سیاسی اشتہارات پرسیاست اپوزیشن نے سرکاری خرچ کوبیکار بتایا۔ وزیراعلیٰ نے مودی کی ریلی پرسوال اٹھایا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th February 2018, 12:33 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،9؍فروری (ایس او نیوز) ریاست میں اسمبلی انتخابات بالکل قریب ہیں شہرمیں سیاسی اشتہاروں کی بھرمار ہے ، ریاستی حکومت نے خودتسلیم کیاکہ تشہیر کے لئے سرکاری اخراجات میں اضافہ ہواہے، ریاستی اسمبلی میں جنتادل سکیولر کے رکن رمیش بابو کودےئے گئے ایک تحریری جواب میں وزیراعلیٰ سدارامیا نے بتایاکہ ریاستی حکومت کی مختلف اسکیموں کی تشہیر کے لئے سال 2017-18کے دوران 123کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔ سرکاری اخراجات میں یہ ایک نمایاں اضافہ ہے کیونکہ گزشتہ برس اس ضمن میں محض 13کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے، اخراجات میں بے تحاشہ اضافے کااندازہ اس بات سے بھی لگایاجاسکتاہے کہ سال 2013-14کے دوران حکومت نے اپنی اسکیم مانس وانی اوریس سی ؍یس ٹی طبقے کے لئے قرض معافی کی تشہیر پرچار کروڑ روپے صرف کئے تھے جبکہ انہی اسکیم اوردوسری اسکیموں جیسے اندرا کینٹین ،میتری ، انل بھاگیہ ، اورتعلیم اسکیم کی تشہیر کے لئے سال2017-18میں 28کروڑ روپے خرچ کئے گئے، وزیراعلیٰ کی نوکرناٹکا نرماں یاترا کے لئے چار کروڑ روپے، یوم آئین ،سماجی انصاف اورپری نروانا یوم منانے کے لئے تقریباً 7کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔ اتنی زیادہ مقدار میں سرکاری رقم کے استعمال کوبیکار بتانے والے، بھارتیہ جنتاپارٹی کے کارکن کونسل مہنتیش کوجواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے سوال کیا۔وزیراعظم مودی کی ریلیوں پر اوران کے بیرونی دوروں کے دوران غیر ملکوں میں مرکزی حکومت کی اسکیموں کی تشہیر کے لئے خرچ کی جانے والی سرکاری رقم کیابیکارنہیں ہے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

ہمیں اپنی چھٹیوں سے لطف اندوزہونے دیجئے : جسٹس سیکری

کرناٹک میں اقتدار کو لے کر تنازعہ پر سماعت مکمل کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے آج کہا کہ اب ہمیں اپنی چھٹیوں سے لطف اندوز ہونے دیجئے۔ عدالت عظمیٰ میں تین ججوں کے ایک بنچ کی صدارت کر رہے جسٹس اے کے سیکری نے جب عجیب انداز میں یہ تبصرہ کیا اس وقت عدالتی کمرہ قہقہوں سے گونج اٹھا۔

کرناٹک سیاسی بحران: یہ آئین اور دستور کی جیت ہے :ملی کونسل

کرناٹک میں جاری سیاسی ہنگامہ آرائی پر آج پہلی مرتبہ ملک کی معروف تنظیم آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے اپنے ردعمل کا اظہا رکرتے ہوئے کہاکہ مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی حکومت نے وہاں دستور کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کی تھی

کرناٹک کے عوام نے تینوں پارٹیوں کو خوش کردیا

تمام ہنگامی حالات کا سامنا کرنے کے بعد کرناٹک کی سیاست ایک اطمینان بخش مرحلہ تک پہنچ گئی ہے ۔ ایڈی یورپا نے استعفیٰ دے دیا ، جے ڈی ایس اور کانگریس کی مخلوط حکومت کا بننا تقریباًطے ہے۔

بی جے پی کی حکومت گرنے کے بعد اب کمارا سوامی ہوں گے نئے وزیراعلیٰ، چہارشنبہ کو لیں گے حلف

بی جے پی رہنما بی ایس ایڈی یورپا کے استعفیٰ کے ساتھ ہی جے ڈی ایس کے ریاستی سربراہ ایچ ڈی کمارسوامی کی قیادت میں کرناٹک میں تین دن پرانی بی ایس ایڈی یورپا حکومت بلاخر آج ختم ہوگئی جب چیف منسٹر ایڈی یورپا نے اعلان کیا کہ وہ ایوان میں اکثریت کے امتحان میں سامنا نہیں کرگے بلکہ اس سے ...

ہندوستانی سیاست کے لئے تاریخی دن: سدارمیا، چندرابابو نائیڈو، ممتابنرجی اوردیگر لیڈروں نے جمہوریت کی جیت قرار دیا

کرناٹک اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے سے پہلے بی جے پی لیڈر یدی یورپا نے وزیراعلیٰ عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ یدی یورپا کے استعفیٰ پر تمام لیڈروں نے ردعمل ظاہر کیا۔