بابری مسجد ملکیت مقدمہ: سپریم کورٹ میں حتمی بحث آج ختم، فیصلہ محفوظ۔ رام للا کے وکیل کی طرف سے پیش کردہ نقشہ ڈاکٹر راجیو دھون نے کیوں پھاڑا ؟ کیا ہے پورا معاملہ ؟

Source: S.O. News Service | Published on 16th October 2019, 7:36 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی 16/اکتوبر(ایس او نیوز/پر یس ریلیز) بابری مسجد رام جنم بھومی ملکیت تنازعہ معاملہ میں آج بالآخر سپریم کورٹ نے فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا اور فریقین کو حکم دیا کہ وہ تین دن کے اندر اپنے تحریری جوابات داخل کردیں نیز عدالت نے فریقین سے سپریم کورٹ کو حاصل خصوصی اختیارات پر  مشورہ بھی طلب کیا ہے۔

آج حتمی بحث کی سماعت کا 40 واں دن تھا جس کے دوران فریق مخالف یعنی کہ رام مندر کی حمایت میں عرضداشت داخل کرنے والے سینئر وکلاء سی ایس ودیاناتھن، رنجیت کمار، جئے دیپ گپتا، وکاس سنگھ، ایس کے جین، پی این مشراء اور دیگر نے مختصراً بحث کی اور عدالت کو بتایا کہ صرف مغل اور انگریز حکومت کی جانب سے گرانٹ اور منظوری مل جانے سے مسلمانوں کو حق ملکیت نہیں دی جاسکتی اوریہ کہ مسلمانوں نے حق ملکیت کا سوٹ مقررہ میعاد میں داخل نہیں کیا ہے  اس لئے وہ  ناقابل سماعت ہے۔

آج سب سے پہلے رام للا کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ  سی ایس ویادناتھن نے بحث شروع کی اور عدالت کو بتایا کہ مسلمان کسی بھی مسجد میں نمازپڑھ سکتے ہیں لیکن ہندوؤں کے لئے ایودھیا رام کا جنم استھان ہے اور ان کی اس جگہ سے آستھا جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رام کے ماننے والے رام جنم استھان کا درشن صدیوں سے کرتے آرہے ہیں حالانکہ انگریزوں نے انہیں مسجد کے اندرونی صحن میں جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ مسلم فریق نے عدالت میں ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جس سے یہ واضح ہوکہ متذکرہ اراضی مسلمانوں کے خصوصی قبضہ میں تھی نیز ایسا کوئی بھی ریکارڈ موجود نہیں ہے کہ متنازعہ اراضی کے مالک مسلمان ہیں۔انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ ہوسکتا ہے کہ 1857 سے 1934کے درمیان مسلمانوں نے مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کی ہو لیکن اس کے بعد مسجد میں نماز ادا کرنے کے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں اس کے برخلاف ہندؤ ہمیشہ سے اس جگہ پر پوجا پراتھنا کرتے رہے ہیں۔

سی ایس ودیا ناتھن کی بحث کے بعد ایڈوکیٹ رنجیت کمار نے بحث کی شروع کی اور عدالت کو بتایا کہ پوجا کرنے کے لیئے مورتی کا ہونا ضروری نہیں بلکہ عقیدہ اہمیت رکھتا ہے۔ ایڈوکیٹ رنجیت کمار کی بحث کے بعد ایڈوکیٹ وکاس سنگھ نے بحث شروع کی  اورعدالت میں چند تاریخی کتابیں پیش کرنے کی کوشش کی جس پر جمعیۃ علماء ہندکے وکیل ڈاکٹر راجیو دھون نے شدید احتجاج کیااور عدالت کو کہا کہ نئی کتابیں پیش کرنے کا وقت جاچکا ہے لہذا آج عدالت کو ان کتابوں کو ریکارڈ پر نہیں لینا چاہئے۔وکاس سنگھ نے کتابوں کے ساتھ ساتھ ایک نقشہ بھی عدالت میں پیش کیا جس پر ڈاکٹر راجیو دھون مزید آگ بگولہ ہوگئے اور عدالت کو کہا کہ وہ اس نقشہ کو پھینک دیناچاہتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے انہیں کہا کہ وہ اسے پھاڑ سکتے ہیں جس کے بعد ڈاکٹر راجیو دھو ن نے بھری عدالت میں اس نقشہ کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جس پر فریق مخالف نے عدالت میں واویلا مچاد یا اور شوشل میڈیا پر یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی۔

اسی درمیان وکاس سنگھ کی جانب سے داخل کی گئی کتابوں کو چیف جسٹس نے قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسے پڑھ لیں گے اور وہ اس کا مطالعہ سبکدوش ہوجانے کے بعد بھی کرتے رہیں گے جس پر ایڈوکیٹ وکاس گپتا نے کہا کہ اگر فیصلہ لکھنے سے قبل اس کا مطالعہ کیا جائے گاتو یہ سودمند ثابت ہوسکتی ہیں۔ایڈوکیٹ وکاس سنگھ کی بحث کے بعد نرموہی اکھاڑہ کے وکیل ایس کے جین نے بحث شروع کی اور عدالت کو بتایا کہ مسلمان یہ ثابت کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں کہ حق ملکیت پر ان کا دعوی بنتا ہے نیز انہوں نے مزید کہا مسلمانوں کی جانب سے داخل کردہ سوٹ Limitation کے تحت ناقابل سماعت ہے۔ایڈوکیٹ ایس کے جین کی بحث کے بعد سینئر ایڈوکیٹ پی این مشراء نے وقف اور limitation پر بحث کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ جس وقف کی بات مسلم فریق کررہے ہیں وہ وقف قانونی وقف ثابت نہیں ہوا ہے بلکہ اس کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ کس کی زمین تھی اور کس نے وقف کیا تھا البتہ یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ بابر کے حکم پر میر باقی نے مسجد کی تعمیر کی تھی۔انہوں نے مزیا کہاکہ 1885 میں پہلی بار انکشاف ہوا کہ مسلم اور ہندو دونوں عبادت کرتے تھے یعنی کہ 1885 سے قبل یہاں پر ہندوؤں کا قبضہ تھااور وہی وہاں پر عبادت کرتے تھے۔انہوں نے عدالت میں مسلمانو ں کی جانب سے وقت مقررہ میں سوٹ داخل نہیں کرنے کا سوال اٹھایا۔

آج چیف جسٹس آف انڈیا نے ہندو فریقین کو زیادہ بحث کرنے کی اجازت نہیں دی بلکہ انہوں نے سب سے کہا کہ وہ اپنے تحریری جواب داخل کریں عدالت انہیں پڑھ لیگی۔

دوپہر کے کھانے کے بعد متذکرہ وکیلوں کی بحث کا جواب دینے کے لئے  ڈاکٹر راجیو دھون کھڑے ہوئے اور پانچ رکنی آئینی بینچ جس میں چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گگوئی، جسٹس اے ایس بوبڑے، جسٹس چندرچوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس عبدالنظیرشامل ہیں کو بتایاکہ میڈیا میں یہ بات گردش کررہی ہے کہ انہوں نے عدالت میں نقشہ پھاڑا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے نقشہ پھینک دینے کی اجازت طلب کی تھی جس پر چیف جسٹس نے انہیں کہا تھا کہ وہ نقشہ کو پھاڑ سکتے ہیں تو انہوں نے پھاڑدیا لہذا انہوں نے ایسا چیف جسٹس کے حکم پر کیا، راجیو دھو ن کے اس بیان پر چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ قبول کرتے ہیں کہ ڈاکٹر راجیو دھون نے ان کے حکم پر نقشہ پھاڑا ہے۔

ڈاکٹر راجیو دھو ن نے کہا اسلام ایک خوبصورت مذہب  ہے اور اس کی تعلیمات سے متاثر ہوکر لوگوں نے اسلام مذہب قبول کیا، ہندوستان میں سیکڑوں حملہ آور آئے اور گئے لہذاعدالت آج ان کے اس فعل کو قانونی اور غیر قانونی طے کرنے نہیں بیٹھی ہے بلکہ عدالت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ مسلمانوں کی عبادت گاہ کو شہید کیا گیا نیز آج بھی مسلمانوں کے پاس مسجد کو دوبارہ تعمیر کرنے کا حق ہے لہذا عدالت کو انہیں یہ حق واپس دینا چاہئے جسے سلب کیا گیا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ رام چبوترہ بھی مسجد کا حصہ ہے صرف عمارت ہی نہیں پوری جگہ ہی مسجد کا حصہ تھی اور ہماری تھی اور ہمیں مسجد کو  دوبارہ تعمیر کرنے کا اختیارہے، عمارت بھلے ہی ڈھادی گئی لیکن مالکانہ حق ہماراہی ہے۔انہوں نے مزید کہا مسجد کی قانونی حیثیت کو انگریز وں، مغلوں اور دیگر نے قبول کیا تھا، مسجد کو گرانٹ دی جاتی تھی لہذا ہم نے دستاویزات کے ذریعہ یہ ثابت کیاکہ مسجد کا وجود تھا اور مسلمان عبادت کرتے تھے۔

ڈاکٹر دھو ن نے ہندو فریقوں کی جانب سے جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے عدالت میں داخل کئے گئے تراجم پر اعتراض کرنے پر کہا کہ ہم نے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ہندی کے ترجموں کو انگریز ی میں کیا تھااور ایک سال قبل اسے عدالت میں داخل کیا تھا جس پر آج اعتراض کیا جارہا ہے، ابتک فریق مخالف سورہا تھا کیا؟ ڈاکٹر دھون نے کہا کہ ایڈوکیٹ پی این مشرا ء نے زمین کے قانون پر بحث کی حالانکہ ان کی معلومات ناقص ہے جس پر پی این مشراء غصہ ہوگئے اور کہا کہ انہوں نے زمین کے قوانین پر متعدد کتابیں لکھی ہیں جسے پڑھ کر طلباء نے  پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے، پی این مشراء کے اس بیان پر دھو ن نے کہا کہ ایسے طلباء کو ڈاکٹر کی ڈگری نہیں دی جانی چاہئے جس پر عدالت میں ماحول خوشگوار ہوگیا اور سب ہنسنے لگے۔ڈاکٹر دھون نے اپنی بحث میں ہندو مہا سبھا کی قانونی حیثت پر بھی بحث کی اور عدالت کو بتایا کہ ابتک چار لوگوں نے ہندو مہا سبھا کی جانب سے بحث کی ہے اور ان چاروں کی بحث میں تضادہے، انہوں نے عدالت کو گمراہ نہیں کیا؟ ڈاکٹر دھون نے کہا کہ مہنت دھرم داس کی نمائندگی کرنے والے نرموہی اکھاڑہ نے کبھی شبعیت ہونے کا ثبوت نہیں دیا بلکہ وہ ہمیشہ سے پجاری ہی تھے ڈاکٹر دھون نے کہا کہ فریق مخالف نے عدالت میں ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جس سے ان کے دلائل کو مضبوطی ملتی ہو بلکہ انہوں نے صرف آستھا کا سوال اٹھایا ہے۔ڈاکٹر دھو ن نے کہا کہ ان کا دعویٰ صرف مسجد کے اندرونی صحن پر نہیں ہے بلکہ مسجدکے باہری صحن پر بھی ہے نیز عدالت کو انہیں مکمل اراضی کا قبضہ دینا چاہئے۔

 ڈاکٹر راجیو دھو ن نے اپنی بحث کا اختتام مندرجہ ذیل  اشعارپڑھتے ہوئے کیا۔

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا            ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا
یونان و مصرو روما سب مٹ گئے جہاں سے      اب تک مگر ہے باقی نام ونشاں ہمارا
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری          صدیوں رہا ہے  دشمن دور زماں ہمارا

وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے         تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں 
نہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والوں         تمہاری داستاں تک  بھی نہ ہوگی داستانوں میں 

آج دوران کارروائی عدالت میں ڈاکٹر راجیو دھون کی معاونت کے لیئے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجازمقبول، ایڈوکیٹ اکرتی چوبے، ایڈوکیٹ قراۃ العین، ایڈوکیٹ شاہد ندیم،ایڈوکیٹ گوتم پربھاکر، ایڈوکیٹ کنور ادیتیا، ایڈوکیٹ سدھی پاڈیا، ایڈوکیٹ واصف رحمن خان و دیگر موجود تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

کشمیر: تاریخی جامع مسجد 15 ویں جمعے کو بھی مقفل، نماز پر پھر قدغن

 وادی کشمیر میں 103 دنوں سے جاری غیر یقینی صورتحال سایہ فگن رہنے کے بیچ جہاں ایک طرف معمولات زندگی پٹری پر آرہے ہیں تو وہیں انٹرینٹ اور ایس ایم ایس خدمات کی مسلسل معطلی کے ساتھ ساتھ نوہٹہ میں واقع تاریخی جامع مسجد کے محراب ومنبر 15 ویں جمعہ کو بھی خاموش رہے۔

کشمیرمیں اہم رہنماؤں کونظربند رکھنے کی وجہ بتائے حکومت: کانگریس

کانگریس نے کہاہے کہ جموں کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہونے کے بارے میں پوری دنیا میں شور مچارہی مودی حکومت کوبتانا چاہیے کہ کشمیر کو ملک کا اٹوٹ حصہ بنائے رکھنے میں تعاون کرنے والے مرکزی دھارے کے رہنماؤں کو حراست میں کس وجہ سے رکھاگیاہے۔