ملک بھر میں احتجاج کے باوجود پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر ہوا اضافہ؛ چینائی میں پٹرول کا دام 84 پر پہنچا

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 11th September 2018, 1:12 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی 11/ستمبر (ایس او نیوز) بھارت بند اور حکومت پر چو طرفہ   دباؤ کے باوجود پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے۔ پیر کو  تیل پھر مہنگا ہوگیا ہے. پیٹرول میں  14 پیسے مہنگا ہوکر پٹرول کی قیمت 80.87 روپیہ فی لیٹر بن گئی جبکہ ڈیزل کی قیمتوں میں بھی اُتنا ہی اضافہ ریکارڈ ہوا۔  دارالحکومت نئی دہلی میں  ڈیزل  اب  72.97 روپے فی لیٹرہوگئی  ہے.

ملک کے مالیاتی دارالحکومت ممبئی میں، پیٹرول 14 پیسے مہنگا ہونے کی وجہ سے قیمت 88.26 روپے فی لٹر  ہوگئی  تو  ڈیزل میں 15 پیسے کے  اضافہ کے بعد 77.47 روپیہ  فی لیٹر میں فروخت کی جارہی ہے۔

چینائی میں 14 اور 15 پیسے کے اضافے کے ساتھ پٹرول  کی قیمت 84.05 فی  لیٹر  اور ڈیزل کی قیمت 77.13 روپے فی  لیٹر ہوگئی۔  کولکتہ میں، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں 83.75 اور 75.82 روپئے  فی لیٹر ہوگئی ہے۔

خیال رہے کہ منموہن سنگھ کی سرکار میں بی جے پی نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کو لے کر ملک بھر میں احتجاج کیا تھا اور عوام کی حمایت حاصل کرتے ہوئے کانگریس کو اقتدار سے اُکھاڑ پھنک کر  انتخابات میں جیت درج کی تھی، مگر  اب ملک میں تیل کی بھاری بڑھتی قیمتوں کے خلاف  جب کانگریس نے بھارت بند منایا تو   بوکھلائی  بی جے پی  یہ کہہ کر اپنا پلہ جھاڑنے کی کوشش کررہی ہے کہ تیل کی قیمتوں میں ہورہے اضافے کے لئے اُن کی حکومت ذمہ دار نہیں ہے۔ عوام تعجب کا اظہار کررہے ہیں کہ  ملک بھر میں کئے گئے احتجاج کے باوجود حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے اور پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ رُکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

الیکشن کمیشن کا حلف نامہ - گجرات میں راجیہ سبھا انتخابات قانون کے مطابق، کمزور پڑ رہی کانگریس 

گجرات میں راجیہ سبھا انتخابات کو لے کر کانگریس کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے حلف نامہ داخل کیا ہے الیکشن کمیشن نے دو سیٹوں پر الگ الگ انتخابات کرانے کے اپنے فیصلے کو برقرار رکھا۔

بی ایس این ایل کی حالت خراب؛ ملازمین کو جون کی تنخواہ دینے کے لیے نہیں ہیں رقم

رکاری ٹیلی کام کمپنی بی ایس این ایل نے حکومت کو ایک خط  بھیجا ہے، جس میں کمپنی نے آپریشنز جاری رکھنے میں تقریبا نااہلی ظاہر کی ہے۔کمپنی نے کہا ہے کہ رقم میں  کمی کے سبب کمپنی کے ملازمین کو  جون ماہ کی تنخواہ  تقریبا 850 کروڑ روپے  دے پانا مشکل ہے۔کمپنی پر ابھی قریب 13 ہزار کروڑ ...