سرکاری ایجنسیوں سے زیادہ میڈیا مجھے ہراساں کررہاہے: ڈی کے شیوکمار 

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th September 2018, 9:26 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،10؍ستمبر(ایس اونیوز) ریاستی وزیر برائے آبی وسائل ڈی کے شیوکمار نے مرکزی ایجنسیوں کی طرف سے انہیں گرفتار کئے جانے کے متعلق خبروں پر اپنی سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ایسی خبروں سے انہیں ہراساں کئے جانے کا انہیں خوف نہیں ہے۔

دہلی میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ دہلی میں ان کے تین گھر ہیں ان تینوں میں کسی گھر میں وہ رہیں گے ایجنسیوں کے پاس اگر ایسا کوئی ثبوت ہے جس کی بنیاد پر انہیں گرفتار کیا جاسکتاہے تو کسی بھی وقت انہیں گرفتار کرسکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ قانون کے دائرے میں رہ کر ایجنسیاں جوکرنا چاہتی ہیں کرلیں۔اس کا وہ قانون کے مطابق جواب دینے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔

ڈی کے شیوکمار نے کہاکہ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ یا انکم ٹیکس افسروں کی طرف سے اب تک انہیں ذاتی طور پر کبھی ہراساں نہیں کیا گیا، لیکن اس سلسلے میں بی جے پی کے مختلف حلقوں اور بعض ذرائع ابلاغ میں جس طرح کی خبریں عام کی جاتی ہیں وہ انہیں تکلیف کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں کس سیاست دان کے خلاف کتنے کیس درج ہوئے اور ان پر کیا کارروائی ہوئی اس سے وہ بخوبی واقف ہیں۔ اس میدان کے وہ پرانے کھلاڑی ہیں اسی لئے کسی کو اگر یہ گمان ہے کہ ایجنسیوں کا نام لے کر انہیں ڈرایا دھمکایا جاسکتا ہے تو وہ اس کی خام خیالی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ دہلی میں انہوں نے کسی وکیل سے بھی ملاقات نہیں کی بلکہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ کسی بھی ایجنسی کی طرف سے جانچ کی جائے تو اس کا سامنا کرنے وہ خود تیار ہیں۔ 

ایک نظر اس پر بھی

کیا جنگلاتی زمین کے حقوق سے متعلقہ مسائل حل کرنے میں دیش پانڈے ہورہے ہیں ناکام ؟ کاروار میٹنگ میں کئی اہم آفسران کی غیر حاضری پر دیش پانڈے گرم

کیا جنگلاتی زمین کے حقوق سے متعلقہ مسائل حل کرنے میں ضلع اُترکنڑا کے انچارج وزیر آر وی  دیش پانڈے ہورہے ہیں ناکام ثابت ہورہے ہیں ؟ یہ سوال اس لئے پیدا ہورہا ہے کہ پیر کو کاروار کے  ضلع پنچایت میٹنگ ہال میں منعقدہ کرناٹکا ڈیولپمنٹ پروگرام (کے ڈی پی) کی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے ...

بنگلورو میں گڈھوں کو بند کرنے میں بی بی ایم پی کی سست روی پر ہائی کورٹ برہم

شہر میں مسلسل بارش کی وجہ سے سڑکوں پر گڈھوں کی تعداد میں دن بدن اضافے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ریاستی ہائی کورٹ نے بی بی ایم پی کی طرف سے گڈھوں کو بند کرنے میں اپنائی جارہی سست روی پر برہمی کا اظہار کیا ہے