نیٹ امتحان میں کیمسٹری اور بیالوجی کے پرچے آسان،فزیکس قدر مشکل۔ ماہرین اور طلبہ کا رد عمل،این ای ٹی کے کووِڈ ضوابط کا بھرپور خیال رکھا گیا

Source: S.O. News Service | Published on 14th September 2021, 11:42 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو ،14؍ستمبر (ایس او  نیوز)بروز اتوار 12ستمبر میڈیکل کورسز میں داخلہ کے خواہشمند طلباء کیلئے نیشنل ٹسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے جانب سے نیٹ امتحان مختلف مراکز میں ہوا۔ اس میں امیدواروں نے امتحان کے بعد بتایا کہ فزیکس کا پرچہ مشکل تھا جبکہ کیمسٹری اور بیا لوجی کے پرچے آسان رہے۔امیدواروں اور سبجکٹ ماہرین نے بتایا کہ کیمسٹری اور بیالوجی کے پرچے مقابلتاً آسان تھے۔ تاہم فزیکس میں کیلکیولیشن پر مبنی اور ملٹی کانسپٹ پر مبنی کئی سوالات الجھن میں مبتلا کرنے والے تھے۔اسی دوران امتحان کے انعقاد کے دوران کووڈ کے ضوابط کا پوری طرح خیال رکھا گیا تھا۔امتحان کے بعد مختلف ماہرین اور طلباء نے پرچوں کے بارے میں اپنے خیالا ت کا اظہار کیا ہے۔ ایک تعلیمی ادارے کے سربراہ کے مطابق تمام سوالات نیشنل کونسل فار ایجوکیشنل ٹریننگ اینڈ ریسرچ (این سی ای آر ٹی) کی نصابی کتاب سے تھے اور مجموعی طور پر پرچے طلباء دوست تھے۔ بیالوجی کا پرچہ آسان تھا اور اس میں 69 سوالات سادے اور راست تھے، 22سوالات درمیانی اور 9 مشکل سوالات تھے۔ ان کے مطابق بیالوجی میں ایک اوسط طالب علم 250 سے 260 تک نمبر حاصل کر سکتا ہے۔ فزیکس کا پرچہ اس کے مقابلہ میں مشکل تھا۔ اس میں اوسط طالب علم کو پچاس تا ساٹھ مارکس مل سکتے ہیں۔ کیمسٹری کا پرچہ بھی آسان تھا اور اس میں ایک اوسط امیدوار کے ایک سو تا ایک سو دس مارکس لینے کے امکانات ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کوئی بھی سوال نصاب سے باہر کا نہیں تھا۔ تاہم گذشتہ سال کے مقابلہ فزیکس کا پرچہ مشکل اور طویل بھی تھا۔ میڈیکل سیٹ کے ایک امیدوار نے بتایا کہ سوالنامہ میں بھی گذشتہ سال کے مقابلہ پیٹرن بدلا ہوا تھا۔ بیالوجی میں باٹنی اورزوولوجی کے سوالات الگ الگ حصوں میں دئے گئے تھے۔ فزیکس کے لئے سیکشن بی رکھا گیا تھا۔ اسی طرح اختیاری سوالات بھی شامل کئے گئے ہیں جو ذرا مشکل تھے۔ ایک اور طالب علم نے کہا کہ فزیکس میں الجھن میں مبتلا کرنے والے سوالات تھے جس کی وجہ سے تین گھنٹے کے اسی وقت میں افزود سوالات حل کرنے میں مشکل ہوئی۔ اسی دوران کووڈ ضوابط کا خاص خیال رکھا گیا۔ ایسے طلباء کے لئے جو کورونا پازیٹیو تھے الگ سے امتحان لکھنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ تمام امیدواروں کے لئے یہ لازمی قرار دیا گیا تھا کہ وہ اپنی کووڈ صورتحال کے بارے میں باقاعدہ اعلان کریں۔ اسی طرح ڈریس کوڈ بھی رکھا گیا تھا جس پر تمام طلباء نے سختی سے عمل کیا۔یہ ضوابط این ای ٹی نے بنائے تھے تاکہ کسی طرح بھی اس وباء سے طلباء کو متاثر ہونے سے بچایا جائے۔

ایک نظر اس پر بھی

بنگلورو سمیت سرسی، بیندور اور ریاست کے مختلف مقامات پر پٹرول ، ڈیزل سمیت ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف کانگریس کا تانگہ ، بیل گاڑی جوتتے ہوئے احتجاج

پٹرول، ڈیزل ، پکوان گیس ، پکوان تیل سمیت کئی ایک ضروری اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے خلاف کانگریس لیڈر اور حزب مخالف لیڈر سدرامیا اور کے پی سی سی صدر ڈی کے شیو کمار کانگریس کے ارکان اسمبلی کےساتھ بنگلورو میں تانگہ سواری کرتےہوئے ودھان سودھا پہنچتے ہوئے اپنے احتجاج کو درج ...

بیلتنگڈی : ریاست میں لگی ہے غیر اعلان شدہ ایمرجنسی ۔ کانگریسی لیڈر وسنت بنگیرا کا الزام

مندروں کو منہدم کرنے کی ریاستی  پالیسی کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے سابق ایم ایل اے اور کانگریسی لیڈر وسنت بنگیرا نے الزام لگایا کہ حکومت کی طرف سے  ریاست میں غیر معلنہ ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے جس کے چلتے احتجاجی مظاہرے منعقد کرنے میں رکاوٹ پیدا کی جارہی ہے ۔

بھٹکل : ضلع شمالی کینرا میں بجلی سربراہی کی مسئلہ پر وزیر توانائی کے ساتھ اراکین اسمبلی نے کی گفتگو

کرناٹکا ودھان سودھا میں اسپیکر وشویشورا ہیگڈے کاگیری اور ضلع شمالی کینرا انچارج وزیر شیورام ہیبار کی موجودگی میں کمٹہ، ہلیال اور بھٹکل کے اراکین اسمبلی نے وزیرتوانائی سنیل کمار سے ملاقات کی اور کاروار، انکولہ سرسی، ہوناوراور بھٹکل جیسے مقامات بجلی سربراہی سے متعلق مسائل ...

کرناٹک بی جے پی آر ایس ایس کی کٹھ پتلی، اسی کے حکم پر عمل کر رہی ہے: سدارمیا

  کرناٹک میں قائد حزب اختلاف  سدارمیانے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بومئی سمیت پوری حکومت آر ایس ایس کی کٹھ پتلی کی طرح برتاؤ کر رہی ہے اور اسی کے حکم پر عمل کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی کو جمہوریت اور پارلیمانی نظام حکومت پر کوئی یقین نہیں ہے۔ انہوں نے ...

کرناٹک حکومت تیسری لہر کے لیے مستعد، 20 فیصد بیڈ بچوں کے لیے مختص

داکٹر سدھاکر نے بتایا کہ ماہرین پر مشتمل ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹی کی تجویز پر بچوں کو کووڈ  کی ممکنہ تیسری لہر کے دوران زیادہ خطرے کے پیش نظر حکومت نے سرکاری اور نجی سطح پر 25870 آکسیجن سپورٹ بیڈ اور 502 پیڈیاٹرک وینٹی لیٹر تیار کیے ہیں۔