"سائیکل" اور "ہاتھی" نے چھوڑا "ہاتھ"؛ بی جے پی کو ہرانے یوپی میں نئے سیاسی انقلاب کا ہوا آغاز؛ ایس پی۔بی ایس پی میں 38.38 کا فارمورلہ

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 13th January 2019, 10:12 AM | ملکی خبریں |

لکھنؤ۔12؍ جنوری (ایس او نیوز) اترپردیش میں تقریباً ڈھائی دہائیوں تک ایک دوسرے کے کٹر حریف رہنے والے سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) نے مرکز میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو شکست دینے کے لئے آئندہ لوک سبھا انتخابات ساتھ مل کر لڑنے کا اعلان کیا ہے۔

لکھنو میں  منعقدہ پریس کانفرنس میں بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی اور ایس پی کے صدر اکھلیش یادو نے بی جے پی حکومت کی پالیسیوں اور طریقہ کار کو ملک کے مفاد کے خلاف قرار دیتے ہوئے لوک سبھا انتخابات ساتھ مل کر لڑنے کا اعلان کیا۔معاہدے کے تحت اتر پردیش کی80لوک سبھا سیٹوں میں ایس پی اور بی ایس پی38-38سیٹوں پر انتخاب لڑیں گی جبکہ دو نشستیں اتحادیوں کے لئے چھوڑی گئی ہیں۔ دونوں ہی پارٹیاں کانگریس کے صدر راہل گاندھی کے پارلیمانی حلقہ امیٹھی اور متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) کی چیرمین سونیا گاندھی کے پارلیمانی حلقہ رائے بریلی میں اپنے امیدوار نہیں اتاریں گی۔ لوک سبھا کی سیٹوں کے لحاظ سے سب سے بڑی ریاست اترپردیش کی سیاست میں گزشتہ تین عشروں میں اہم کردار ادا کررہی سماج وادی پارٹی ( ایس پی) اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) نے ایک ساتھ انتخاب لڑنے کا اعلان کرکے وزیراعظم نریندر مودی کی مسلسل دوسرے مرتبہ ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کی راہ میں ایک بڑا چیلنج پیش کردیا ہے ۔گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو واضح اکثریت دلانے اور مودی کو وزیراعظم بنانے میں اترپردیش کا بہت بڑا کردارتھا۔ مایاوتی نے کہا کہ مرکز کی نریندرمودی حکومت نے ملک کو لاقانونیت اور معاشی بدحالی کی جانب ڈھکیل دیا ہے ۔بی جے پی کی پالیسیاں اور نظام غریب، کسان، نوجوان، دلت اور اقلیتوں سمیت سماج کے ہر طبقے کے لئے مہلک ہے ۔ بی جے پی حکومت نے صرف کاروباریوں اور سرمایہ کاروں کا بھلا کیا ہے ۔ اس بدحال حکومت سے ملک کی عوام کو نجات دلانے کے لئے انہوں نے 25سال پرانے لکھنؤ کے گیسٹ ہاؤز واقعہ کو بھلا کر ایس پی کے ساتھ سمجھوتے کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ ملک پر لمبے عرصے تک اقتدار کرنے والی کانگریس نے بھی بی جے پی کی طرح عوام کو لاقانونیت، بدعنوانی اور معاشی بدحالی کی مار جھیلنے پر مجبور کیا ہے ۔ انہوں نے صاف کہا کہ کانگریس کو اتحاد میں شامل کرنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا ہے اور مستقبل میں بھی ملک کی کسی بھی ریاست میں ان کی پارٹی کانگریس سے اتحاد نہیں کرے گی۔ اس کے باوجود کانگریس کے لئے دو سیٹیں رائے بریلی اور امیٹھی چھوڑ دی گئی ہیں تاکہ ریاست میں صفایا کی جانب رواں بی جے پی کو ان دو سیٹوں پر زور آزمائی کا موقع مل سکے ۔اس موقع پر ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے کہا کہ ایس پی۔ بی ایس پی اتحاد سے حواس باختہ بی جے پی کسی بھی حد تک جا سکتی ہے ۔ کارکنوں کو بی جے پی کی کسی بھی سازش سے محتاط رہنے کی نصیحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ذاتی اور مذہبی جذبات کو بھڑکانے کی سازش کی جاسکتی ہے جس سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے اترپردیش کو ذات پر مبنی پردیش بنا دیا ہے ۔ ذاتی منافرت کی سیاست کرنے والی اس پارٹی نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر بھگوان کو بھی ذات میں تقسیم کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی۔ بی ایس پی مل کر بی جے پی کو مرکزکے اقتدار سے بے دخل کردیں گی۔ ایس پی سربراہ نے کارکنوں سے کہا کہ وہ محترمہ مایاوتی کا پورا احترام کریں۔ بی ایس پی سپریمو کا احترام ان کا احترام ہوگا۔محترمہ مایاوتی نے کہا کہ اس پریس کانفرنس سے وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر امیت شاہ کی نیند اڑ جائے گی۔ یہ پریس کانفرنس ’’گرو ۔چیلے ‘‘ کی نیند اڑانے والی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی۔ بی ایس پی کا یہ اتحاد لمبے وقت تک چلے گا اور عام انتخابات کے بعد بھی جاری رہے گا۔ یہ اتحاد ملک کو بی جے پی کی بدحال حکومت سے نجات دلائے گا۔ اس سے پہلے بھی عام انتخابات اور اسمبلی ضمنی انتخابات میں دونوں پارٹیوں نے ایک ساتھ مل کر بی جے پی کو شکست فاش دی تھی جبکہ آنے والے عام انتخابات میں اترپردیش میں بی جے پی کا صفایا یقینی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی۔ بی ایس پی اتحاد نہ ہونے دینے کی سازش کے تحت اکھلیش یادو کا نام کانکنی گھپلہ کے لئے اچھالا گیا ہے ۔ بی جے پی قیادت کو یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لینی چاہئے کہ ان کی اس کوشش سے اتحاد اور مضبوط ہوگیا ہے یہ اتحاد بی جے پی کو ملک کے اقتدار سے بے دخل کردے گا۔ اقتدار کے لئے ہر قسم کا حربہ اپنانے میں ماہر بی جے پی اگر ای وی ایم کے ساتھ کھلواڑ کرتی ہے تو الگ بات ہے ۔ اقتدار کی خاطر اور اپوزیشن پارٹیوں کو دباؤ میں لانے کے لئے بی جے پی حکومت کاسرکاری مشنری کا غلط استعمال جگ ظاہر ہے۔ مایاوتی نے کہاکہ ایس پی۔بی ایس پی دونوں کا تلخ تجربہ ہے کہ کانگریس کے ساتھ انتخاب لڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے بلکہ ان کا ووٹ فیصد کم ہوجاتا ہے ۔کانگریس کے ساتھ ایس پی۔بی ایس پی اتحاد کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا ۔ہمارا ووٹ تو ٹرانسفر ہوجاتا ہے لیکن کانگریس کا ووٹ ٹرانسفر نہیں ہوتا یا اندرونی سیاست کے تحت کہیں اور کردیا جاتا ہے اس میں ہماری جیسی ایماندار پارٹی کا ووٹ کم ہوجاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سال 1993میں ایس پی۔بی ایس پی کا ووٹ ایمانداری سے ٹرانسفر ہوتا تھا اس لئے اتحاد سے گریز نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کو روکنے میں ناکام بی جے پی کی طرف سے مسٹر شیوپال سنگھ یادو پر خرچ کی گئی دولت بیکار ہوجائے گی۔بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ بی جے پی نے گذشتہ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں بے ایمانی سے حکومت بنائی تھی۔ جبکہ انتخابات میں تو کانگریس کے زیادہ تر امیدوار کی تو ضمانت تک ضبط ہوگئی تھی۔ کانگریس کے راج میں نافذ کردہ ایمرجنسی تھی اور اب تو ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی ہے ۔مودی اینڈ کمپنی سرکاری مشینری کا غلط استعمال کرکے اپنے حریف کے خلاف گڑے مردے اکھاڑ کر ان کو پریشان کررہی ہے۔عام انتخابات میں بحیثیت ایک امیدوا ر کے شرکت کرنے کے سوال پر مایاوتی نے کہا کہ آنے والے وقت میں لوگوں کو اس کا پتا چل جائے گا۔ وہیں صحافیوں کے ذریعہ بطور وزیر اعظم امیدوار کے مایاوتی کے حمایت کرنے کے سوال پر مسٹر اکھلیش نے کہاکہ اترپردیش نے ملک کو کئی وزیر اعظم دئے ہیں۔اگر پھر سے اترپردیش ملک کو وزیراعظم دیتا ہے تو ہم اس کا استقبال کریں گے ۔ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے اتحاد کے لئے بی ایس پی سربراہ مایاوتی کے تئیں اپنے شکریہ کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہمار ااتحاد کا ذہن تو اسی وقت بن گیا تھا جس دن بی جے پی کے لیڈروں نے مایاوتی پر قابل اعتراض تبصرے کئے تھے ۔ اپنے لیڈروں پر کارروائی کرنے کے بجائے بی جے پی قیادت نے ایسے عناصر کو وزیر کے عہدے پر فائز کر کے انہیں انعام و اکرام سے نوازا۔ مایاوتی جی کا شکریہ کہ جنہوں نے برابری کا احترام دیا۔ آج سے مایاوتی کی بے عزتی میری بے عزتی ہوگی۔اتحاد لمبا چلے گا، اس میں دوام ہوگا اور اسمبلی انتخابات تک رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی میعاد کار میں ملک میں لاقانونیت، بدعنوانی اور خوف کا ماحول بنا ہوا ہے ۔ اپنے سیاسی مفادات کے لئے بی جے پی نے ذات اور مذہب کے نام پر سماجی ہم آہنگی کیلئے خطرہ پیدا کردیا ہے ۔ خاص کر اترپردیش کو تو بی جے پی نے ذات کی ریاست بنا دیا ہے ۔اسپتالوں میں علاج اور تھانوں میں رپورٹ لکھنے سے پہلے ذات کو پوچھا جارہا ہے یہی نہیں بی جے پی کے لیڈروں نے بھگوان کو بھی ذات میں تقسیم کردیا ہے ۔ یادو نے کہا کہ ایس پی اوربی ایس پی دکھ اور سکھ کے برابر شریک ہیں۔ اتحاد کے تاریخی فیصلے سے برسر اقتدار کا خاتمہ یقینی ہے یہ اتحاد صرف سماجی ہم آہنگی اور بھائی چارے کو مضبوطی فراہم کرے گا اور یہی بی جے پی کے زوال کا آغاز ہے ۔

ایک نظر اس پر بھی

مودی کی ’چوکیدار مہم‘ پر پرینکا نے کہاراہل ٹھیک کہتے ہیں ’امیروں کا ہوتا ہے چوکیدار‘

وزیر اعظم نریندر مودی کی ’چوکیدار مہم‘ پر کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے زور دار حملہ کیا ہے۔پی ایم مودی کے پارلیمانی حلقہ وارانسی میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ غریب لوگوں کے چوکیدار نہیں ہوتے۔

مرکزی وزیر رام داس اٹھاؤلے کا بی جے پی۔شیوسینا کو انتباہ، کہا دلت ووٹ کو کم نہ گرداناجائے

مہاراشٹر میں بی جے پی، شیو سینا کو 23 نشستیں دے کر اپنے پالے میں رکھنے میں کامیاب ہو گئی ہے لیکن ریاست میں بی جے پی کی اتحادی پارٹی آر پی آئی کے لیڈر اور راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ رام داس اٹھاولے کا بیان اس کی مشکلیں بڑھا سکتا ہے۔

سشما سوراج نےمالدیپ کے وزیر داخلہ عمران عبداللہ سے ملاقات کی، دو طرفہ تعلقات پر ہوئی بحث

وزیر خارجہ سشما سوراج نے پیر کو مالدیپ کے وزیر داخلہ عمران عبداللہ سے ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مسلسل آگے بڑھانے کی سمت میں اٹھائے جانے والے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔