پوکسو معاملوں سے نپٹنے وکلا کو خصوصی تربیت

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 27th August 2018, 11:02 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،27؍اگست(ایس او نیوز) بچوں پر مظالم کے انسداد کے لئے ریاستی حکومت کی طرف سے منظور کردہ پوکسو قانون کے تحت جو بھی مقدمات درج کئے جارہے ہیں ان سے نپٹنے کے لئے ریاستی حکومت کی طرف سے صوبائی اور ضلعی سطحوں پر وکلاء کو خصوصی تربیت سے آراستہ کیا جائے گا، یہ بات آج نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہی۔

ودھان سودھا میں پوکسو معاملوں سے نپٹنے کے لئے ضلع اور تعلقہ سطحوں کے سرکاری وکیلوں کے لئے منعقدہ کارگاہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ضلعی سطح پر وکلاء کو سینئر وکیلوں کے ذریعے پوکسو قانون کے مختلف حصوں اور دفعات کے متعلق جانکاری کے لئے تربیت کا اہتمام کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پوکسو سے جڑے معاملوں سے نپٹنے میں بیشتر اوقات ضلعی وکیلوں کی طرف سے مناسب پیروی نہیں ہوپارہی ہے، جس کی وجہ سے ایسے سنگین جرائم میں ملوث ملزم آسانی سے بچ نکل جاتے ہیں ، آنے والے دنوں میں ایسی صورتحال پیدا نہ ہونے پائے اس کے لئے امیدواروں کو خصوصی تربیت سے آراستہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بچوں پر مظالم روکنے کے بنیادی مقصد سے پوکسو قانون کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے۔ لیکن اس قانون کو عملی شکل دینے میں اکثر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہاکہ فی الوقت پوکسو کے تحت جتنے بھی معاملے درج ہیں پندرہ دنوں کے اندر ان پر نظر ثانی کی جائے گی اور یہ کوشش کی جائے گی ان معاملوں کو ذاتی دلچسپی سے نپٹایا جائے۔ اس موقع پر ریاستی پولیس کی ڈائرکٹر جنرل نیلا منی راجو ، محکمۂ داخلہ کے چیف سکریٹری رجنیش گوئل اور دیگر اعلیٰ پولیس عہدیدار موجود تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

کیا جنگلاتی زمین کے حقوق سے متعلقہ مسائل حل کرنے میں دیش پانڈے ہورہے ہیں ناکام ؟ کاروار میٹنگ میں کئی اہم آفسران کی غیر حاضری پر دیش پانڈے گرم

کیا جنگلاتی زمین کے حقوق سے متعلقہ مسائل حل کرنے میں ضلع اُترکنڑا کے انچارج وزیر آر وی  دیش پانڈے ہورہے ہیں ناکام ثابت ہورہے ہیں ؟ یہ سوال اس لئے پیدا ہورہا ہے کہ پیر کو کاروار کے  ضلع پنچایت میٹنگ ہال میں منعقدہ کرناٹکا ڈیولپمنٹ پروگرام (کے ڈی پی) کی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے ...

بنگلورو میں گڈھوں کو بند کرنے میں بی بی ایم پی کی سست روی پر ہائی کورٹ برہم

شہر میں مسلسل بارش کی وجہ سے سڑکوں پر گڈھوں کی تعداد میں دن بدن اضافے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ریاستی ہائی کورٹ نے بی بی ایم پی کی طرف سے گڈھوں کو بند کرنے میں اپنائی جارہی سست روی پر برہمی کا اظہار کیا ہے