کرناٹک میں اتحاد کو لے کر جنتا دل (ایس)سے بات کرے گا بایاں محاذ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 9th February 2018, 8:26 PM | ریاستی خبریں |

حیدرآباد،09؍ فروری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) بائیں بازو کی جماعت سی پی ایم اور سی پی آئی نے کرناٹک اسمبلی انتخابات کے لئے ایچ ڈی دیوگوڑا کی قیادت والے جنتا دل (ایس)کے ساتھ اتحاد کو لے کر مشترکہ طور پر بات چیت کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔سی پی آئی کے جنرل سکریٹری سراورم سدھاکر ریڈی نے کہا کہ جنتا دل (ایس) کے ایک سینئر پارٹی عہدیدار نے الیکشن سے پہلے ممکنہ اتحاد کے سلسلے میں ان سے بات چیت کی ہے۔کرناٹک کی 224 رکنی اسمبلی کی مدت مئی میں ختم ہو رہی ہے۔ریڈی نے کہاکہ میری سیتا رام یچوری (سی پی ایم کے جنرل سکریٹری) سے بات چیت ہوئی ہے، ہم ساتھ مل کر ان سے (جنتا دل ایس)بات چیت کرنا چاہتے ہیں، اگر ممکن ہوا تو ہم ان کے ساتھ بات چیت کریں گے۔سی پی آئی لیڈر نے کہا کہ انہوں نے یچوری سے کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں کرناٹک یونٹ سے بات چیت کریں۔ریڈی نے کرناٹک میں اپنی پارٹی کی یونٹ سے کہا ہے کہ وہ ریاستی سطح پر پارٹی کے اندر اور سی پی ایم سے بحث کرے اور پھر ساتھ ملنے کا فیصلہ لیا جائے۔

ایک نظر اس پر بھی

مڈکیری میں سیلاب سے متاثرہ علاقہ کے دورہ کے وقت ہی زمین کھسک گئی؛ ایم پی اور ایس پی بال بال بچ گئے

ضلع کورگ کے مڈکیری عرف مرکیرہ کے رکن اسمبلی اپاجو رنجن کے  بارش سے متاثرہ علاقوں کا  دورہ کرنے کے موقع پر اچانک زمین کھسکنے کی واردات پیش آئی ہے، بتایا گیاہے کہ ان کے ہمراہ ضلع کورگ کی ایس پی ڈاکٹڑ سومنا پنّیکر بھی موجود تھی۔

ریاست کرناٹک میں جاری موسلادھار بارش کی وجہ سے کئی اضلاع متاثر؛ مڈکیری میں قیامت صغریٰ کا منظر

بادل کے پھٹ پڑنے اور جگہ جگہ پہاڑاور زمینات کے کھسکنے سے کورگ ضلع کی حالت بہت ہی سنگین ہوگئی ہے۔ندیوں میں طغیانی ، تیز رفتار سے بہتا پانی ، کھسکتے پہاڑ و زمین کی وجہ سے کورگ ضلع  میں قیامت صغریٰ کا منظر ہے۔ جان ومال کے بھاری نقصان کو دیکھتے ہوئے راحت کاری کے لئے آرمی اور نیوی کے ...

بارش کے متاثرین کی بھرپور مدد کرنے شیوکمار کا مطالبہ

ریاستی وزیر برائے آبی وسائل ومیڈیکل ایجوکیشن ڈی کے شیوکمار نے کہا ہے کہ ریاست کے کورگ ، ملناڈ اور پڑوسی ریاست کیرلا میں مسلسل بارش کے سبب سیلاب کی جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس سے متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لئے ریاستی عوام کو فراخدلی سے قدم بڑھانا چاہئے۔