سرکاری اسپتالوں میں بیانڈیج اور کپاس کی قلت سے مریض پریشان

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th September 2017, 12:12 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو، 12؍ستمبر (ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) رواں سال وزیر اعلیٰ سدرامیا نے ریاست کے مختلف منصوبوں اور فلاحی اسکیموں کیلئے 1.8لاکھ کروڑ روپیوں کا بجٹ پیش کیا۔ اس بجٹ میں محکمۂ صحت کیلئے بھی وافر فندز مہیا کروائے گئے ، لیکن سرکاری اسپتالوں میں صورتحال اس قدر خراب ہوچکی ہے کہ مریضوں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کیلئے بیانڈیج خریدنے کی رقم بھی اسپتالوں کے پاس نہیں ہے۔ خاص طور پر زخمیوں سے استپالوں کا عملہ واضح طور پر کہہ رہا ہے کہ مرہم پٹی کیلئے بیانڈیج خود لائیں۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دواؤں کی سربراہی میں شامل دلالوں اور کچھ افسران کی ملی بھگت کی وجہ سے یہ فرضی قلت پیدا کی گئی ہے، جبکہ اس معاملہ پر وزیر صحت رمیش کمار کی خاموشی کو معنی خیز مانا جارہا ہے۔ اس محکمہ کی پرنسپل سکریٹری شالنی رجنیش جن کے تعلق سے کہاجاتاہے کہ یہ ایک سخت آفیسر ہیں وہ بھی اس معاملے میں خاموش ہیں۔ ریاست بھر کے تقریباً 50 سرکاری اسپتالوں اور ایک ہزار سے زائد پرائمری ہیلتھ سنٹروں میں مرہم پٹی کیلئے بیانڈیج بالکل دستیاب نہیں ہے۔ اسپتالوں کو اشیائے ضروریہ کی فراہمی کیلئے ہر سال محکمہ کی طرف سے ٹنڈر کیا جاتاہے ، رواں سال بھی نومبر کے دوران ٹنڈر نوٹی فکیشن جاری کیاگیا۔ سرکاری اسپتالوں کو بیانڈیج اور کپاس کی فراہمی کیلئے 21کروڑ روپیوں کا ٹنڈر طے ہوا۔ ٹنڈر کیلئے حکومت نے یہ شرط رکھی تھی کہ جس کے حق میں بھی بولی جائے گی اسے مجموعی ٹنڈر کی دس فیصد رقم بطور ضمانت جمع کرانی ہوگی۔اس کے تین دن بعد ٹنڈر حاصل کرنے والے کو ورک آرڈر دیا جائے گا اور اس کے 21دن کے بعد اشیاء کی فراہمی شروع ہوجائے گی، لیکن ٹنڈر حاصل کرنے والے کنٹراکٹروں کے مطابق افسران نے اب تک انہیں بیانڈیج اور کپاس کی فراہمی کیلئے ورک آرڈر جاری نہیں کیا، اس کی وجہ سے بنگلور کی کے سی جنرل ، وکٹوریہ نیز ریاست کے سبھی ضلع اور تعلقہ اسپتالوں اور 2000 سے زائد پرائمری ہیلتھ سنٹروں میں پچھلے چھ ماہ سے بیانڈیج اور کپاس کی شدید قلت ہے۔ یہاں مریضوں اور زخمیوں سے کپاس باہر سے منگوایا جاتاہے۔ کنٹراکٹروں کا کہنا ہے کہ پیشگی طور پر ڈپازٹ جمع کرنے کے باوجود بھی انہیں فراہمی کیلئے آرڈر نہیں دیا گیا۔ محکمۂ صحت کے بعض دیانتدار افسران کا کہناہے کہ ریاست میں سرگرم ڈرگ مافیا جو دواؤں کی تجارت پر مکمل طور پر قابض ہے ، اسی کی ایما پر اسپتالوں اور پرائمری ہیلتھ سنٹروں میں بیانڈیج اور کپاس کی فرضی قلت پیدا کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی بحیثیت وزیر صحت یوٹی قادر نے جب اس مافیا سے ٹکرانے کی کوشش کی تھی تو ان کا قلمدان تبدیل ہوگیا اور انہیں محکمۂ صحت سے ہٹاکر شہری رسد کا وزیر بنادیا گیاتھا۔ غالباً اسی خوف سے رمیش کمار بھی اس مافیا سے کھل کر مقابلہ کرنے کے موقف میں نہیں ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ اس مافیا میں شامل عناصر صوبائی یا قومی نہیں بلکہ بین الاقوامی روابط رکھتے ہیں اور افسران کو وہ اپنی پسند کے مطابق عہدوں پر متعین کرواتے رہتے ہیں۔ اسی لئے اس مافیا سے ٹکرانے کی جرأت بعض اعلیٰ افسران بھی کر نہیں پارہے ہیں۔ اسپتالوں کو دواؤں کی سربراہی میں مصروف بعض دلالوں پر مشتمل یہ مافیا دواؤں کی فراہمی اور اسپتالوں کیلئے اشیائے ضروریہ کی فراہمی کے معاملہ میں عرصۂ دراز سے بھاری ہیرا پھیریوں کامرتکب رہاہے، لیکن اس سے نمٹنے کیلئے جس نے بھی قدم اٹھانے کی پہل کی اس کا تبادلہ ہوا ، یا قلمدان بدل گیا یا پھر زیادہ جرأت دکھانے کی کوشش کی تو اسے گھر بٹھادیا گیا۔

ایک نظر اس پر بھی

کرناٹک میں عازمین حج سے ضرورت سے زائد رقم کی جارہی ہے وصول ، نئے وزیرحج ضمیراحمد خان کا الزام

کرناٹک کے نئے وزیرحج ضمیراحمد خان نے الزام عائد کیا ہے کہ سفرحج کےنام پر عازمین حج کو لوٹا جارہاہے۔ بنگلورو میں ضمیراحمد خان نے کہاکہ مرکزی حج کمیٹی عازمین حج سے کیوں زائد رقم وصول کررہی ہے؟ ضمیر احمد خان نے اس پورے معاملے میں اشاروں ہی اشاروں میں  ہیراپھیری کا بھی الزام ...

جنرک میڈیکل اسٹورس میں دوائیوں کی مانگ پوری کی جائیگی منظم نیٹ ورک کے ذریعہ دوائیاں تقسیم کرنے کیلئے نیا سافٹ ویر تیار ہوگا : اننت کمار

مرکزی حکومت کی طرف سے قائم کردہ جنرک میڈیکل اسٹورس میں دوائیوں کی مانگ میں جو دن بہ دن اضافہ ہورہاہے اس کے متعلق مرکزی حکومت کو حال ہی میں اطلاع ملی ہے ۔ مزید ایک ماہ میں یہ مسئلہ حل کرلیا جائے گا۔

حج بھون کے معاملے کو لے کر بی جے پی کی سیاسی رنگ دینے کی کوشش؛ ضمیر احمد نے شوبھا کرندلاجے سے کہا؛ اپنے مفاد کے لئے گندی سیاست اور عوام کو گمراہ نہ کریں

ریاستی وزیر برائے اقلیتی امور،اوقاف وحج وغذا شہری رسد بی زیڈ ضمیر احمد خان نے کہا کہ حج گھر کو حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ کے نام سے منسوب کرنے کو لے کر فرقہ پرست جماعت گندی سیاست نہ کرے۔

بنگلورو میں سڑک پر ملے یتیم بچے کو دودھ پلانے والی کانسٹیبل کی عزت افزائی

کوڑا کرکٹ کے ذخیرہ سے قریب ملے یتیم بچے کی جان بچانے کے لئے اپنا دودھ پلاکر انسانیت کی مثال قائم کرنے والی الیکٹرانک سٹی پولیس تھانے کی خاتون کانسٹیبل ارچناکو مےئر سمپت راج نے آج اپنے دفتر میں اس اقدام کو سراہتے ہوئے تہنیت پیش کی۔ مےئر سمپت راج نے اپنے دفترمیں ارچنا کو ایک ...

کے پی سی سی صدارت حاصل کرنے ایچ کے پاٹل اور دنیش گنڈوراؤ کے درمیان رسہ کشی منی اپا بھی دعویدار۔ پاٹل دوڑمیں آگے،کئی سینئر لیڈروں کی تائید حاصل

کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی( کے پی سی سی) کے صدر کا عہدہ حاصل کرنے کے لئے ریاستی لیڈروں کے درمیان رسہ کشی جاری ہے۔ ایک دن ایک لیڈر کے نام کا اعلان ہوتا ہے تو دوسرے دن کسی دوسرے لیڈر کا نام لیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر جی پرمیشور بنگلور کو ’’جنگی پیمانہ‘‘ پر بچانا چاہتے ہیں

شہری مسائل جو ہمارے شہر گلستاں بنگلور کو سالوں سے پریشان کئے ہوئے ہیں وہ اب بہت جلد ماضی کا باب بننے والے ہیں ، اس لئے کہ ریاستی حکومت نے کہا ہے کہ وہ اس تیز رفتاری کے ساتھ بڑھتے ہوئے شہر کو پلاسٹک سے پاک کر دے گی اور شہر کے تالابوں کو آلودگی سے محفوظ رکھنے کے لئے جنگی پیمانہ پر ...