نجی ہوائی اڈوں پر کام کرنے والے 2 لاکھ ملازمین کی نوکریوں پر خطرہ

Source: S.O. News Service | Published on 6th April 2020, 3:31 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،6؍اپریل(ایس او نیوز؍ایجنسی) كورونا وائرس نے ایئر لائن اور ہاسپیلٹی شعبہ کو کافی نقصان پہنچایا ہے، اس کی وجہ سے ملک کے نجی ایئر پورٹ آپریٹرز کے ساتھ کام کرنے والے دو لاکھ ملازمین کی نوکریوں پر خطرہ منڈلانے لگا ہے، ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ ایئر پورٹ آپریٹرس (اے پی اے او) نے مرکز سے اپیل کی ہے کہ وہ نہ صرف مالی طور پر ریلیف پیکیج دے، بلکہ اس سیکٹر کو برقرار رکھنے کے لئے بنیادی اثاثے کو بنائے رکھیں۔

موجودہ وقت میں ہوائی اڈوں پر کام کر رہے قریب 2 لاکھوں 40 ہزار لوگوں کی نوکریاں خطرہ میں ہیں۔ جس میں ہوائی اڈے پر کام کرنے والے نجی آپریشن کے ملازمین بھی شامل ہیں۔ نوکری سے نکالے جانے کا خوف پورے ملک میں محسوس کیا جا رہا ہے، کیونکہ نئی دہلی، ممبئی، بنگلور اور حیدرآباد جیسے کچھ بڑے ہوائی اڈے ہیں، جسے نجی ادارے سنبھالتے ہیں۔

لاک ڈاؤن کی وجہ سے 14 اپریل تک کسی گھریلو یا بین الاقوامی پروازوں کی اجازت نہیں ہے، صرف کارگو جہازوں کو اجازت دی گئی ہے، جس کی وجہ سے ان ایوی ایشن کمپنیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، ان ایوی ایشن کمپنیوں کی نہ صرف آمدنی کم ہوئی ہے، بلکہ ان کے اوپر متعلقہ ہوائی اڈوں کا محصول ادا کرنے کا بھی بھاری دباؤ ہے۔

ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ ایئر پورٹ آپریٹرس کے سکریٹری جنرل ستين نائر نے آئی اے این ایس سے کہا، کہ "ہم نے حکومت سے نجی ہوائی اڈہ آپریٹرز کے لئے کچھ امداد کے اقدامات کرنے کی درخواست کی ہے، اس امداد سے كورونا وائرس کے سبب ہوائی اڈوں پر پڑنے والے مالی بوجھ کو براہ راست کم کرے گا۔" انہوں نے کہا، " نجی ہوائی اڈہ آپریٹرز کو ریلیف دیئے جانے کی ضرورت ہے، بصورت دیگر نجی ہوائی اڈہ آپریٹرز اخراجات کو کم کرنے کے لئے ملازمین کو کم کرنے کی جانب قدم بڑھا سکتی ہے، اس لئے حکومت کی جانب سے نجی ہوائی اڈہ آپریٹرز کو ریلیف دیئے جانے کی ضرورت ہے"۔

ایک نظر اس پر بھی

تبلیغی جماعت کے ارکان کے خلاف درج کیس میں کسی کی گرفتاری نہیں: دہلی پولیس نے ہائی کورٹ کو دیا جواب

دہلی پولیس نے دہلی ہائی کورٹ کو منگل کو بتایا کہ کووڈ19 لاک ڈاؤن کے دوران نظام الدین مرکز میں ہوئے مذہبی اجتماع میں حصہ لینے کے لئے تبلیغی جماعت کے ارکان کے خلاف درج کیس میں اس نے نہ تو کسی کو گرفتار کیا ہے اور نہ ہی کسی کو حراست میں لیا ہے۔

جموں کے ایک وکیل اور کشمیر کی ایک خاتون کورونا سے ہلاک، لوگ دہشت زدہ

 جموں سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل اور جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کی ایک خاتون کی موت کے بعد کورونا ٹیسٹ مثبت آنے سے جموں و کشمیر یونین ٹریٹری میں اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 23 ہوگئی ہے۔ ان ہلاکتوں کے بعد لوگوں میں ایک دہشت کا ماحول بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔