ہنوما جینتی جلوس متنازعہ روٹ میں لے جانے ہندو تنظیمیں بضد فساد مچانے کی کوشش میں پرتاپ سمہا گرفتار، اننت کمارہیگڈے نے ہنسور بند کا اعلان کیا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 4th December 2017, 10:39 AM | ریاستی خبریں |

ہنسور،3/دسمبر (ایس او نیوز) ہنوما جینتی اتسوا کیلئے آرہے رکن پارلیمان پرتاپ سمہا سمیت سینکڑوں بھگتوں کو پولیس نے گرفتار کرلیا ۔جس سے شہر میں حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔شہر کے اکثر علاقوں میں دکانیں بند پڑی ہیں اور خوف کا ماحول بن چکا ہے۔ ہنومان کے بھگتوں کی طرف سے نعرے بازی اور جلوس نکالنے کی کوشش جاری ہے مگر پولیس انہیں موقع نہیں دے رہی ہے۔ جس پر بھگت شدید برہمی ظاہر کررہے ہیں۔اور پولیس کے خلاف نعرے بازی پر اتر آئے ہیں۔اس موقع پر رکن پارلیمان پرتاپ سمہا نے اخباری نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی طرح کی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ اور شہر میں بدامنی اور شر پھیلانے کی کوشش نہیں کی ہے۔ پھر بھی پولیس ہندوؤں کے مذہبی تہوارکے ماننے میں خلل پیدا کررہی ہے جس کے لئے ریاستی حکومت ہی ذمہ دار ہے۔ پرتاب سمہا نے کہا کہ ہنوما جینتی کے پیش نظر نکالے جارہے جلوس کو پر امن طریقے سے اہتمام کرنے کے مقصد سے جدوجہد جاری تھی مگر پولیس غیر ضروری طور پر عوام کو گمراہ کرنے اور تنازعہ کھڑا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ہنوما کی مورتی کو اگر کسی نے ہاتھ لگایا تو انجام اچھا نہیں ہوگا۔ ہر سال ہنوما جینتی عالیشان پیمانے پر منائی جاتی تھی مگر پچھلے سال ہوئی گڑبڑ اور کمشیدہ حالات کے پیش نظر ضلع انتظامیہ اور پولیس کی طرف سے 144سیکشن جاری کردیا گیا ہے اور پولیس کا معقول بندوبست کیا گیا ہے۔ آج صبح جیسے ہی رکن پارلیمان شہر میں داخل ہوئے انہیں پولیس نے گرفتار کرلیا اور ان کے ساتھ منیشورا کاول میدان میں جمع ہوئے 100سے زائد ہنوما بھگتوں کو بھی گرفتار کرلیا جس سے حالات مزید کشیدہ ہوگئے۔ بھگتوں کی گرفتاری پر شدید ناراضی ظاہر کرتے ہوئے احتجاجی دھرنا دیا گیا اور یہ وارننگ دی کہ مندر کے روبرو ہنوما کی مورتی رکھ کر ہفتہ بھر احتجاجات کئے جائیں گے۔ واضح رہے کہ اس سال جشن میلاد النبیؐ اور ہنوما جنیتی دونوں ایک ساتھ منعقد ہونے کی وجہ سے ہنسور میں جلوس کیلئے ضلع انتظامیہ اور محکمہ پولیس کی طرف سے منعقدہ امن کمیٹی اجلاس میں ہنوما جینتی کے جلوس کیلئے ہنسور شہر کے بی ایم روڈ پر واقع ایشور آنجنیا مندر سے کلپتور سرکل کے ذریعہ منیشورا کاول میدان پہنچنے اور وہاں اجلاس منعقد کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ گزشتہ روز رکن پارلیمان پرتاپ سمہا اور ہنوما جینتی کمیٹی سے اراکین نے حسب سابق کلکنیکے رنگاناتھ لے آؤٹ سے جلوس نکالنے اور شہر کے اہم راستوں سے گزرتے ہوئے جلسہ گاہ پہنچنے کی اجازت دیئے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ یہ اعلان کیا تھا کہ ہنوما بھگتوں کو پولیس سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ گرفتاری کی پرواہ کئے بغیر جلوس میں حصہ لیں۔محکمہ پولیس کی طرف سے گزشتہ ایک ہفتے سے یہ اعلان کیا جارہا تھا کہ بچوں کو جلوس میں روانہ نہ کریں۔ اس بات کو لے کر پرتاپ سمہا اور پولیس کے درمیان لفظی جھڑپ بھی ہوئی تھی۔ اس کے باوجود پولیس محکمے کی جانب سے ایشور مندر سے منیشورا کاول تک جلوس کی اجازت دے کر بقیہ مقامات پر دفعہ 144کے تحت امتناعی احکامات جاری کردئے تھے۔اس کے باوجود جلوس لے جانے کی کوشش کرنے پر پولیس نے یہ اقدامات کئے اور حالات کشیدہ ہوگئے۔ مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے نے آج یہاں ہنسور پہنچ کر بند منانے کا اعلان کیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

مہادائی ٹریبونل کے فیصلے کا چیلنج کرنے ریاستی حکومت تیار

ریاستی وزیر برائے آبی وسائل ڈی کے شیوکمار نے کہاکہ شمالی کرناٹک کے بعض اضلاع کو پینے کے پانی کی فراہمی کا واحد ذریعہ مہادائی کے پانی کی تقسیم کے سلسلے میں حال ہی میں ٹریبونل نے جو فیصلہ صادر کیا ہے ریاستی حکومت اس کا سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔

جشن یوم آزادی کے موقع پر مدرسہ صفہ میں مولانا سید انظر شاہ قاسمی نے لہرایا ترنگا

یوم آزادی کے موقع پر مدرسہ صفہ، بیٹاداسنپورا مین روڈ، بنگلور میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد کی گئی۔ جس میں مہمان خصوصی کی حیثیت مدرسہ ہذا کے سرپرست اعلیٰ شاہ ملت حضرت مولانا سید انظر شاہ قاسمی دامت برکاتہم نے شرکت کی۔