بھیما کورے گائوں معاملہ؛ سپریم کورٹ نے سماجی رضاکاروں کو پولس کسٹڈی دینے سے کیا پھر انکار؛ مہاراشٹرا پولس کو لگائی سخت پھٹکار؛ 12ستمبر تک بڑھائی ملزمین کی نظر بندی

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 7th September 2018, 1:04 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی 6/ستمبر (ایس او نیوز/ایجنسی)  سپریم کورٹ نے كورےگاو-بھیما گاؤں میں تشدد کے واقعات کے  سلسلے میں پانچ کارکنوں کو پولس کسٹدی میں دینے سے پھر انکار کرتے ہوئے پانچوں کو  گھروں میں ہی نظربند رکھنے کی مدت جمعرات  12 ستمبر تک کے لئے  بڑھا دی ہے. چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم كھانولكر اور جسٹس دھننجے  وائی چندرچوڑ کی بنچ نے اس معاملے میں پونے کے اسسٹنٹ پولیس کمشنر کے بیانات کو بھی نہایت   سنجیدگی سے لیتے  کہا کہ وہ عدالتی کاروائی پر اعتراض جتارہے ہیں. بینچ نے سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے  مہاراشٹر حکومت سے کہا کہ  وہ عدالت میں زیر التواء معاملوں کے بارے میں  اپنے  پولیس افسران کو مزید ذمہ دار بنائیں۔

سپریم کورٹ کے جسٹس چندرچوڑ نے کہا کہ پولس نے کیسے کہا کہ معاملے میں سپریم کورٹ کو دخل نہیں دینا چاہئے ۔ عدالت نے کہا کہ پولس  پریس میں  جاکر سپریم کورٹ کو غلط ثابت کرنے کی کوشش نہ کرے۔ عدالت  نے مہاراشٹرا  سرکار کو بھی پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ وہ پولس کو احتیاط برتنےکے لئے  کہیں۔

مہاراشٹر حکومت کی جانب سے پیش ایڈیشنل سالسيٹر جنرل تشار مہتہ سے بنچ نے کہا، 'آپ اپنے پولیس افسران کو مزید  ذمہ داری کا احساس دلائیں . معاملہ ہمارے پاس ہے اور ہم پولیس افسران سے یہ نہیں سننا چاہتے کہ سپریم کورٹ غلط ہے. 'اس کے ساتھ ہی بنچ نے مؤرخ روملا تھاپر اور دوسرے درخواست گزاروں سے کہا کہ وہ عدالت کو مطمئن کریں کہ کیا مجرمانہ معاملے میں کوئی تیسری پارٹی مداخلت کر سکتی ہے. دریں اثنا، مہتا نے بنچ کو بتایا کہ کارکنوں کو  گھروں میں ہی نظر بند رکھنے سے جانچ   متاثر ہوگی  بینچ نے اس معاملے کی سنوائی  12 ستمبر کے لئے  ملتوی کردی۔

عدالت  میں سماعت کے دوران کانگریس لیڈر اور سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے معاملے کی جانچ ایس آئی ٹی سے کرانے کا مطالبہ کیا. انہوں نے کہا کہ بھیما کورے گاوں کیس کی تحقیقات کے لئے ایس آئی آئی کا قیام کیا جانا چاہئے. وہیں حکومت کی طرف سے پیش ہوئے تشار  مہتا نے کہا کہ قانون کو اپنا کام کرنے دینا چاہئے.

بتا دیں کہ نکسلیوں کے ساتھ رابطہ  میں ملزمان کی گرفتاری پر مسلسل اُٹھ رہے سوالوں کے درمیان مہاراشٹر پولیس صفائی دینے آئی تھی اور اے ڈی جی نے پریس کانفرنس کا انعقاد کرتے ہوئے میڈیا کے سامنے اپنا موقف رکھا تھا. اس کے دوران، ای ڈی جی پریمویر سنگھ نے کچھ دستاویزات دکھائے تھے جسے لے کر  ان کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی۔.

مہاراشٹر حکومت نے کل ہی اعلیٰ عدالت سے کہا تھا کہ ان پانچوں   کارکنوں کو سرکار سے  ان کے اختلاف والے نظرئے  کی وجہ سے نہیں بلکہ پابندی عائد کی گئی  تنظیم  سی پی آئی (ماؤنواز) سے ان کے رابطے   کے بارے میں ٹھوس ثبوت ہونے کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا. ریاستی حکومت نے ان کارکنوں کی گرفتاری کو چیلنج دینے والی درخواستوں پر عدالت سے جاری نوٹس کے جواب میں بدھ کو کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا تھا. اس حلف نامے میں دعوی کیا تھا کہ یہ کارکن ملک میں تشدد پھیلانے اور سیکورٹی فورسز پر گھات لگا کر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے.

خیال رہے کہ پچھلے ہفتے  منگل کو مہاراشٹر پولیس نے سماجی رضاکار سدھا بھاردواج، گوتم نولکھا، ارون فیریرہ، تیلگو شاعر ورورا  راؤ اور ورنون گونسالویج کو گرفتار کیا تھااور ان پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ کے معاملات  لگائے تھے. ایک دن بعد، سپریم کورٹ نے  مہاراشٹر پولیس کو حکم دیا تھا کہ انہیں گرفتار کرنے کے بجائے اُن کے  گھر میں ہی نظر بند رکھا  جائے .جبکہ سپریم کورٹ نے ان رضا کاروں کو  6 ستمبر تک جیل نہیں بھیجنے کے احکامات بھی دئے تھے۔

 

ایک نظر اس پر بھی

گوجر تحریک آٹھویں دن بھی جاری

گوجر سمیت پانچ ذاتوں کو ریزرویشن سے متعلق بل اسمبلی میں منظور کئے جانے کے بعد بھی راجستھان میں گوجروں کی تحریک جمعہ کو آٹھویں دن جاری رہی۔

مذہب کی بنیادپربے قصورلوگوں پرحملے شہادتوں کی تعظیم نہیں، ہجومی تشدد: عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے سخت تنقیدکی

جموں و کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے جمعرات کو لیتہ پورہ پلوامہ میں سی آرپی ایف کے قافلہ پر ہوئے خود کش دھماکے کے تناظر میں جمعہ کے روز جموں میں پیش آئے ہجومی تشدد کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جموں اور دیگر ریاستوں میں قیام پذیر ...