بنگلورو میں ٹریفک کے دباؤ پر قابو پانے کے لئے پولیس اور ماہرین کی تجاویز

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th November 2017, 10:29 AM | ریاستی خبریں |

بنگلور،13 ؍نومبر(ایس او نیوز) ایک اندازے کے مطابق شہر میں اس وقت تقریباً 70 لاکھ سے زیادہ سواریاں دوڑتی ہیں جو کہ شہر میں افراتفری ہی نہیں بلکہ فضائی آلودگی میں اضافہ کا بھی اہم سبب بنی ہوئی ہیں ، ماہرین ماحولیات نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ شہر کے ان علاقوں میں جہاں عام طور پر ٹریفک کا اژدھام رہتا ہے جیسے مرکزی سلک بورڈ کا علاقہ وہاں فضائی آلودگی دوسرے مقامات کے مقابلہ میں بہت زیادہ بڑی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ سواریوں کے اژدھام کیے وجہ سے شہر کے اندر ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنا بہت مشکل ہو جاتا ہے خاص طور پر اہم کاروباری اور مصروف اوقات میں شہر کے راستوں پر سواریوں کی رفتار دس کلو میٹر فی گھنٹہ تک محدود ہوکو رہ جاتی ہیح جس کی وجہ سے اگر کوئی ہنگامی صورت حال پیدا ہو جائے اور کسی کو جلدی میں کسی دوسرے مقام پر پہنچنا ہوتا ہے تو اس کے لئے کافی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، یہ بھی اکثر دیکھا گیا ہے کہ سخت بیمار مریضوں کو لے کر ایمبولنس گاڑیاں ٹریفک اژدھام کے درمیان پھنسی چیختی رہتی ہیں لیکن انہیں کہیں سے کوئی راستہ ہی نہیں مل پاتا ۔اس صورت حال کے درمیان بنگلور شہر ٹریفک پولیس نے ٹریفک کے دباؤ پر قابو پانے کے لئے ایک آٹھ نکاتی فارمولے کو ایجاد کیا تھا۔ کئی ایک تجاویز میں سے جن میں طویل دوری والی منزلوں کو جانے والی بسوں کے شہر میں داخلے پر روک لگانا بھی شامل ہے،پولیس یہ بھی چاہتی ہے کہ ایسے تجارتی ادارے جن کے پاس سواریوں کی پارکنگ کی سہولت میسر نہ ہو انہیں بھی بند کر دیا جانا چاہئے۔ان کے علاوہ دیگر تجاویز میں پرانی عوامی سواریوں کو ختم کرنا، ائیر پورٹ کے لئے دوسرے متبادل راستوں کی تعمیر اور شہر کے بارہ اہم اور زیادہ ٹریفک دباؤ والے مقامات پر سے رکاوٹوں کو دور کرنا وغیرہ شامل ہیں۔اضافی پولیس کمشنر (ٹرافک) آر ہیتیندرانے کچھ دن قبل شہر میں ایک اخبار کو دئے گئے اپنے بیان میں کہا تھا کہ’’ہم بین شہری بسوں کو شہر کے مضافاتی علاقوں تک محدود کر دینا چاہتے ہیں۔ممبئی کے بشمول کئی بڑے شہروں میں ایسا نظام قائم ہے کہ وہاں خانگی بین شہری بسوں کا شہر میں داخلہ ممنوع ہے۔یہ ضروری نہیں ہے کہ تمام بسیں خلاصی پالیم یا مجسٹک ہی پہونچیں۔ وہ سواریاں بیاپنا ہلی یا پینیا سے اپنی سواریوں کا نظم چلا سکتے ہیں‘‘۔ انہوں نے مزید بتایا کہ شہر کو ایک پارکنگ پالیسی اور مستقل معاوضہ کے بدلے سواریوں کو روکنے کے مقامات کی ضرورت ہے۔اضافی کمشنر نے کہا کہ’’بی بی ایم پی کو چاہئے کہ وہ مختلف مقامات کی ، معاوضہ کے بدلے پارکنگ، مفت پارکنگ اور نو پارکنگ کی حیثیت سے نشاندہی کرے۔اس وقت گاڑیاں چلانے والے ہر جگہ مفت پارکنگ کی وجہ سے جہاں چاہے وہاں سواریاں روک دیتے ہیں اس کی وجہ سے ٹرافک کا اژدھام بڑھ جاتا ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ائیر پورٹ کے لئے مجوزہ متبادل راستہ کی وجہ سے امید ہے کہ بلاری روڈ پر کافی حد تک ٹرافک کا دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ڈبلیو آر آئی انڈیا کے شہری ٹرانسپورٹ کے ماہر پون مولوکوٹلہ کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت کو چاہئے کہ شہر میں بی ایم ٹی سی بسوں کی تعداد کو دگنی بڑھادے اور نجی سواریوں پر بھیر بھاڑ کا جرمانہ عائد کرے، ان کا کہنا ہے کہ میٹرو ریل کی توسیع اور مزید بسوں کے اضافہ کے ذریعہ عوام کو عوامی ذرائع رسد کے استعمال کی ترغیب دی جاسکتی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

انتخابات کے پیش نظر پارٹی لیڈروں کے باہمی تبادلہ خیالات کاسلسلہ سی ایم ابراہیم کی جے ڈی ایس سربراہ دیوے گوڈا سے ملاقات

ریاستی اسمبلی انتخابات جیسے جیسے قریب آنے لگے ہیں ، سیاسی قائدین سے ملاقاتیں اور ان سے تبادلہ خیالات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جوکافی اہم اور دلچسپ ہوا کرتا ہے ۔

کانگریس نے لوک سبھا میں بھی طلاق ثلاثہ بل کی مخالفت کی تھی کرناٹک وقف بورڈ کے انتخابات میں تاخیر افسوسناک :ڈاکٹر کے رحمٰن خان

لوک سبھا میں طلاق ثلاثہ بل کے خلاف کانگریس نے کوئی آواز نہیں اٹھائی یہ ایک غلط خبر ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی پیداوار ہے جس کو اسی کی ایماء پر میڈیا نے پھیلایاہے۔

اگلا وزیراعلیٰ بنانے ہائی کمان کے اعلان سے سدارامیاکا حوصلہ بلند راہل گاندھی کے بیان سے وزیراعلیٰ کی کرسی پر نظر رکھے لیڈروں کو مایوسی۔ بغاوت کے آثار

ریاست کرناٹک میں ہونے و الے اگلے اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی اگر اکثریت حاصل کرکے دوبارہ اقتدار حاصل کرلے گی تو سدارامیا ہی اگلے وزیراعلیٰ ہوں گے ۔

مودی ، یوگی اور ونود سب نے کرناٹک کی توہین کی ،گالی گلوچ بی جے پی کا مزاج ؛گوا کے وزیر آبپاشی ونود پالیکر نے کیا کنڑیگا س کو ذلیل

منہ پھٹ بی جے پی لیڈرز ہر دن کوئی نہ کوئی متنازعہ اور اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے عوامی غیض وغضب کا شکار ہورہے ہیں، بیلگاوی ضلع کے خانہ پور تعلقہ میں چل رہے کلسا نالا تعمیراتی کاموں کا معائنہ کرنے کے بعد گوا کے وزیر برائے آبپاشی ونود پالیکر نے کرناٹک کے باشندوں کو حرامی کہہ ...

اُترکنڑا کے سُودّی ٹی وی نیوز چینل کے رپورٹرکی بائک درخت سے ٹکراگئی؛ رپورٹر کی موقع پر موت

سرسی سے ہانگل جانے کے دوران ایک کنڑا نیوز چینل کے رپورٹر کی بائک تیز رفتاری کے ساتھ  ایک درخت سے ٹکرانے کے نتیجے میں موقع پر ہی اُس کی موت واقع ہوگئی۔ یہ حادثہ اتوار کو ضلع ہاویری کے ہانگل کے قریب گُنڈورو نامی دیہات میں علی الصباح پیش آیا۔