر ایچ ڈی دیوے گوڈا،سدارامیا اور کمار سوامی سمیت مخلوط حکومت کے قائدین نے وزیر اعظم نریندر مودی پر طعن وطنزیہ حملہ کسے تھے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر بی ایس ایڈی یورپا کو چور، جھوٹا اور جیل کی ہوا کھایا ہوا پرندہ جیسے الفاظ سے تنقید و توہین کی۔ مودی اور ایڈی یورپا کی ہتک کرنے والوں کی آج کیا حالت ہوگئی ہے۔ اس پرغور اور احتساب کرنے کی ضرورت ہے۔ کم از کم اب مخلوط حکومت کے قائدین کوچاہئے کہ وہ ایڈی یورپا کے ساتھ عزت و وقار کے ساتھ پیش آئیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی وزیر برائے تعمیر ات عامہ ایچ ڈی ریونا نے کہا تھا کہ نریندر مودی اگردوبارہ وزیر اعظم بنے تو میں وزارت سے مستعفی ہوجاؤں گا۔ لیکن اب ان کی حالت لیموں دیکھ کروقت گزارنے کی آگئی ہے۔ لیموں ریونا کو چاہئے کہ وہ اپنی بات پر عمل کرتے ہوئے جلد از جلد وزارت سے مستعفی ہوجائیں۔ ٹمکور میں ایچ ڈی دیوے گوڈا ہار گئے تو گبی سرینواس اور سی ایس پٹا راجو نے وزارت سے استعفیٰ دینے کی باتیں کی تھیں اور بی زیڈ ضمیر احمد خان نے کہا تھا کہ نریندر مودی دوبارہ وزیراعظم بن جائیں تو وہ واچ مین بن جائیں گے۔ کیا یہ کہنے والے اپنے کہے کے مطابق عمل کرکے بتائیں گے۔ اس طرح آراشوک نے مخلوط حکومت کے قائدین کوآڑے ہاتھو ں لیا۔

ایک نظر اس پر بھی

بنگلورو میں ایک ہفتہ طویل لاک ڈاؤن، سڑکیں سنسان، راستوں سے سواریاں غائب

بنگلورو میں جہاں ایک ہفتہ طویل لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے، سڑکیں  سنسان رہیں اور راستوں پر لوگوں کی نقل و حرکت بھی بہت کم رہی۔ کورونا وائرس کیسس میں اضافہ کے پیش نظر حکومت کرناٹک نے مذکورہ لاک ڈاؤن نافذ کیا ہے۔

مینگلور : دکشن کنڑا میں ایک ہفتہ تک جاری رہنے والے لاک ڈاون کا آج سے ہوا نفاذ، راستے سنسان، دکانیں بند، عام زندگی مفلوج

کورونا کے بڑھتے معاملات اور روز بروز اضافہ کو دیکھتے ہوئے  ایک ہفتہ طویل لاک ڈاون کا آج  سے مینگلور سمیت دکشن کنڑا ضلع میں نفاذ عمل میں آیا جس کے دوران شہر کی سڑکیں سنسان اور بہت زیادہ چہل پہل والے علاقوں میں بھی سناٹا نظر آیا۔ 

بنگلورکے ساتھ ساتھ ساحلی کرناٹکا میں کورونا کا قہر جاری؛ اُترکنڑا میں 76 معاملات؛ بھٹکل میں پھر ایک شخص کی موت

ریاست کرناٹک بالخصوص بنگلور میں کورونا کا قہر جاری ہے مگر ساحلی کرناٹکا میں بھی کورونا کے معاملات رُکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں، ایک طرف آج ضلع اُترکنڑا میں کورونا کے 76 معاملات سامنے آئے تو وہیں پڑوسی ضلع اُڈپی میں 52 اور دکشن کنڑا میں 76 پوزیٹیو کیسس کی تصدیق ہوئی ہے۔

بھٹکل میں کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافے سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔معمولی علامات پر جانچ کروانے ڈپٹی کمشنر کی ہدایت 

ضلع اُترکنڑا کے  ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ہریش کمار نے عوام سے اپیل کی  کہ بھٹکل میں کورونا مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھ کر گھبرانے یا خوف کھانے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ کورونا پر قابو پانے کے لئے اس کی علامات ظاہرہوتے ہی  اس کا علاج کرنے کی ضرورت ہے۔ بھٹکل میں کورونا کے بڑھتے ...