رام مندر پراب تاخیربرداشت نہیں، پی ایم اور راہل گاندھی سے مانگا ملاقات کا وقت، 31 جنوری کو سنت جو فیصلہ لیں گے، وہیں ہم کریں گے:وی ایچ پی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 3rd January 2019, 8:54 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،3 جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) رام مندرپر وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان پر اب وی ایچ پی کا بیان سامنے آیا ہے۔وی ایچ پی کے ایگزیکٹو چیئرمین آلوک کمارنے کہا ہے کہ ہم نے رام مندر پر وزیر اعظم نریندر مودی کا بیان سنا۔69 سال کا طویل انتظار ہو گیا ہے۔اکتوبر میں رام مندر کا معاملہ سپریم کورٹ میں آیا تھا، لیکن بینچ قائم نہیں ہوئی۔رام مندر پر سپریم کورٹ نے جلد سماعت کی بات نہیں قبول کی۔

آلوک کمار نے کہا کہ یہ معاملہ چیف جسٹس کی عدالت میں آیا ہے، لیکن ابھی بنچ کا قیام نہیں ہوا ہے۔ہمیں لگتا ہے کہ اس معاملے پر سماعت اب بھی بہت دور ہے۔یہ ہندو سماج کے جذبات سے کھلواڑ ہے۔یہ معاشرہ غیر معینہ وقت تک عدالت کا انتظار نہیں کر سکتا۔ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کی طرف سے رام مندر پر تبادلہ خیال کیا جائے۔ابھی جنوری کے آخر میں الہ آباد میں مذہبی جماوڑہ ہوگا ، جہاں آگے کی حکمت عملی طے ہوگی۔

وی ایچ پی کے ایگزیکٹو چیئرمین نے کہا کہ ہم وزیر اعظم نریندر مودی کو کہیں گے کہ آرڈیننس کو لے کر اپنی رائے تبدیل کریں۔ہم 350 سے زیادہ ایم پی سے مل چکے ہیں۔اس موقع پر ساتھ ہی انہوں نے کانگریس پر بھی حملہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس رام مندرکے معاملے کو عدالت میں لٹکانا چاہتی ہے۔

کپل سبل چاہتے تھے کہ 2019 میں انتخابات تک سماعت نہ کریں۔اس سلسلے میں وی ایچ پی کے ایگزیکٹو چیئرمین آلوک نے این ڈی ٹی وی سے بھی خاص بات چیت کی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے کہا تو ہے کہ رام مندر بننا چاہئے، مگروزیر اعظم اور ان کے ساتھیوں سے کہیں گے کہ کورٹ کا انتظار نہ کریں پارلیمنٹ کے ذریعہ آرڈیننس لا کر رام مندر بنائیں۔ہم نے راہل گاندھی اور سونیا گاندھی سے بھی ملنے کا وقت مانگا ہے۔ہم وزیر اعظم مودی سے بھی ملنے کا وقت مانگا ہے، ہم انہیں منائیں گے۔آلوک ورما نے ساتھ ہی کہا کہ اس پر آخری فیصلہ 31 جنوری کو سنت لیں گے، جو سنت طے کریں گے وہ ہم کریں گے۔

ایک نظر اس پر بھی

چوکیدارکا ٹھپہ نہیں چاہتی پرائیویٹ سیکورٹی انڈسٹریز

قریب 80 لاکھ پرائیویٹ سیکورٹی گارڈز والی انڈسٹری وزیر اعظم نریندر مودی کے ’چوکیدار‘ مہم سے بہت حوصلہ افزاء نہیں ہے، البتہ وہ اپنی بہت مشکلات کو لے کر خود مرکزی حکومت سے لڑ رہی ہے۔سیکورٹی سروسز پر 18فیصد جی ایس ٹی کے خلاف برسرپیکار رہی کمپنیاں اب حکومت پر وعدہ خلافی کا الزام لگا ...

بورڈنگ پاس پر مودی کی تصویر پر تنقید کے بعد ایئر انڈیا نے انہیں واپس لیا

ایئر انڈیا نے تنقید کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی اور گجرات کے وزیر اعلی وجے روپانی کی تصاویر والے بورڈنگ پاس واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ایئر لائنز نے پہلے کہا تھا کہ تصاویر والے بورڈنگ پاس تیسری پارٹی کے اشتہارات کے طور پر جاری کئے گئے اور اگر یہ مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ...

دہلی میں خدمات پر کنٹرول کے معاملے پر فیصلے کیلئے وسیع بنچ بنائے عدالت عظمی: آپ حکومت

قومی راجدھانی دہلی میں انتظامی خدمات پر کنٹرول کے معاملے پر جلد فیصلہ لینے کے لیے آپ حکومت نے پیر کو سپریم کورٹ سے ایک وسیع بنچ قائم کرنے کی درخواست کی۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس دیپک گپتا کی بنچ کے سامنے اس معاملے کا ذکر کیا گیا تو بنچ نے آپ حکومت کے وکیل سے کہا کہ اس پر غور ...

عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں گوتم کھیتان اور تین دیگر کو طلب کیا

دہلی کی ایک عدالت نے منی لانڈرنگ کے ایک معاملے میں ای ڈی کی طرف سے چارج شیٹ داخل کئے جانے کے بعد پیر کو وکیل گوتم کھیتان، ان کی بیوی ریتو اور دو کمپنیوں اسمیکس اور ونڈفور کو طلب کیا۔خصوصی جج اروند کمار نے چاروں ملزمان کو چار مئی کو پیش ہونے کے لئے کہا ہے

سبرامنیم سوامی بولے: میں برہمن ہوں، چوکیدار نہیں ہو سکتا

کانگریس کی جانب سے 'چوکیدار چور ہے" کا نعرہ اچھالے جانے کے جواب میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے " میں بھی چوکیدار ہوں' کیمپین شروع کیا۔ اس کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی سمیت بی جے پی کے تقریبا سبھی لیڈران نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹویٹر پر اپنے نام کے آگے 'چوکیدار' لفظ لگایا لیا۔