تلنگانہ کے کونڈا گٹّو میں ہوئے بس حادثہ میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 60؛ ایوارڈ یافتہ ڈرائیور تھا؛ بس بھی نئی تھی؛ بریک لگاتے ہی کچھ مسافر ڈرائیور پر گرگئے تھے

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 12th September 2018, 8:40 PM | ملکی خبریں |

حیدرآباد 12/ستمبر (ایس او نیوز) کل منگل کو تلنگانہ کے کونڈاگٹّو میں ہوئے ایک  سرکاری بس حادثہ میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر اب 60 ہوگئی ہے۔ مرنے والوں میں32 خواتین اور چار بچے بھی شامل ہیں۔

اطلاع کے مطابق تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ٹی ایس آر ٹی سی) کی بس بالکل نئی تھی، جبکہ بس ڈرائیور بھی بے حد تجربہ کار اور ڈرائیونگ میں ماہر تھا، جسے اسی سال یوم آزادی کے موقع پر بیسٹ ڈرائیور کے اعزاز سے بھی نوازا گیا تھا۔

ویسے تو حادثے کی تفصیلی چھان بین کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں مگر ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق سرکاری بس پر جملہ 101 لوگ سوار تھے، حالانکہ بس پر 60 سے زائد مسافروں کی گنجائش نہیں تھی۔  بعض  میڈیا کی رپورٹس کے مطابق  جس سڑک پر سے بس گذر رہی تھی، اُس سڑک کی خستہ حالی کو دیکھتے ہوئے اُسے سواریوں کے لئے بند کردیا گیا تھا، اورجگتیال کے لئے پانچ کلو میٹر زائد فاصلے والا   متبادل راستہ موجود  تھا ۔  مگر بتایا جارہا ہے کہ پٹرول کی بچت کے لئے بس کو اُسی خستہ حال سڑک پر سے جانے کی اجازت دی گئی تھی۔ رپورٹس کے مطابق  بس پر غریب اور مزدور لوگ سفر کررہے تھے جو پہاڑی پر موجود  انجنیا سوامی مندر میں پوجا پاٹ کے بعد واپس جگتیال جارہے تھے۔ رپورٹس کے مطابق  بس پر سوار ہوکر بمشکل پانچ منٹ گذرے تھے کہ  پہاڑی کی ڈھلان پراچانک ہمپ آگیا، جس کے تعلق سے ڈرائیور انجان تھا۔ ہمپ پر جیسے ہی ڈرائیور نے بریک لگائے، اُسی وقت کچھ مسافر ڈرائیور پر گر پڑے، جس کے نتیجے میں ڈرائیور کے ہاتھوں سے بس بے قابو ہوگئی اور کئی پلٹیاں کھاتے ہوئے 30 فٹ گہری کھائی میں جاگری۔ ہلاک ہونے والوں میں ڈرائیور بھی شامل ہے۔

حادثے میں 41 لوگ شدید زخمی ہوئے ہیں، جنہیں کریم نگر اور حیدرآباد اسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

اکھلیش یادو ’ٹائیگر بام‘ کی طرح ہیں : مایاوتی 

اتر پردیش کی سیاست کے دو بڑے قد آور ملائم سنگھ یادو اور مایاوتی جب دہائیوں پرانی دشمنی بھلا کر مین پوری کی ریلی میں ایک ہی مشترکہ اسٹیج پر آئے تو ان کی تصاویر خوب وائرل ہوئیں دیکھی گئیں۔ دشمنی بھلا کر دونوں رہنماؤں نے اب اتر پردیش میں بی جے پی کو روکنے کی کوشش کرنے کی ایک طرح سے ...

نریندر مودی کی سیکورٹی کے پیش نظر وارانسی سیٹ پر بدلی گئی امیدواروں کی نامزدگی کی جگہ

وزیر اعظم نریندر مودی کی سیکوریٹی کے پیش نظر وارانسی پارلیمانی سیٹ کے انتخابات کیلئے نامزدگی مقام میں تبدیلی کی گئی ہے۔پہلے ضلع انتظامیہ نے ایڈمرل کورٹ میں نامزدگی کا اہتمام کیا تھا، لیکن اتوار کو نامزدگی مقام بدل کر کلکٹریٹ واقع رائفل کر دیا گیا۔انتظامیہ کے فیصلے کے بعد اب ...

ایس پی ۔ بی ایس پی کے پاس کانگریس کے ساتھ اتحاد کے علاوہ کوئی چارہ نہیں:سلمان خورشید

کانگریس کے سینئر لیڈر سلمان خورشید نے لوک سبھا انتخابات کے بعد اپنی پارٹی کے ایس پی۔بی ایس پی۔آر ایل ڈی کے ساتھ اتحاد ہونے کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی نتائج آنے کے بعد اتر پردیش کے اس اتحاد کے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہوگا۔اتر پردیش کی کانگریس یونٹ کے دو بار چیف رہ ...

آئی این ایل ڈی کے سابق ممبر اسمبلی راؤ بہادر نے تھاما کانگریس کا دامن، دپیندر ہڈا کی نامزدگی میں ہوں گے شامل

جنوبی ہریانہ کے قدآور لیڈر اور انیلو کے سابق ممبر اسمبلی راؤ بہادر سنگھ نے اتوار کو کانگریس پارٹی کا دامن تھام لیا۔راؤ بہادر سنگھ نے آج بتایا کہ 22 اپریل کو روہتک میں ایم پی دپیندر ہڈا کی نامزدگی کے موقع پر وہ اپنے 5000 حامیوں کے ساتھ موجود رہیں گے۔کانگریس صدر راہل گاندھی اور ...