بنگلورو تشدد معاملہ : علماء کرام و ملی تنظیموں کے وفد کی وزیر اعلی یڈ ی یورپا سے ملاقات

Source: S.O. News Service | Published on 16th September 2020, 10:34 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،16؍ستمبر (ایس او نیوز) بنگلورو کے ڈی جے ہلی ، کے جی ہلی علاقوں میں پچھلے ماہ پیش آئے تشدد اور اس معاملے میں بڑے پیمانے پر ہوئی گرفتاریوں کے سلسلے میں اکابر علماء کرام اور ملی تنظیموں کے وفد نے وزیر اعلی بی ایس یڈ ی یورپا سے ملاقات کی۔ ریاست کرناٹک کے امیر شریعت مولانا صغیر احمد رشادی کی صدارت میں امارت شرعیہ کرناٹک ، جمعیت علماء ہند ، اہل سنت و الجماعت ، جماعت اسلامی ہند ، جمعیت اہل حدیث ، کرناٹک مسلم متحدہ محاذ ، ملی کونسل کے نمائندوں نے وزیر اعلی سے ملاقات کرتے ہوئے اہم مسائل پر گفتگو کی۔ 11 اگست 2020 کو پیغمر اسلام کی شان میں گستاخی کے واقعہ اور اس کے بعد پھوٹ پڑنے والے تشدد کو علماء کرام نے ریاست کی پرامن فضا کو مکدر کرنے کی منصوبہ بند کوشش قرار دیا۔

علماء کرام نے وزیر اعلی کو تحریری طور پر یادداشت پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس پورے واقعہ کی منصفانہ تحقیقات کی جائے اور اس کیلئے باضابطہ کمیشن بٹھایا جائے ۔ اصل خاطیوں کی نشاندہی اور ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔ جمعیت علماء ہند کے ریاستی صدر مولانا افتخار احمد قاسمی نے کہا کہ نوین نامی ایک ملزم کی سوشل میڈیا میں توہین آمیز پوسٹ کی وجہ سے تشدد پھوٹ پڑا ہے ۔ سوشل میڈیا کے ذریعہ نفرت اور اشتعال انگیزی پھیلانے والوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کا وزیر اعلی سے مطالبہ کیا گیا ہے ۔ علماء کرام اور ملی تنظیموں نے وزیر اعلی سے یہ مانگ کی کہ اس معاملہ میں بے گناہوں اور معصوموں کی پکڑ دھکڑ پر فوری طور پر روک لگائی جائے ۔ گرفتار بے قصور نوجوانوں کو باعزت طریقے سے رہا کیا جائے ۔ مولانا افتخار احمد قاسمی نے کہا کہ وفد نے وزیر اعلی کے سامنے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ گرفتار کئے گئے کئی نوجوانوں کے خلاف سخت ترین دفعات نافذ کی گئی ہیں ۔ اس معاملے میں ملزمین کو قوم دشمن، ملک دشمن ٹھہرانے کی کوشش ایک طبقہ کے ساتھ زیادتی ہے ۔ خاطیوں کو مناسب سزا دی جائے لیکن اس واقعہ کو ملک مخالف سرگرمیوں کے زمرے میں لانا مناسب نہیں ہے۔ اس اہم میٹنگ میں ریاست کے  وزیر داخلہ بسوراج بمئی بھی موجود تھے۔

بنگلورو سٹی جامع مسجد کے خطیب و امام مولانا مقصود عمران رشادی نے کہا کہ وزیر اعلی سے مثبت انداز میں گفتگو ہوئی ہے ۔ وزیر اعلی یدی یورپا نے بھروسہ دیا ہے کہ وہ اس معاملے میں بے قصوروں کے ساتھ زیادتی ہونے نہیں دیں گے۔ اس سلسلے میں ضروری ہدایات جاری کرنے کی بھی وزیر اعلی نے یقین دہانی کرائی ہے ۔ علماء کرام اور ملی تنظیموں کے وفد نے وزیر اعلی سے اپیل کی ہے کہ آئندہ اس طرح کے واقعات پر روک لگانے کیلئے سخت اقدامات کئے جائیں ۔ وفد نے کہا کہ سوشل میڈیا افواہوں اور شرارتوں کا آسان پلیٹ فارم بن چکا ہے ۔ لہذا اس پلیٹ فارم کے ذریعہ کی جانے والی ہر شر انگیزی پر سختی سے روک لگائی جائے ۔ وفد نے یہ مطالبہ کیا کہ قانون کی بالادستی کے ساتھ آئندہ کسی قوم یا مذہب کی محترم شخصیات کی شان میں گستاخی کے خلاف سختی سے نمٹا جائے ۔ ڈی جے ہلی کے واقعہ میں پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کرنے والے اصل مجرم کو اور مذموم خاکہ تیار کرنے اور اس کی تشہیر کرنے والے نوین نامی ملزم کے کردار کو بھی واضح کرتے ہوئے منظر عام پر لایا جائے۔

سینٹرل کرائم برانچ (سی سی بی) کے ذرائع کے مطابق ڈی جے ہلی اور کے جی ہلی فسادات میں 387 ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ مزید 45 ملزمین کی تلاش جاری ہے ۔  اس اہم ملاقات کے دوران علماء کرام نے وزیر اعلی یدی یورپا کی صحت و عافیت اور عمر درازی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔ واضح رہے کہ چند دنوں قبل یدی یورپا کورونا مرض سے صحت یاب ہوئے ہیں ۔ اس موقع پر علماء کرام اور ملی تنظیموں کے وفد نے کورونا وبا اور لاک ڈاؤن کے دوران ریاست کرناٹک میں امن و امان قائم رکھنے کی وزیر اعلی کی کوششوں کی ستائش کی ہے۔

امیر شریعت مولانا صغیر احمد رشادی کی جانب سے جاری تحریری یادداشت میں کہا گیا کہ کورونا وبا کے دوران ریاست میں ایک طبقہ کو نشانہ بنانے، بدنام کرنے کی کوششوں کو وزیر اعلی نے سختی سے کچلتے ہوئے اس کا سدباب کیا ہے ۔ اقلیتوں کا اعتماد اور بھروسہ جیتنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ علماء کرام اور ملی تنظیموں کے وفد نے کہا کہ آنے والے دنوں میں بھی ریاست کی اقلیتیں  وزیر اعلی سے اسی طرح انسانیت نوازی، رحم دلی اور انصاف پسندی کیلئے پرامید ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

مرسی مشن کی کورونا متاثرین کیلئے خدمات کے 6 ماہ مکمل، ضرورت مندوں کی مدد کے لئے جوش کے ساتھ سلیقہ مندی کے امتزاج کی انوکھی مثال

شہر بنگلورو میں جب سے کورونا وائرس کے واقعات نے سر اٹھانا شروع کیا، اس وقت سے ہی شہر کے نوجوانوں کی ٹیم ضرورت مندوں کی مختلف زاویوں سے ہر ممکن مدد کرنے کے لئے متحرک رہی ہے