اجودھیا تنازع : ایک مرتبہ مسجد تعمیر ہوجانے کے بعد وہ ہمیشہ رہتی ہے مسجد ، دفاعی وکلاء کی دلیل، اگلی سماعت 17 مئی کو

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 17th May 2018, 11:59 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی ،16؍مئی ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )گذشتہ کئی ماہ سے مسلسل جاری بابری مسجد ملکیت تنازعہ کی سماعت منگل کو ایک بار پھر دو پہر دو بجے چیف جسٹس کی سربراہی والی بینچ کے سامنے شروع ہوئی ، جس کے دوران جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئروکیل ڈاکٹر راجیو دھون نے بحث کاآغاز کیا اور عدالت کو بتایا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق مسجد اللہ کا گھر ہے اور نماز کی ادائیگی بنیادی ارکان میں شامل ہے۔

انہوں نے عدالت کے سامنے مسجد کی اسلام میں حیثیت پر درجنوں احادیث اور قرآنی حوالوں کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار مسجد تعمیر ہوجانے کے بعد وہ تا حیات مسجد رہتی ہے ، اسے منہدم کرنے کے بعدبھی اس کی شرعی حیثیت ختم نہیں ہوتی ۔ڈاکٹر راجیو دھون نے دوران بحث عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر اسماعیل فاروقی کے فیصلہ میں کی گئی غلطیوں کو موجودہ حالات کے پیش نظر اسے درست کرنے کاوقت آگیا ہے لہذا اس معاملہ کی حساس نوعیت کے مد نظر اسے کثیر رکنی بینچ کے سپرد کردینا چاہئے ۔

خیال رہے کہ گذشتہ تین ماہ سے چیف جسٹس دیپک مشراء کی سربراہی والی تین رکنی بینچ میں جسٹس عبدالنظیراور جسٹس بھوشن شامل ہیں کے روبرو جاری جمعیۃ علماء کے وکلاء ڈاکٹر راجیو دھون اور ان کی معاونت کرنے والے سینئر وکیل راجو رام چندرن کی بحث کا آج اختتام عمل میں آیا ، جس کے بعد عدالت نے دیگر فریقین کو اپنے دلائل عدالت میں پیش کرنے کے لئے حکم دیتے ہوئے معاملہ کی سماعت 17 مئی دو پہر دو بجے تک ملتوی کردی۔

ایک نظر اس پر بھی

مالیگاؤں 2008ء بم دھماکہ معاملہ، بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے دو افراد نے گواہی دی، دفاعی وکلاء عدالت سے غیر حاضر ، جرح اگلے ہفتہ متوقع

مالیگاؤں ۲۰۰۸ء بم دھماکہ معاملے میں سماعت روز بہ روز جاری ہے ، آج اس معاملے میں بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے دو افراد کی گواہی عمل میں آئی

مثبت فکر اورتوانائی سے ملک کی ترقی ہوتی ہے:ارون جیٹلی 

مودی حکومت کے ناقدین کو بات بات پر احتجاج کرنے والا بتاتے ہوئے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے جمعرات کو ان پر جھوٹ گھڑنے اور ایک منتخب حکومت کو کمزور کرکے جمہوریت کو برباد کرنے کا الزام لگایا۔ طبی معائنہ کے لیے امریکہ دورہ پر گئے ارون جیٹلی نے ایک فیس بک پوسٹ میں کہا کہ اظہار رائے کی ...

عد لیہ نے مہاراشٹر میں ڈانس بار پر پابندی لگانے والی کئی تجاویزمستردکیں 

سپریم کورٹ نے مہاراشٹر میں ڈانس بار کے لئے لائسنس اور اس کاروبار پر پابندی لگانے والے کچھ تجاویز جمعرات کومنسوخ کردیئے۔ جسٹس اے کے سیکری کی صدارت والے بنچ نے مہاراشٹر کے ہوٹل، ریستوران اور بار ہاؤس میں فحش رقص پر پابندی اورعورتوں کے وقار کی حفاظت سے متعلق قانون 2016 کے کچھ دفعات ...